Book Name:Islami Shadi

حُصَیْن بن مِحْصَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی پھوپھی کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ کسی کام سے رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، جب رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کی حاجت پوری فرما چکے تو ارشاد فرمایا : کیا تم شوہر والی (یعنی شادی شُدہ ) ہو؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں ۔ فرمایا : تم (خدمت کے اعتبار سے) شوہر کیلئے کیسی ہو؟ عرض کی : جو کام میرے بس میں نہ ہو اُس کے علاوہ میں اُن کی خدمت میں کوتاہی نہیں کرتی ۔ ارشاد فرمایا : اِس بارے میں غور کرلینا کہ شوہر کے اعتبار سے تمہارا کیا مقام ہے کیونکہ وہی تمہاری جنّت اور دوزخ ہے۔ ([1])٭اَيُّمَا اِمْرَاَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ یعنی جو عورت اس حال میں فوت ہوئی کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا ، تو  وہ جنّت میں داخل ہوگی۔ ([2])

بیوی پر شوہر کے حُقوق

      اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجددِ دین و مِلّت اِمام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فتاویٰ رضویہ کی جلد نمبر24میں بیوی پرشوہر کے جو حُقوق بیان فرمائے ہیں تفسیر صراطُ الجنان میں اُن کا خلاصہ یہ بیان کیا گیا ہےکہ اِزْدِواجی تعلُّقات میں مُطْلَقاً شوہر کی اِطاعت کرنا ، اُس کی عزّت کی سختی سے حفاظت کرنا ، اس کے مال کی حفاظت کرنا ،  ہر بات میں اس کی خیر خواہی کرنا ، ہر وقت جائز امور میں اس کی خُوشی چاہنا ، اسے اپنا سردار جاننا ، شوہر کونام لے کر نہ پُکارنا ، کسی سے اس کی بلا وجہ شکایت نہ کرنا اور خُداتوفیق دے تو وجہ ہونے کے باجود شکایت نہ کرنا ، اُس کی اجازت کے بغیر آٹھویں دن سے پہلے والدین کے گھر اور ایک سال سے پہلے دیگر محارِم کے یہاں نہ جانا ، وہ ناراض ہو تو اس کی بہت خُوشامد کرکے منانا۔ ([3])

بیوی کے حُقوق کی تاکید و اہمیت

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس طرح  بیوی پر شوہر کے حُقوق پورے کرنا لازم ہے اسی طرح شوہر پر بھی لازم ہے کہ بیوی کو اہمیَّت دے اور اُس کے حُقوق کا پورا پورا خیال رکھے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے۔

وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪-(پ۲ ، البقرة : ۲۲۸)

تَرْجَمَۂ کنز العرفان : اور عورتوں کیلئے بھی مَردوں پر شریعت کے مطابق ایسے ہی حق ہے جیسا (اُن کا) عورتوں پر ہے۔

      صَدْرُا لا فاضِل حضرت علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیمُ الدین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں : یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حُقوق کی ادا واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حُقوق کی رِعایت لازم ہے۔ ([4])

لہٰذا شوہر کو چاہئے کہ وہ ہرگز ہرگز بیوی کے حُقوق کو ہلکا نہ جانے ، اُسے کمزور سمجھ کر اُس کے ساتھ ناانصافی نہ کرے ، اُس پر ظُلم و سِتم نہ کرے  اور ہر وقت اس بات کو پیشِ نظر رکھے کہ جس رَبّ عَزَّ  وَجَلَّنے  اُسے بیوی پر حاکم بنایا ہے وہ اَحْکَمُ الْحَاکِمیْن جَلَّ جَلَالُہ سب  حاکموں کا حاکم ہے ، وہ ناانصافی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ آئیے! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول ، رسولِ مقبول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عورت کے حُقوق کی جو اہمیَّت بیان فرمائی ہے اُس کے بارے میں چند فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ مُلاحظہ کیجئے :

بیوی کے حُقوق سے متعلِّق 4  فرامینِ مُصْطَفٰے 

٭اَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ اَنْ تُحْسِنُوْا اِلَيْہِنَّ  فِيْ كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّیعنی خبردار! بیویوں کا تم پر حق ہے کہ اوڑھنے پہننے اور کھانے پینے کے معاملات میں اُن کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ۔ ([5])٭اَكْمَلُ الْمُؤْمِنِيْنَ اِيْمَانًا اَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ خُلُقًا یعنی کامل ایمان والے مومنین وہ ہیں جن کے اَخلاق



[1]   سنن الکبری للنسائی ، کتاب عشرۃ النساء ، طاعة المرأة زوجها ،  ۵ / ۳۱۱ ،  حدیث : ۸۹۶۳

[2]   ترمذی ،  کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأة ، ۲ /  ۳۸۶ ، حدیث : ۱۱۶۴

[3]   تفسیر صراط الجنان ، پ۲ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۲۲۸ ، ۱ / ۳۴۹

[4]   تفسیرخزائن العرفان ، پ۲ ، البقرہ ، تحت الآیہ : ۲۲۸

[5]   ترمذی ، کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی حق المرأة علی زوجھا ، ۲ / ۳۸۷ ، حدیث : ۱۱۶۶



Total Pages: 74

Go To