Book Name:Aaina e Qayamat

قریب پہنچ گئے اور تشنہ کاموں پرتیروں کامینہ برسانا شروع کردیا،یہ حالت دیکھ کر حضرت حنفی  ([1])نے امام کو اپنی پیٹھ کے پیچھے لے لیا اوراپنے چہرے اور سینے کو امام کی سپر بنا کر کھڑے ہوگئے۔ دشمن کی طرف سے تیر پرتیر آرہے ہیں اور یہ کامل اطمینان اور پوری خوشی کے ساتھ زخم پرزخم کھارہے ہیں۔اس وقت اس شرابِ محبت کے متوالے نے اپنے معشوق ،اپنے دلربا حسین کو پیٹھ کے پیچھے لے کر جنگِ احد کا سماں یاد دلا یا ہے ،وہاں بھی ایک عاشق جانباز مسلمانوں کی لڑائی بگڑ جانے پر سید المحبوبین صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے دشمنوں کے حملوں کی سپر بن کر آکھڑا ہواتھا، یہ حضرت سعد بن ابی وقاص  تھے رضی اللہ تعالٰی عنہ  ، حضورپُرنورصلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم انہیں کے پیچھے قیام فرماتھے اوردشمنوں کے دفع کرنے کو ترکش سے تیر عطا فرماتے جاتے اور ہرتیر پرارشاد ہوتا  ’’ اِرْمِ سَعْد بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ ‘‘ تیر ماراے سعد! تجھ پر میرے ماں باپ قربان ۔اللہ کی شان، جنگِ احد میں حضرت سعد (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی جاں نثاری کی وہ کیفیت کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کی سپربن گئے اور دشمنوں کوقریب نہ آنے دیا اورواقعہ کربلا میں ابن سعد کی زیاں کاری کی یہ حالت کہ دشمنوں کو رسول اللہصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیٹے کے مقابلہ پر لایا ہے۔ بزرگوار باپ کے تیر اسلام کے دشمنوں پر چل رہے تھے، ناہنجار بیٹے کے تیر مسلمانوں کے سردار پر چھوٹ رہے ہیں۔ 

ببیں([2])تفاوت رہ ازکجاست تابکجا

          غرض حضرت حنفی نے امام (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کے سامنے یہاں تک تیر کھائے کہ شہید ہو کرگرپڑے رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ،حضرت زہیربن قین(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) نے اس طوفان بے تمیزی کے روکنے میں جان توڑ کوشش کی اور سخت لڑائی لڑکر شہید ہوگئے ۔حضرت نافع بن ہلال (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) نے تیروں پر اپنا نام کندہ کراکر زہرمیں بجھایا تھا ۔ان سے بارہ شقی قتل کئے اوربے شمارزخمی کرڈالے ۔دشمن ان پر بھی ہجوم کر آئے،دونوں بازوؤں کے ٹوٹ جانے کے سبب سے مجبورہو کر گرفتارہوگئے ۔شمر خبیث انہیں ابن سعدکے پاس لے گیا۔ ہلال کے چاندکاچہرہ خون سے بھرا تھا اور وہ بپھراہواشیرکہہ رہا تھا :’’میں نے تم میں کے۱۲ گرائے اوربے گنتی گھائل کئے ،اگرمیرے ہاتھ نہ ٹوٹتے تو میں گرفتار نہ ہوتا۔‘‘ شمر نے ان کے قتل پر تلوار کھینچی، فرمایا: ’’تومسلمان ہوتا ،توخداکی قسم! ہماراخون کرکے خدا سے ملنا پسندنہ کرتا،اس خداکے لئے تعریف ہے جس نے ہماری موت بدترانِ خلق کے ہاتھ پر رکھی۔‘‘شمر نے شہید کردیا۔پھر باقی مسلمانوں پر حملہ آورہوا امام کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اب ان میں امام کی حفاظت کرنے کی طاقت نہ رہی ،شہید ہونے میں جلدی کرنے لگے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ ہمارے جیتے جی امام عرش مقام کو کوئی صدمہ پہنچے ۔ حضرت عبداللہ وعبد الرحمن پسرانِ عروہ غفاری اجازت لے کر بڑھے اورلڑائی میں مشغول ہو کر شہید ہو گئے ۔

          سیف بن حارث اور مالک بن عبد(رضی اللہ تعالٰی عنہما)  کہ دونوں ایک ماں کے بیٹے اور باپ کی طرف سے چچا زاد تھے ،حاضرِ خدمت ہو کر رونے لگے۔امام نے فرمایا: ’’کیوں روتے ہو؟کچھ ہی دیر باقی ہے کہ اللہ تعالٰی تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔‘‘ عرض کی:’’ واللہ! ہم اپنے لئے نہیں روتے بلکہ حضور کے واسطے روتے ہیں کہ اب ہم میں حضورکی محافظت کی طاقت نہ رہی ۔‘‘ فرمایا:’’ اللہ تم کو جزائے خیر دے ۔‘‘ بالآخر یہ دونوں بھی رخصت ہو کر بڑھے اور شہید ہوگئے۔

          حنظلہ بن اسعد(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) نے امام کے سامنے قرآن مجید کی کچھ آیاتیں پڑھیں اور کوفیوں کو عذابِ الہی سے ڈرایا مگروہاں ایسی کون سنتا تھا ،یہ بھی سلام کر کے گئے اور دادِ شجاعت دے کرشہید ہوگئے ۔شوذب بن شاکر(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) رخصت پاکر بڑھے اور شہادت پا کر دار السلام پہنچے ۔حضرت عابس (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) اجازت لے کر چلے اور مبارِزمانگا ان کی مشہور بہادری کے خوف سے کوئی سامنے نہ آیا۔ ابن سعدنے کہا:’’انہیں پتھروں سے مارو ۔‘‘چاروں طرف سے پتھروں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ جب انہوں نے ان نامردوں کی یہ حرکت دیکھی، طیش میں بھر کر زرہ اتار، خود پھینک، حملہ آور ہوئے ،دم کے دم میں سب کو بھگادیا۔ دشمن پھر حواس جمع کر کے آئے اور انہیں بھی شہید کیا ۔

 



[1]    سعید بن عبداللہ حنفی

[2]    دیکھ! رستوں کا فرق کہاں سے کہاں تک ہے۔

 



Total Pages: 42

Go To