Book Name:Islami Shadi

مجید اور کعبۂ معظمہ پر غلاف چڑھا کر ان دونوں کی عزّت و عظمت کا اعلان کیا گیا ہے کہ تمام کتابوں میں سب سے افضل و اعلیٰ قرآن ہے۔ اور تمام مسجدوں میں افضل و اعلیٰ کعبۂ معظمہ ہے اسی طرح مسلمان عورتوں کو پردہ کا حکم دے کر اللہ عَزَّوَجَلَّ و رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ اقوام عالَم کی تمام عورتوں میں مسلمان عورت تمام عورتوں سے افضل و اعلیٰ ہے۔ پیاری بہنو!اب تمہیں کو اس کا فیصلہ کرنا ہے کہ اسلام نے مسلمان عورتوں کو پردوں میں رکھ کر ان کی عزّت بڑھائی ہے یا ان کی بے عزّتی کی ہے؟([1])

پردے میں عزّت کا تحفّظ ہے

      بِلاشُبہ اسلام نے عورت کو جہاں اور بہت سی عظمتیں عطا کیں وہیں اسکی “ غیرت و  ناموس “ کے بیش قیمت نگینے کے تحفّظ کا بھی زبردست اور فِطرت کے عین مطابق انتظام کیا ، جس طرح قیمتی اثاثوں کی سرِ عام نُمائش کرنے کے بجائے انہیں پابندِ تجوری کرکے نظروں سے مَخْفی اور مال کے چوروں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے ، ناموسِ عورت کو عزّت کے لٹیروں سے بچانے اور اس تک پہنچنے کے راستے بند کرنے کیلئے بھی کچھ اسی طرح کی تدابیر لازمی قراردی گئیں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے ارشاد فرمایا :   

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰىوَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ۲۲ ، الاحزاب : ۳۳)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان : اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی

اور فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-       (پ۲۲ ، الاحزاب : ۵۹)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان : اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے مُنہ پر ڈالے رہیں ۔

نیز پسِ پردہ رہتے ہوئے مجبوراً غیر مرد سے گفتگو کرنے کی ضرورت پڑ جائے تو لہجے میں اجنبیت و بیگانگی رکھنے اور آواز میں نزاکت و نرمی اور لچک سے بچنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :

فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ(۳۲)     (پ۲۲ ، الاحزاب : ۳۲)

تَرْجَمَۂ کنز العرفان : بات کرنے میں  ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے۔

      خبر دار! ہوشیار!آج اسلام دُشمن عناصر بنتِ حوّا کو چالاکی و عیّاری سے تجوری سے باہر لانے اور اُس کی عِصْمت کو نیلام کرنے کیلئے جُھوٹی ہمدردی ظاہر کرکے بے حیائی کو فیشن ، بے پردگی کو مساوات ، ناموسِ عورت کی خُداوندی حفاظتی تدابیر کو قید ، پردے سے متعلِّق  اسلامی احکامات کی خِلاف ورزی کو آزادی اور عورت کو ہَوَس بھری نگاہوں کی زَد پر لانے کو ترقّی قرار دیکر عورتوں کے حُقوق کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں ۔

حُقوقِ نِسواں کے عَلَم برداروں کی حقیقت

   عورتوں کے حُقوق کا ڈھنڈوڑا پیٹنے والے ہَوَس کے ان پُجاریوں  کی مثال اُن بُھوکے بھیڑیوں جیسی ہےجنہوں نے بکریوں کے حق میں جُلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حُقوق مارے جارہے ہیں اُنہیں گھروں میں قید کرکے  رکھا گیا ہے۔ یہ سُن کر بہت سی جوان اور جذباتی بکریاں بھیڑیوں کو اپنا ہمدرد سمجھ بیٹھیں اور ان کی بولی بولنے لگیں ، ایک عقلمند بوڑھی بکری نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ بھیڑئیے ہمارے دُشمن ہیں ، ان کی باتوں میں مت آؤ! چار دیواری میں تمہیں جو تحفّظ حاصل ہے ، آزادی ملتے ہی اسے شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے مگر نوجوان بکریوں نے اس کی ایک نہ سُنی اور اپنے خیرخواہ کو بد خواہ اور بدخواہوں کو خیر خواہ سمجھ کر آزادی آزادی کے نعرے لگانے شروع کردئیے ، مجبوراً مالک نے اُنہیں آزاد کردیا۔ بکریاں بہت خُوش ہوئیں اور اُچھلتی کودتی چار دیواری سے باہر بھاگیں مگر یہ کیا! ابھی تو آزادی کی فضا میں کھل کر سانس بھی نہیں لی تھی کہ بھیڑیوں نے دَھاوا بول دیا اور اُنہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ مسلمان خواتین کو چاہئے کہ حقیقت کی عکّاسی کرتی ہوئی اس فرضی حکایت کو نظر انداز نہ کریں اور اسلام نے اُنہیں عزّت و آبرو کی حفاظت کیلئے چادر کی صورت



[1]   جنتی زیور ، ص۸۲



Total Pages: 74

Go To