Book Name:Islami Shadi

برکت والا نکاح

اُمُّ المومنین حضرت سیّدتُنا  عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا رِوایت کرتی ہیں :  رسولِ اکرم ، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : بڑی برکت والا نکاح وہ ہے جس میں بوجھ کم ہو ۔ ([1])

مفسر شہیر حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے ، مہر بھی معمولی ہو ، جہیز بھاری نہ ہو ، کوئی جانب مقروض نہ ہوجائے ، کسی طرف سے شرط سخت نہ ہو ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے تَوَکُّل پر لڑکی دی جائے وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے ، ایسی شادی ، خانہ آبادی ہے۔ ([2])

شادی اور ولیمے کو آسان بنائیے

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی اور اپنے بچّوں کی دُنیا و آخرت کی بہتری کیلئے شادی بیاہ کے بے جا اَخْراجات کا بوجھ کم کریں اور شادی و ولیمے کو سستا اور آسان بنائیں ۔ اس کا جذبہ اپنے دل میں پیدا کرنے کیلئے مُقَدَّس ہستیوں کے نکاح و ولیمے کی سادَگی کو پیشِ نظر رکھیں ۔ آئیے! اس ضمن میں ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نکاح  کا مختصر تذکرہ سُنتے ہیں :

صحابیِ رسول کا آسان نکاح

      مشہور صحابی اور بارگاہِ رسالت کے خادمِ خاص حضرت سَیِّدُنا ربیعہ بن کَعْب  اَسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں رہا کرتا تھا ، ایک مرتبہ رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تم نکاح کیوں نہیں کرتے؟میں نے عرض کی کہ ایک تو یہ کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ، دوسرا یہ کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی چیز آپ کی خدمت گُزاری کرنے میں رُکاوٹ کا سبب بنے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ (کچھ عرصہ بعد) پھر وہی سوال کیا۔ میں نے بھی جواب میں وہی بات عرض کی ۔ میں نے سوچا کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ خُوب جانتے ہیں کہ دُنیا و آخرت میں میرے لئے کون سی چیز  بہتر ہے لہٰذا  اگر اب کی بار رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہی ارشاد فرمایا تو میں ضرور نکاح کر لوں گا۔ چنانچہ ، جب تیسری بار ارشاد فرمایا : تم نکاح کیوں نہیں کرتے میں نے عرض کی : یارسولَالله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ! جس سے چاہیں میرا نکاح کر دیجئے!آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے انصار کے ایک قبیلے کے پاس بھیجا کہ اُن سے جا کر کہنا کہ رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےمجھے اِس لئے بھیجا ہے کہ تم اپنے خاندان کی فلاں لڑکی سے میرا نکاح کردو۔ چنانچہ میں نے جاکر اُنہیں یہ پیغام سُنایا تو انہوں نے خُوش آمدید کہا اور میری بہت عزّت کی اور میری شادی کردی ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے ذریعے ادائیگیِ مہر کیلئے گٹھلی بھر سونے کا اور ولیمہ کیلئے ایک فربہ مینڈھے کا انتظام بھی فرمادیا۔ ([3])

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور کیجئے!!ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مُبارَک زمانے میں کس قدر سادہ ، سَسْتی اور آسان شادیوں کا رَواج ہوا کرتا تھا کہ گٹھلی کے وزن برابر سونے کے بدلے نکاح ہوگیا اور صرف ایک مینڈھے کے ذریعے ولیمے کی سنّت ادا کردی گئی ، صرف یہی نہیں بلکہ خود ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مُبارَک نکاح اور شہزادیِ کونین حضرت سَیِّدَتُنا فاطمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نکاح بھی ہمارے لئےبہترین نمونہ ہے۔ چنانچہ ،   

شہنشاہِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ولیمہ

خیبر کے موقع پر سفر کی حالت میں رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب حضرت سَیِّدَتُنا صفیّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  کو اپنے حِبالۂ عَقْد



[1]   مسند احمد ،  مسند السیدة عائشة ، ۹ / ۳۶۵ ، حـدیث : ۲۴۵۸۳

[2]   مرآۃ المناجیح ، ٥۵/ ۱۱

[3]   مسند احمد ، مسند الـمدنیین ، ۵ / ۵۶۹ ، حديث :  ۱۶۵۷۷ملخصا



Total Pages: 74

Go To