Book Name:Islami Shadi

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنی بیویوں کو ظُلماً مارتے ہیں ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر جب  دل چاہتا ہے بے دریغ پیٹتے ہیں ، بیوی قدموں میں گر کر مُعافی مانگتی رہ جاتی ہے مگر انہیں ذرا رحم نہیں آتا۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک تو صِنْفِ نازُک پر ظُلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور پھر اسے مردانگی اوربہادری سمجھا جاتا  ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے قہر وغضب سے ڈرنا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ اگر بیوی نے قیامت کے دن بارگاہِ الٰہی میں اپنے اوپر کئے گئے ظُلم و سِتم کے خِلاف فریاد کردی تو کیا بنے گا؟لہٰذا ابھی وقت ہے توبہ کرلیں ، اگر ظُلم کیا ہے تو مُعافی مانگ کر اُسے راضی کرلیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بروزِ قیامت سخت مشکل میں پھنس جائیں کیونکہ اُس روز ظالم کو اپنے ظُلم کا انجام بھگتنا پڑے گا ۔

تکلیف پہنچانے کا وَبال

حضرت سیِّدُنا یزید بن شَجَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جس طرح سمندر کے کنارے ہوتے ہیں اِسی طرح جہنّم کے بھی کنارے ہیں جن میں بُختی اونٹوں جیسے سانپ اور خچّروں جیسے بچھو رہتے ہیں ۔ اہلِ جہنّم جب عذاب میں کمی کیلئے فریاد کریں گے تو حکم ہوگا کناروں سے باہر نکلو وہ جیسے ہی نکلیں گے تو وہ سانپ انہیں ہونٹوں اور چہروں سے پکڑ لیں گے اور ان کی کھال تک اُتارلیں گے وہ لوگ وہاں سے بچنے کیلئے آگ کی طرف بھاگیں گے پھر ان پر کھجلی مُسَلَّط کردی جائے گی وہ اس قدرکھجائیں گے کہ ان کاگوشت پوست سب جَھڑ جائے گا اور صرف ہڈیاں رہ جائیں گی ، پُکار پڑے گی : اے فلاں ! کیا تجھے تکلیف ہورہی ہے؟ وہ کہے گا : ہاں ۔ تو کہا جائے گا یہ اُس تکلیف کا بدلہ ہے جو تو مومِنوں کو دیا کرتا تھا۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اصلاح کیلئے سختی کرنے کا اسلامی ضابطہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر خُدانخواستہ کبھی شوہر کو  بیوی کی طرف سے بدسُلوکی یا نافرمانی کا سامنا کرنا پڑے تو شوہر کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کس چیز نے اسے نافرمانی کرنے پر مجبور کیا ہے؟اگر بیوی کو اِس نافرمانی پر اُبھارنے میں اُس کا اپنا ہی قُصُور ہو تو اُسے چاہئے کہ بیوی کے ساتھ عدل و انصاف والا معاملہ اختیار کر ےاور اس کی دُرُست شکایت دُور کرے ، اور اگر اِس نافرمانی کی طرف لے جانے میں اُس کا اپنا کوئی قُصُور نہیں بلکہ عورت خود ہی کسی وجہ سے سرکشی و نافرمانی میں مبُتلاہوگئی ہے تو شوہر کو ان حالات میں بیوی کی اصلاح کا وہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے جو قرآنِ پاک میں بیان ہوا ہے۔ چنانچہ رَبّ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ- (پ۵ ، النساء : ۳۴)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان  : اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو۔

سختی کرنے کی نفیس وضاحت

تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت لکھا ہے کہ اس آیت میں نافرمان عورت کی اصلاح کا طریقہ بڑے اَحْسَن پیرائے میں بیان فرمایا گیا ہے ۔ سب سے پہلے نافرمان بیوی کو اپنی اِطاعت کے فوائد اور نافرمانی کے نقصانات بتاؤ نیز قرآن وحدیث میں اس تعلُّق سے منقول فضائل اور وعیدیں بتا کر سمجھاؤ ، اگر اس کے بعد بھی نہ مانیں تو ان سے اپنے بستر الگ کر لو پھر بھی نہ مانیں تو مناسب انداز میں اُنہیں مارو۔ اس مار سے مراد ہے کہ ہاتھ یا مسواک جیسی چیزسے چہرے اور نازُک اعضاء کے علاوہ دیگر بَدن پر ایک دو ضَربیں لگا دے۔ وہ مار مراد نہیں جو ہمارے ہاں جاہلوں میں رائج ہے کہ چہرے اور سارے بدن پر مارتے ہیں ، مکوں ، گھونسوں اور لاتوں سے پیٹتے ہیں ، ڈنڈا یا جو کچھ ہاتھ میں آئے اس سے مارتے اور لہو لہان کردیتے ہیں یہ سب حرام و ناجائز ، گُناہِ کبیرہ اور پَرلے درجے کی جہالت اور کمینگی ہے۔ ([2])

 



[1]   الترغیب والترھیب  ، کتاب صفة الـجنة و النار ، فصل فی ذکر حیاتـھا و عقاربھا ، ۴  / ۲۸۰ ، حدیث : ۵۶۴۹

[2]   تفسیر صراط الجنان ، پ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۳۴ ، ۲ / ۱۹۷



Total Pages: 74

Go To