Book Name:Islami Shadi

وقت ایک مُنادی یہ اعلان کرے گا : جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذِمّۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ پھر دوسری بار اعلان کرے گا کہ جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذِمّۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ پوچھا جائے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذِمّۂ کرم پر ہے۔ منادی کہے گا : ان کا جو لوگوں (کی خطاؤں ) کو معاف کرنے والے ہیں ۔ پھر تیسری بار منادی اعلان کرے گا : جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذِمّۂ کرم پر ہے وہ  اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلاحساب جنّت میں داخل ہو جائیں گے۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ لوگوں کے ساتھ نرم رَوَیّہ رکھنے ، غصے کے وقت ضَبْط و تحمل رکھنے اور لوگوں کی غلطیوں کو نظر انداز کردینے کے کیسے فضائل ہیں لہٰذا میاں بیوی کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی بُرائیوں اور خامیوں پر ہی نظر نہ رکھیں بلکہ اچھائیوں اور خُوبیوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں ۔ مثلاً : جب بیوی سے کوئی ایسی بات سرزد ہوجائے جو شوہر کے غصے کا سبب بنے تو شوہر اسے مارنے پیٹنے کے بجائے سوچے کہ وہ اپنے ماں باپ ، بھائی بہن ، رشتے دار ، سہیلیوں اور اپنے گھر کو چھوڑ کر صرف میرے لئے یہاں آئی ہے ، وہ میری دن رات خدمت کرتی ہے ، میرے بچّوں کی دیکھ بھال کرتی ہے ، میرے مال کی حفاظت کرتی ہے ، میرے گھر کی صفائی ستھرائی کرتی ہے ، میرے لئے کھانا پکاتی ہے ، میرے کپڑے دھوتی اور استری  کرتی ہے ، بیمار ہونے پر تیمار داری کرتی ہے ، دیگر گھر کے اَفْراد کی بھی کام میں مدد و خیر خواہی کرتی ہے ، لہٰذا مجھے اس سے انتقام نہیں لینا چاہئے بلکہ اسے معاف کردینا چاہئے اور غُصّہ ختم ہونے کے بعد اسے اچھے طریقے سے سمجھانا چاہئے۔ اسی طرح اگر شوہر سے کبھی کوئی ایسی بات سرزد ہوجائے جو بیوی کو غصے میں مبُتلا کرنے کا سبب بنے تو بیوی کو چاہئے کہ وہ شوہر کے ساتھ بدزبانی  اور لڑائی جھگڑا کرنے کے بجائے خاموش رہے اور سوچے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ پر حاکم بنایا ہے ، یہ میرا محافظ ہے ، اس کے ہوتے کوئی میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا ، یہ غموں کی دھوپ میں میرے لئے سائبان ہے ، یہ میرے لئے کھانے پینےاور لباس کا انتظام کرتا ہے ، میرے اور میرے بچّوں کے لئے خون پسینہ ایک کرکے حلال روزی کماتا ہے ، میرے اور میرے بچّوں کے بیمار پڑجانے پر دوا کا انتظام کرتا ہے ، میرے بچّوں کے تعلیمی اَخْراجات اٹھاتا ہے لہٰذا مجھے مثبت انداز سے اس کے ساتھ پیش آنا چاہئے ، اس کی باتوں کو برداشت کرنا چاہئے ، اس کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنا چاہئے اور ناراضی کے وقت اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دینا چاہئے بلکہ اسے مَنا کر اس کا غُصّہ ٹھنڈا کرنا چاہئے۔

شوہر پر بیوی کے احسانات

ایک شخص امیرُ المومنین حضرت سَیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر حاضرہوا۔ جب دروازے پر پہنچا تو ان کی زَوجہ حضرت اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی(غصے کی حالت میں ) بلند آواز سے گفتگو کرنے کی آواز سنائی دی۔ جب اس شخص نے یہ ماجرا دیکھا  تویہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ میں اپنی بیوی کی شکایت کرنے آیا تھا لیکن یہاں تو خود امیرُالمومنین بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں ۔ بعد میں حضرت سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص کو بُلواکر آنے کی وجہ پوچھی ۔ اس نے عرض کی : حضور!میں تو آپ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا مگر جب دروازے پر آپ کی زَوجہ محترمہ کی گفتگو سنی تو میں واپس لوٹ گیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ میری بیوی کے  مجھ پر چند حُقوق ہیں جن کی بناء پر میں اس سے درگزر کرتا ہوں : ٭ وہ  مجھے جہنّم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ ہے ، اس کی وجہ سے  میرا دل حرام کی خواہش سے بچا رہتا ہے ۔ ٭ جب میں گھر سے باہر ہوتا ہوں تو وہ میرے مال کی حفاظت کرتی ہے۔ ٭میرے کپڑے دھوتی ہے۔ ٭میرے بچّے کی پَروَرِش کرتی ہے۔ ٭ میرے لئے کھانا پکاتی ہے۔

یہ سُن کر وہ شخص بے ساختہ بول اُٹھا کہ یہ تمام فوائد تو  مجھے بھی اپنی بیوی سے حاصل ہوتےہیں ، مگر افسوس! میں نے اُس کی اِن خدمات اور احسانات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کبھی اُس کی کوتاہیوں سے درگزر نہیں کیا ، آج کے بعد میں بھی درگزر سے کام لوں گا۔ ([2])

   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس واقعہ میں حضرت سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُنے اپنی گفتار اور اپنے عملی کردار کے ذریعے بیوی کی شکایت لے



[1]   معجم اوسط ،  ۱ / ۵۴۲ ، حدیث : ۱۹۹۸

[2]   تنبیه الغافلین ، باب حق المراة علی الزوج ، ص۲۸۰



Total Pages: 74

Go To