Book Name:Islami Shadi

السَّلَام  کو فرعون کے پاس  بھیجا تو فرعون کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ(۴۳) فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى(۴۴) (پ۱۶ ، طٰه : ۴۳ ، ۴۴)

تَرْجَمَۂ کنز العرفان : دونوں فرعون کی طرف جاؤ بیشک اس نے سرکشی کی ہے تو تم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔

تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ دین کی تبلیغ کے علاوہ دیگر دینی اور دُنیوی معاملات میں بھی جہاں تک ممکن ہو نرمی سے ہی کام لینا چاہئے کہ جو فائدہ نرمی کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے وہ سختی کرنے کی صورت میں حاصل ہو جائے یہ ضروری نہیں ۔ ([1])آئیے نرمی کے فضائل پر 4 فرامینِ مُصْطَفٰے  سنئے۔

نرمی کے فضائل

٭جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ بھلائی سے محروم رہا۔ ([2])٭جس شخص کو نرمی سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی سے حصہ دیا گیا اور جسے نرمی کے حصے سے محروم رکھا گیا اسے بھلائی کے حصے سے محروم رکھا گیا۔ ([3])٭اللّٰہ تعالیٰ رفیق ہے اور رِفْقْ (یعنی نرمی)کو پسند فرماتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نرمی کرنے پر وہ چیزیں عطا کرتا ہے جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔ ([4])٭نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے خُوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بد صورت کر دیتی ہے۔([5])

غصے پر قابو رکھئے

غصے پر قابو رکھنا اور عفو و درگزر سے کام لینا بھی شریعت میں نہایت پسندیدہ ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   ارشاد فرماتا ہے :

وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ۴ ، ال عمران : ۱۳۴)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان : اور غُصّہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں ۔

غُصّہ برداشت کرنے کے فضائل

ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی وقتاً فوقتاً غُصّے کو قابو میں رکھنے کی ترغیب و فضیلت بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ ٭رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : بہادر وہ نہیں جو پہلوان ہو اور دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غُصّے کے وقت خود کو قابو میں رکھے۔ ([6])٭اور ارشاد فرمایا : جو اپنے غُصّے کو روکے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا عذاب اس سے روک دے گا۔ ([7]) ٭اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو اپنے غُصّے میں مجھے یاد رکھے گا میں اسے اپنے جلال کے وقت یاد کروں گا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ اسے ہلاک نہ کروں گا۔ ([8]) ٭اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی خُوشنودی کیلئے بندے نے غُصّے کا جو گھونٹ پیا ، اس سے بڑھ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک کوئی گھونٹ نہیں ۔ ([9])

عَفْو و دَرگزر کی فضیلت

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب لوگ حساب کیلئے ٹھہرے ہوں گے تو اس



[1]   تفسیرصراط الجنان ، پ۱۶ ، طہ ، تحت الآیۃ : ۴۴ ، ۶ / ۲۰۱

[2]   مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ،  باب فضل الرفق ، ص۱۰۷۲ ، حدیث : ۶۵۹۸

[3]   ترمذی ، کتاب البر والصلة ،  باب ما جاء فی الرفق ، ۳ / ۴۰۷ ، حدیث :  ۲۰۲۰

[4]   مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ،  باب فضل الرفق ، ص ۱۰۷۲ ، حدیث : ۶۶۰۱

[5]   مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ،  باب فضل الرفق ، ص ۱۰۷۳ ، حدیث : ۶۶۰۲

[6]   بـخاری ،  کتاب الادب ،  باب الحذر من الغضب ،  ۴ / ۱۳۰ ، حدیث : ۶۱۱۴

[7]   شعب الایـمان ،   باب فی حسن الخلق ،  ۶ / ۳۱۵ ، حدیث : ۸۳۱۱

[8]   مسند الفردوس ، ۳ / ۱۶۹ ، حدیث : ۴۴۴۸

[9]   شعب الایـمان

Total Pages: 74

Go To