Book Name:Aaina e Qayamat

فضا ہر زخم کے دامن سے وابستہ ہے جنت کی

گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں امت کی

کوئی تقدیر تو دیکھے اسیرانِ مصیبت کی

شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیوں کر ہو

ہوائیں آتی ہیں ان کھڑکیوں سے باغ ِجنت کی

کرم والوں نے در کھولا تو رحمت کا سماں باندھا

کمر باندھی تو قسمت کھول دی فضل ِشہادت کی

علی کے پیارے خاتون ِقیامت کے جگر پارے

زمیں سے آسماں تک دھوم ہے ان کی سیادت کی

زمینِ کر بلا پر آ ج مجمع ہے حسینوں کا

جمی ہے انجمن روشن ہیں شمعیں نورو طلعت کی

یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونک دیں اپنے فدائی کو

یہ وہ شمعیں نہیں رو کر جو کاٹیں رات آفت کی

یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جان تازہ پائیں پروانے

یہ وہ شمعیں ہیں جو ہنس کر گزاریں شب مصیبت کی

یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اک گھر منور ہو

یہ وہ شمعیں ہیں جن سے روح ہو کافور ظلمت کی

دلِ حورو ملائک رہ گیا حیرت زدہ ہو کر

کہ بزمِ گلرخاں میں لے بلائیں کس کی صورت کی

جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں

ہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی

اسی منظر پہ ہرجانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں

اسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی

ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اشکِ یتیماں سے

بجائے فرش آنکھیں بچھ گئیں اہلِ بصیرت کی

ہوائے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے

سبیلیں رکھی ہیں دیدارنے خود اپنے شربت کی

ادھر افلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے

ادھر ساغر لئے حوریں چلی آتی ہیں جنت کی

سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے

بہارِ خوشنمائی پر ہے صدقے روح جنت کی

ہوائیں گلشنِ فردوس سے بس بس کر آتی ہیں

 



Total Pages: 42

Go To