Book Name:Namaz-e-Jumma Na Milay To Kon Si Namaz Parheen

قضا پھٹک نہ سکے پاس، دے بہار اىسى

رہے حىات کا گلشن ہرا بھرا ىا رَبّ

جواب:قضا موت اور تقدىر کو بولتے ہىں ۔ شعر میں قضا کا لفظ سُن کر میں چونکا کہ ىہ کىسے ہو سکتا ہے  کہ موت قریب نہ آئے ۔ دَراصل شعر میں قضا کا لفظ نہىں بلکہ خزاں کا لفظ ہے ۔  

خزاں پھٹک نہ سکے پاس، دے بہار اىسى

                      رہے حىات کا گلشن ہرا بھرا ىا رَبّ (وسائلِ بخشش)

خزاں ىہ بہار کا اُلٹ ہے ، اس موسم میں پتے جھڑتے اور باغ وىران اور بے رونق ہو جاتے ہیں ۔ اب اس مصرعے ”خزاں پھٹک نہ سکے پاس دے بہار اىسى“ کا مطلب یہ ہو گا کہ یَااللہ!اىسى بہار مجھے دے ، اىسا مجھے سَدا بہار کر دے کہ مىرے قرىب بھى خزاں نہ آئے جو مجھے وىران کر دے ۔ ”رہے حىات کا گلشن ہرا بھرا ىا رَبّ“ىعنى مىرى زندگى کا باغ سَدا بہار ہو جائے ، نىکىوں، عبادتوں اور خوشىوں سے ہر وقت ہرا بھرا رہے ۔ باطل خوشىاں بھى ہوتى ہىں جیساکہ آدمى حرام کام کر کے بھى خوشىاں حاصل کرتا ہے تو اىسى خوشىوں پر تُھو ہے ۔ ہمىں وہ خوشىاں چاہىیں جو ہمارے اِىمان کى جِلا  کا باعث بنیں، ہمارى آخرت کى بہترى کا سبب بنیں جىسا کہ  حدیثِ پاک میں ہے کہ اِفطار کے وقت روزہ دار کے لىے دو خوشىاں ہىں: اىک تو اِفطار کرنے کی خوشى اور دوسری خوشی اس وقت ہو گی جب  قىامت کے دِن ىا جنَّت مىں اللہپاک کا دىدار ہو گا ۔ ([1]) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ! ہمىں ىہ خوشىاں چاہىیں، ہمىں مدىنے کى حاضرى کى خوشى چاہىے ، مَغْفِرَت کى خوشى چاہىے ، جہنم  سے آزادى کى خوشى چاہىے ، ماں باپ کے راضى ہونے کى خوشى چاہىے ۔ اللہ کرىم عشرۂ مَغْفِرَت کے صَدقے سارى خوشىاں ہمىں عطا کر دے ۔ کاش!ہم پر یہ کَرم ہوجائے ورنہ تو ہم اِعتراف کرتے ہىں کہ ماہِ رَمَضان میں نیک عمل کچھ بھی نہىں کىا ۔ اللہ پاک کرىم ہے ، بس وہ  اپنے کرم سے ہم سب کى  مَغْفِرَت فرما دے اور  ہمارے حال پر رحم فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

لے پالک کاپالنے والی کے بھائیوں سے پَردہ

سُوال: مىرے بچوں کى امى کو ان کے ماموں نے پالنے کے لىے  لىا تھا ۔ ماموں کى کوئى اَولاد نہىں ہے اور وہ میرے بچوں کی امی کے رضاعى ماں باپ بھى نہىں ہىں،  کىا ماموں ممانی کے حقوق سگِے ماں باپ کی طرح  ہوں گے ؟ نیز ممانی کے شادى شدہ بھائیوں سے پَردے کا کیا  حکم ہو گا؟

جواب:اگر ماموں نے پالا ہے تو وہ  سگے ماں باپ کى جگہ پر نہىں آئىں گے ۔ ممانى جبکہ رضاعی ماں نہیں ہے تو اس کے بھائىوں سے پَردہ ضروری ہے اگرچہ بھانجى لے پالک ہو یا نہ ہو ۔ یوں ہی اگر  ماموں کى اولاد ہوتی تو اس لے پالک بھانجی کا ان سے بھی پَردہ ہوتا ۔

اِسْتِغْفَار کے کیامعنیٰ  ہیں؟

سُوال:اِسْتِغْفار کے کیا معنىٰ ہىں ؟

جواب: اِسْتِغْفار کے اىک معنىٰ توبہ کرنا ، مَغْفِرَت چاہنا ہیں ۔  

دَوائیوں  مىں ریگ ماہی اور  بیر بہٹى اِستعمال کرنے کا شرعی حکم

سُوال:ہم حکیموں کی دَوائیوں  مىں ”ریگ ماہی “نامی مچھلی اور ”بیر بہٹى “نامی کیڑا اِستعمال ہوتا  ہے تو ان کے بارے میں ہماری راہ نمائی فرما دیجیے کہ یہ حلال ہیں یا حرام ؟(ایک حکیم صاحب  کا سُوال )

جواب:رىگ ماہى یعنی رىگستان کى مچھلى ىہ اىک جانور ہے جو چھپکلى سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے اور جہاں دیسی دَوائیاں ملتی ہیں وہاں اسے جار(مٹی یا شیشے کے مَرتبان) میں سُوکھا کر رکھا جاتا ہے اور دکاندار اسے وزن کے لحاظ سے بیچتے  ہىں یہ حرام ہے ۔ ([2]) اِسی طرح   بىر بہٹى جىسا کہ سُوال میں  بتاىا گیا کہ یہ ایک کىڑا ہے تو ىہ بھی  حرام ہے  اور ان  کے علاوہ بھى حکمت کی دَواؤں میں کچھ اىسى چىزىں ڈالى جاتی ہیں جو کہ حرام ہوتی ہیں ۔ مشکل ىہ ہے کہ حکىموں کى دَوائىں پاک سمجھى جاتى ہىں حالانکہ حکىموں کى دَوائیں بنانے  والے حرام چیزیں اِستعمال کرتے ہىں ۔ کسی خوفِ خُدا رکھنے والے  حکیم نے یہ سُوال کیا ہے تو حکمت کی دَوا کسی خوفِ خُدا والے حکیم سے لی جائے یا جب کبھی بازار سے بھی حکمت کی دَوا لیں تو پہلے کسى خوفِ خُدا والے حکىم سے مشور ہ  کر لیں  کہ اس دَوا مىں کوئى حرام چىز تو نہىں ہے ؟یاد رَکھیے !حکمت کى دَواؤں  مىں حرام چىزىں شامل  ہوتى ہىں مگر ہر دَوا مىں حرام چیزیں شامل ہوتى ہوں یہ ضَرورى نہىں ہے ۔ ممکن ہے آپ کوئی معجون یا چورن لیں اور اس میں کوئی حرام جانور پىس کر ڈالا گیا ہو کیونکہ اُمَّت کی حالت بہت خراب ہے اور  پىسوں کے لىے لوگ  بہت کچھ کر ڈالتے  ہىں ۔ بعض اوقات حرام چیزوں کا Alternate (یعنی نعمُ البدل)ہوتا ہے مگر وہ مہنگا ہوتا ہے اس لىے اُسے دَواؤں میں نہىں ڈالا جاتا مثلاً بعض دَواؤں میں پانی کی بلی کے خصیے اِستعمال ہوتے ہیں حالانکہ ان کاAlternate(یعنی نعم البدل)ایک جڑی بوٹی کی صورت میں موجود ہے مگر وہ جڑی بوٹی بہت مہنگی ہے ، مثال کے طور پر  پانی کی بلی کا خصیہ 10 روپے میں آتا ہے اور جڑی بوٹی 100 روپے میں آتی ہے تو اب 10 روپے کی جگہ 100 روپے کون خرچ کرے گا؟ مجھے ایک حکیم صاحب نے بتاىا تھا کہ پانی کی بلی کے خصیے کی جگہ جو جڑی بوٹی اِستعمال ہوتی  ہے اس کا بھاؤ خصیے کے مقابلے میں 15 گنا زىادہ ہے ۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ جب  آپ کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے اور پتا چلا کہ بلی کے خصیے ڈالنا غَلَط ہے تو میں نے توبہ کر لی اور اب میں خصیے کی جگہ دَواؤں میں مہنگی والی  جڑی بوٹی ڈالتا ہوں ۔ اِسی طرح اور بھى بڑى گندى گندى چىزوں  کے ذَرىعے علاج ہوتے ہىں اور حکمت کی دَواؤں میں کىڑے مکوڑے اور لال بىگ وغیرہ ڈالے جاتے ہیں مگر یہ 



[1]    بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالٰی یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِؕ-، ۴ / ۵۷۲، حدیث۷۴۹۲  دار الکتب العلمیة بیروت

[2]    فتاویٰ رضویہ، ۲۰ / ۳۳۳



Total Pages: 8

Go To