Book Name:Kia Ab Sharafat Ka Zamana Nahi Raha

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط

کیا اب شَرافت کا زمانہ نہیں رہا؟ ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۲۴صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھو بےشک تمہارا مجھ پر دُرُود پڑھنا تمہارے گناہوں کے لىے مَغْفِرَت ہے۔ ([2])     

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                                صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

کیا اب شَرافت کا زمانہ نہیں رہا؟

سُوال : بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب شَرافت کا زمانہ نہیں رہا ، اِسی لیے “ ہم شرىفوں کے ساتھ شرىف اور بَدمعاشوں کے ساتھ بَدمعاش ہىں “ کیا ان کا یہ کہنا دُرُست ہے؟([3])

جواب : لوگوں کا  اِس طرح کہنا دُرُست نہیں کہ “ ہم شرىفوں کے ساتھ شرىف اور بَدمعاشوں کے ساتھ بَدمعاش ہىں ، یہاں لوگ کمزوروں کو دبا دىتے ہىں ، جناب اب شَرافت کا زمانہ چلا گىا وغیرہ وغیرہ۔ “ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  آج بھی  شُرَفا دُنىا مىں جى رہے ہىں۔ شَرافت  کا زمانہ کل بھى تھا ، آج بھى ہے اور آئندہ بھی رہے گا اور  شرىفوں کے  صَدقے میں ہی دُنىا چل رہى ہے ورنہ کب کی ختم ہو جاتی مگر آپ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ شَرافت کا زمانہ چلا گیا۔ کیا سارے دِىندار ، پرہىزگار اور تہجد گزار   لوگ مَعَاذَ اللّٰہ بَدمعاش ہىں ؟ یونہی اَولىا ، اَبدال اور طرح طرح کی ولاىتوں کے تاج سجائے ہوئے  لوگ آج بھى دُنىا مىں موجود ہىں اور ان سے ہی  دُنیا  کا نظام چل رہا ہے  اگرچہ ہم انہىں نہیں  پہچانتے مگر آپ کہتے ہىں شَرافت کا زمانہ ہى نہىں ہے!اللّٰہ کرے دِل مىں اُتر جائے مىرى بات!اگر ہم اچھے بن جائىں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہسب اچھے ہو جائىں گے ۔

کسی ایک کو مذاق  کا ہدف بنا لینا کیسا؟

سُوال : بعض اوقات جب آپس مىں دوست وغىرہ بىٹھے ہوتے ہىں تو ہنسی مذاق کے لیے کسی ایک کو ہدف بنا لیتے ہیں ۔ وہ بھی کھسىانا ہو کر سب کی گفتگو سُن رہا ہوتا ہے  تو یوں کھانے پینے یا کسی بھی مُعاملے کو لے کر کسی  کا مذاق اُڑانا کیسا ہے؟  (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)  

جواب : بعض اوقات دوست ہنسی مذاق کے لیے کسی ایک کو ہدف بنا لیتے ہیں اور وہ بےچارہ بھی جھىنپ مٹانے یعنی  اپنى شرم کو چُھپانے کے لىے  بظاہر ہنس رہا ہوتا ہے لیکن اس کا دِل تو دُکھتا  ہى دُکھتا ہے ، آدمی بھلے آدھا پاگل ہو لیکن اسے سمجھ تو پڑتى ہے کہ مىرا مذاق اُڑ رہا ہے ، جب مذاق اُڑے گا تو اس کا دِل تو دُکھے گا اور مسلمان کا دِل دُکھانا حرام اور جہنم مىں لے جانے والا کام ہے۔ ([4])آج کل دوستوں کى بىٹھکوں مىں خىر و بھلائى نہ ہونے کے برابر ہوتى ہے۔ اپنے میں سے کسى ایک کو ٹارگٹ پر لے لىں گے یا قریب سے گزرتے ہوئے کسی پر آوازىں کسیں گے ىا بىٹھے بىٹھے کسى سیاسی لیڈر ، وزىر ، صدر یا وزىرِ اعظم  پر اِس طرح تنقید کرنا شروع کر دیں گے جیسے بس یہی نظامِ حکومت چلا رہے ہىں ۔ بعض اوقات مَعَاذَ اللّٰہ کسی عالِمِ دِین کے متعلق منفی باتیں شروع کر دیں گے۔ ىہ بڑے محروم لوگ ہوتے ہىں اور آخرت کا بہت بڑا نقصان کر رہے ہوتے ہىں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ جب ہم اىک اُنگلى کسى کى طرف اُٹھاتے ہىں تو تىن اُنگلىاں اپنى طرف آ رہى ہوتى ہىں کہ “ پہلے اپنے آپ  کو دىکھ۔ “ اگر ہم اپنى اِصلاح مىں لگ جائىں تو دوسروں کے عىب نظر نہىں آئىں گے۔ دوسروں کے عىب بیان کرنے سے غىبت کى صورت پىدا ہو رہى ہوتی ہے ۔ اگر وہ بُرائی ان  میں نہیں تو یہ تہمت کے زُمرے میں آئے گا جو کہ غیبت سے بھى خطرناک گناہ ہے۔ کسى پر تنقىد کرنے سے پہلے بندہ غور کر لے کہ ىہ جائز تنقىد ہے ىا ناجائز ؟نیز تنقىد کرنے کا مقصد کیا ہے؟ جائز یا ناجائز تنقید کا فیصلہ اہلِ عِلم ہی کر سکتے ہیں لہٰذا ہمارے لیے اسی میں عافیت ہے کہ “ ىا شىخ اپنی اپنى دىکھ “ کے تحت اپنى اِصلاح کى فِکر کریں اور اپنے عُىُوب پر نظر رکھیں۔ صِرف ان عاشقانِ رَسُول کى صحبت اپنائیں جن کى باتوں سے اللہپاک کا ڈر اور  قىامت کا اِحساس پىدا ہو ، قبر و موت کى ىاد اور آخرت بہتر بنانے والے اَعمال سىکھنے کو ملیں۔ اىسوں کى صحبت سے کوسوں دور بھاگیں جن کی بیٹھک میں  گناہ ہوتے ہیں۔ قرآنِ کرىم مىں بھی اس کا حکم دیا گىا ہے چنانچہاللہپاک کا فرمانِ عالیشان ہے :

 



[1]    یہ رِسالہ ۲۲شَعْبَانُ الْمُعَظَّم ۱۴۴۰ھ بمطابق27اپریل 2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ(کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)       

[2]    تاریخ اِبنِ عَساکر ، ناشب بن عمروابو عمرو الشیبانی ، ۶۱ / ۳۸۱  دار الفکر بیروت

[3]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ) 

[4]     پارہ 26 ، سُوْرَۃُالْحُجُراتکی آیت نمبر 11میں اللہپاک نے اِرشاد فرمایا : ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-) ترجمۂ کنز الایمان : “ اے اِیمان والو نہ مَرد مَردوں سے ہنسیں  عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دُور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں۔ “ رَسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : قیامت کے دِن لوگوں  کا مذاق اُڑانے والے کے سامنے جنَّت کا ایک دَروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ آؤ ، تو وہ بہت ہی بے چینی اور غم میں  ڈوبا ہوا اس دَروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی وہ دَروازے کے پاس پہنچے گا وہ دَروازہ بند ہو جائے گا ، پھر ایک دوسرا جنَّت کا دَروازہ کھلے گا اور اس کو پکارا جائے گا : آؤ یہاں  آؤ ، چنانچہ یہ بےچینی اور رَنج وغم میں  ڈوبا ہوا اس دَروازے کے پاس جائے گا تو وہ دَروازہ بند ہو جائے گا ، اِسی طرح اس کے ساتھ مُعاملہ ہو تا رہے گا یہاں  تک کہ دَروازہ کھلے گا اور پکارپڑے گی تو وہ نااُمیدی کی وجہ سے نہیں  جائے گا۔ (اِس طرح وہ جنَّت میں  داخل ہو نے سے محروم رہے گا)

(موسوعة ابن ابی دنیا ، کتاب  الصّمت وآداب اللّسان ، باب ما نهی عنه العباد ان یسخربعضھم من بعض ، ۷ / ۱۸۳ ، حدیث : ۲۸۷ المکتبة العصرية بيروت)



Total Pages: 9

Go To