Book Name:Aaina e Qayamat

    اس دل دکھانے والے معرکے میں امتحان سبھی کا منظور تھا، مگرحسینِ مظلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اصلی اوراَوروں کا طفیلی، اگرایسا نہ ہوتا توممکن تھا کہ دشمنوں کے ہاتھ سے جوصرف امام رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی کے دشمن امام ہی کے خون کے پیاسے تھے، پہلے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کرادیا جاتا۔ اللہ اکبر !اس وقت کس قیامت کا دردناک منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔امام مظلومِ رضی اللہ تعالٰی عنہاپنے گھر والوں سے رخصت ہورہے ہیں،بیکسی کی حالت ،تنہائی کی کیفیت،تین دن کے پیاسے،مقدس جگر پر سینکڑوں تیر کھائے،ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پرجانے کاسامان فرما رہے ہیں،اہل بیت رضی اللہ تعالٰی عنہمکی صغیر سن صاحبزادیاں،دنیا میں جن کی ناز برداری کا آخری فیصلہ ان کی شہادت کے ساتھ ہونے والا ہے ،بے چین ہوہو کر رورہی ہیں بے کس سیدانیاں، یہاں جن کے عیش،جن کے آرام کا خاتمہ ان کی رخصت کے ساتھ خیربادکہنے والا ہے ،سخت بے چینی کے ساتھ اشکبارہیں۔ اوربعض وہ مقدس صورتیں جن کو بے کسی کی بولتی ہوئی تصویر کہنا ہر طریقے سے درست ہوسکتاہے جن کا سہاگ خاک میں ملنے والا اور جن کا ہر آسراان کے مقدس دم کے ساتھ ٹوٹنے والا ہے ر وتے روتے بے حال ہو گئی ہیں ان کے اُڑے ہوئے رنگ والے چہرے پر سکوت اور خاموشی کے ساتھ مسلسل اورلگاتار آنسوؤں کی روانی صورتِ حال دکھا دکھا کر عرض کر رہی ہے:     ؎

می([1]) روی و گریہ می آید مرا

ساعتے بنشیں کہ باراں بگزرد

          اس وقت حضرت امام زین العابدین (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کے دل سے کوئی پوچھے کہ حضور کے ناتواں دل نے آج کیسے کیسے صدمے اٹھائے اوراب کیسی مصیبت جھیلنے کے سامان ہو رہے ہیں۔ بیماری،پردیس ،بچپن کے ساتھیوں کی جدائی، ساتھ کھیلے ہوؤں کا فراق،پیارے بھائیوں کے داغ نے دل کاکیا حال کر رکھا ہے؟اب ضدیں پوری کرنے والے اور ناز اٹھانے والے مہربان باپ کاسایہ بھی سرِمبارک سے اٹھنے والا ہے اس پرطرّہ یہ کہ ان مصیبتوں ،ان ناقابلِ برداشت تکلیفوں میں کوئی بات پوچھنے والابھی نہیں۔    

درد دل اٹھ اٹھ کے کس کا راستہ تکتا ہے تو

پوچھنے والا مریض بے کسی کا کون ہے

       اب امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) بچوں کو کلیجے سے لگا کر، عورتوں کو صبر کی تلقین فرما کر آخری دیدار دکھا کر تشریف لے چلے ہیں۔

از([2]) پیش من آں رشک چمن میگزرد

چوں روح روانیکہ زتن میگزرد

حال عجبے روزِ وداعش دارم

من از سرو جاں از من میگزرد

          ہائے ! اس وقت کوئی اتنا بھی نہیں کہ رکاب تھام کرسوارکرائے یا میدان تک ساتھ جائے۔ہاں !کچھ بے کس بچوں کی دردناک آوازیں اور بے بس عورتوں کی مایوسی بھری نگاہیں ہیں ،جو ہر قدم پر امام کے ساتھ ساتھ ہیں ،امام مظلوم کاجوقدم آگے پڑتا ہے، ’’یتیمی ‘‘بچوں اور’’بے کسی‘‘عورتوں سے قریب ہوتی جاتی ہے۔ امام کے متعلقین ، امام کی بہنیں جنہیں ابھی صبر کی تلقین فرمائی گئی تھی،اپنے زخمی کلیجوں پر صبر کی بھاری سل رکھے ہوئے سکوت کے عالم میں بیٹھی ہیں ،مگر ان کے آنسوؤں کا غیر منقطع سلسلہ، ان کے بے کسی چھائے ہوئے چہروں کا اڑاہوارنگ ،جگرگوشوں کی شہادت ، امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی رخصت، اپنی بے بسی ،گھر بھر کی تباہی پر زبانِ حال سے کہہ رہا ہے ۔     

مجھ کو جنگل میں اکیلا چھوڑ کر

 



[1]    تیرے رخصت ہونے پر مجھے رونا  آ تا ہے تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاؤ تاکہ مجھے قرار آجائے اور میرے آنسو تھم جائیں۔

[2]    وہ رشک چمن محبوب میری نظروں سے یوں اوجھل ہوتا ہے جیسے روح جسم سے جداہوتی ہے۔ اس کے بچھڑنے پر میرا عجیب حال ہے گویا میں سر سے اور جان مجھ سے جدا ہو رہے ہیں۔



Total Pages: 42

Go To