Book Name:Kia Qabar Par Phool Dalnay Say Murday Ki Naikiyan Barhti Hain

اِحترامِ مسلم کا جَذبہ بیدار کرنے کا طریقہ

سُوال: اِحترامِ مسلم کا جَذبہ کن طرىقوں سے بىدار کیا جا سکتا  ہے؟

جواب:اِحترامِ مسلم کا جَذبہ بیدار کرنے کے لیے اِحترامِ مسلم سے متعلق معلومات حاصِل کی جائیں مثلاً قرآنِ پاک میں ہے:( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ)(پ۲۶،الحجرات:۱۰) ترجمۂ کنزالایمان:مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔ “جب قرآنِ کرىم نے مسلمانوں کو آپس میں بھائى بھائى قرار دىا تو جس طرح ہم اپنے جسمانى بھائى کا اَدب و اِحترام، خىال اور مان رکھتے ہىں اسی طرح ہمیں اپنے اِىمانى بھائى کے ساتھ بھی پیش آنا چاہیے  ۔ نیزحدیثِ پاک میں ہے :اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ یعنی دِىن خىر خواہى کا نام ہے ۔ ([1])لہٰذا  ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کی بھلائى اور  خىر خواہى چاہىں ۔ یونہی ایک حدیثِ پاک میں ہے :خَیْرُ النَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَ یعنی لوگوں مىں سب سے  بہتر وہ ہے جو لوگوں کو  نفع پہنچائے ۔ ([2]) اگر ہمیں  دِىنى معلومات ہوں گى اور اِحترامِ مسلم کے  فَضائِل معلوم ہوں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ ہمیں اِحترامِ مسلم اور مسلمانوں  کى خىر خواہى کا  جَذبہ ملتا رہے گا ۔ اسی طرح اگر ہم مَدَنی اِنعامات پر عمل، مَدَنی قافلوں میں سفر ، دِینی کتب  کا مُطالعہ  اور عاشقانِ رسول کی صحبت اِختیار کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ  ہمارے اندر خود بخود اِحترامِ مسلم کا جَذبہ پیدا ہوتا جائے گا  ۔ یاد رَکھیے!صحبت اثر رکھتى ہے،اگر  ڈاکوؤں ، دہشت گردوں ، مارا مارى کرنے والوں اور مسلمانوں کا  گلا کاٹنے والوں کى صحبت ہو گى تو اِحترامِ مسلم کا جَذبہ  کہاں سے پىدا ہو گا؟لہٰذا صحبت اچھى ہونى چاہىے مگر  بدقسمتى سے آج کل اچھی صحبتىں بہت کم رہ گئى ہىں ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ نے ”اِحترامِ مسلم“([3])نامی اىک مَدَنی  رسالہ شائع کىا ہے ،   اِس مَدَنی رسالے کا  مُطالعہ کیجیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ اِحترامِ مسلم کا جَذبہ بىدار ہو گا ۔   

کیا عُمرے  پر جانے کے لیے رِشتہ داروں سے ملنا ضَروری ہے ؟

سُوال:اگر عُمرے پر جانا ہو تو کىا اپنے رِشتہ داروں سے ملنا ضَرورى ہے؟

جواب:عُمرے  پر جانے کے لیے اگرچہ اپنے رِشتہ داروں سے ملنا ضَروری نہىں ہے لىکن اگر نہىں ملىں گے تو ہو سکتا ہے کہ انہیں بُرا لگے ، غىبتوں کے دَروازے کھلىں اور وہ اِس طرح کی باتیں بنائیں کہ  بڑا مَغرور ہو گىا ہےاس لیے  ہم سے ملنے تک نہىں آىا لہٰذا  موقع محل کی مناسبت سے مل لىنا اچھا ہے اور  اس سے محبت مىں بھی اِضافہ ہوتا ہے ۔ جب عُمرے  پر جائیں تو خاص طور پر ماں باپ سے اِجازت لیں اور بھائى بہنوں سے بھی مل لیں کہ اِس طرح  کرنے سے اِحترامِ مسلم کا ماحول بنے گا ۔  یونہی عُمرے  پر جانے سے پہلے اپنے دوستوں کو بھى بتائیں  کیونکہ اگر  نہىں بتائىں گے تو جب  بعد مىں انہیں اِطلاع ملے گى تو ہو سکتا ہے ان کا دِل ٹوٹے اور وہ یہ سوچیں  کہ سب کو بتایا اور ہم  سے چھپاىا گیا ہے لیکن پھر بھی ہمیں پتا چل  گىا ہے ۔    ([4])

اللہ پاک کو سِتم کرنے والا کہنا کیسا؟

سُوال:اللہ پاک کو سِتم کرنے والا کہنا کىسا ہے ؟

جواب:اللہ پاک کو سِتم کرنے والا کہنا کُھلا کُفر ہے اور یہ کہنےوالاکافر ہو جائے گا ۔ ([5]) سِتم کے معنیٰ ظلم کے ہیں جبکہ اللہ پاک ظلم نہىں کرتا اور وہ ظلم کرنے سے پاک ہے ۔ ”کفرىہ کلمات کے بارے مىں سُوال جواب “([6])نامی کتاب پڑھىں کہ اس میں اس طرح کے  بہت سے  کفریہ کلمات کی مثالىں دی گئی  ہىں اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ  کونسی ایسی باتیں ہیں کہ جنہیں بولنے کے سبب بندہ اِسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کا  نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔ یاد رَکھیے !کفریہ کلمات کے بارےمیں عِلم حاصِل کرنا فرض ہے ۔ ([7]) آج کل لوگوں کو کفریہ کلمات کے بارے میں عِلم نہىں ہوتا جس کی وجہ سے وہ کفریہ کلمات  بولتے رہتے ہىں اور جو نہیں  بولتے وہ سُن کر ہاں مىں ہاں ملاتے   ہیں ۔  اگر سامنے والا کُھلا کُفر بول رہا ہو تو اس صورت میں اگر سننے والا سمجھ کر ہاں میں ہاں کر ے گا  تو وہ بھی  کافر ہو جائے گا ۔ ([8])   

اَنبیائے کِرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں

سُوال:کىا اَنبىائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ پاک کى سب سے افضل مخلوق ہىں ىہاں تک کہ فرشتوں سے بھى افضل ہىں؟ (مَرکز الاولیا لاہور سے سُوال)

جواب:بے شک اَنبىائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ پاک کى سب سے افضل مخلوق ہىں اور ىہ فرشتوں سے بھى افضل ہىں ۔ ([9])

پیارے آقا  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو حُضور کہنے کی وجہ

 



[1]    مسلم، کتاب الايمان، باب بيان ان الدين النصيحة ، ص۵۱، حدیث : ۱۹۶ 

[2]    شعب الایمان، باب فی التعاون علی البر و التقویٰ، ۶ / ۱۱۷، حدیث : ۷۶۵۸   دار الکتب العلمية بیروت 

[3]    یہ رِسالہ امیرِاہلسنَّت حضرت علّامہ محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا اپنا تحریر کردہ ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 

[4]    رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْن مولانا نقی علی خانرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں : چلتے وقت سب اہلِ اقارِب و احباب سے ملے اور سب سے اپنا قصور مُعاف کرا لے  اور ان پر بعد اس کے اِسْتِعْفَا (معافی مانگنے)کے مُعاف کرنا اور دِل صاف کرلینا لازم ۔ (جواہر البیان، ص۱۴۷ مکتبہ مہریہ رضویہ ضیاء کوٹ سیالکوٹ)

[5]   فتاویٰ امجدیہ، ۴ / ۴۳۲  مکتبہ رضویہ آرام باغ باب المدینہ کراچی

[6]    یہ کتاب امیرِاہلسنَّت حضرت علّامہ محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی اپنی تحریر کردہ ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)   

[7]    ردالمحتار، مطلب فی فرض الکفایة  و فرض العين ، ۱ / ۱۰۷

[8]    کفریہ کلمات کے بارے میں سُوال جواب، ص۷۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[9]    تفسیر خازن ، پ۷، الانعام، تحت الآية : ۶۶، ۲ / ۳۳  دار الكتب العربية الكبریٰ مصر



Total Pages: 7

Go To