Book Name:Islami Shadi

ہیں ۔ یہ منظر دیکھ کر بُوعلی سینا بہت حیران ہوا اور نہایت ادب سے عرض کرنے لگا : حضور!اللہتعالیٰ نے تو آپ کو ایسا بلند مقام عطا فرمایا ہے لیکن آپ کی بیوی آپ کے متعلِّق بہت بُری باتیں کہتی ہے آخر اِس کی کیا وجہ ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواب دیا کہ اگر میں ایسی بیوی کا بوجھ برداشت نہ کرتا تو پھر یہ شیر میرا بوجھ کیونکر اُٹھاتا۔ ([1]) (یعنی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ    کی رِضا کے لئے بیوی کی زبان درازی پر صبر کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جنگل کے شیر کوبھی میرا اِطاعت گُزار بنادیا ہے)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غیرشرعی اُمور پر صبر کے بجائے اصلاح کیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!میاں بیوی کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کو نیکی کی دعوت دیتے اور بُرائی سے منع کرتے رہیں ، یاد رکھئے! ایک دوسرے کی خِلافِ مِزاج باتوں یا کاموں پر صبر کرنے کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خِلافِ شریعت اُمور و معاملات پر بھی آنکھیں میچ لی جائیں ، لَب سی لئے جائیں ، ایک دوسرے کو کچھ نہ کہا جائے اور صبر سے کام لیا جائے ، بالخصوص خاوند کو ایسے اُمور سے غفلت نہیں برتنی چاہئے جن میں ڈِھیل دینے سے شریعت کی خِلاف ورزی ہوتی ہو ، جب شوہر اپنی زَوجہ کو فرائض و واجبات میں کوتاہی کرتے ہوئے یا فلموں ڈراموں ، گانے باجوں ، جُھوٹ ، غیبت ، چُغلی ، وعدہ خِلافی ، تہمت ، بے شرمی و بے پردگی وغیرہ بُرائیوں کا اِرتکاب کرتے ہوئے دیکھے تو ہرگز خاموشی اختیار نہ کرے بلکہ اچھے انداز میں اصلاح کی کوشش کرے۔ قرآنِ پاک میں رَبّ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ  (پ۲۸ ، التحریم : ۶)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان  : اے ایمان والواپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔

صَدْرُ الافاضل مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدین مُراد آبادی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اختیار کرکے ، عبادتیں بجالا کر ، گُناہوں سے باز رہ کر اور گھر والوں کو نیکی کی ہدایت اور بَدی سے مُمانَعَت کرکے اور انہیں علم و ادب سکھا کر(اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کوجہنم کی  آگ سے بچاؤ)۔ ([2])

اہلِ خانہ کی اسلامی تعلیم وتَرْبِیَت لازم ہے

      معلوم ہواکہ جہاں مسلمان پر اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے وہیں  اہلِ خانہ کی اسلامی تعلیم و تَرْبِیَت کرنا بھی اس پر لازم ہے ، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ خود بھی علمِ دین سیکھ کر اُس پر عمل کرے اور اپنے بیوی بچّوں اور گھر کے ان افراد کو جو اس کے ماتحت ہیں اسلامی احکامات کی تعلیم دے یادلوائے تاکہ وہ اور اُس کے اہلِ خانہ جہنّم کی آگ سے محفوظ رہ سکیں ۔ حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن عُمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے ، رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، چنانچہ حاکم نگہبان ہے ، اُس سے اُس کی رِعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہلِ خانہ پر نگہبان ہے ، اس سے اس کے اہلِ خانہ کے بارے سُوال کیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر میں  نگہبان ہے ، اس سے اس کے بارے میں  پوچھا جائے گا ، خادم اپنے مالک کے مال میں  نگہبان ہے ، اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا ، آدمی اپنے والد کے مال میں نگہبان ہے ، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ، الغرض تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ ([3])

مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ صرف بادشاہ سے ہی اس کی رِعایا کا سوال ہوگا ہم آزاد رہیں گے ، نہیں بلکہ ہرشخص سے اپنے ماتحت لوگوں کے متعلِّق سوال ہوگا کہ تم نے ان کے دینی و دُنیاوی حُقوق ادا کیے یا نہیں ؟مزید فرماتے ہیں : مرد سے سوال ہوگا



[1]   تذکرةالاولیاء ، جزء : ۲ ، ص ۱۷۴ ملخصا

[2]   تفسیرخزائن العرفان ، پ۲۸ ، التحریم ، تحت الآیۃ : ۶

[3]   بخاری ، کتاب الـجمعة ،  باب الـجمعة فی القری والـمدن ،  ۱ / ۳۰۹ ،  حدیث :  ۸۹۳



Total Pages: 74

Go To