Book Name:Islami Shadi

چاول پھینکنے کی رَسْم

اسی طرح ایک غیر شَرْعی رَسْم رُخصتی کے وقت دُلہن کا اپنے پاؤں سے چاول پھینکنا بھی ہے۔ اس رَسْم میں رزق کی بے حرمتی ہے اور یہ رَسْم غیر مسلموں سے مسلمانوں میں منتقل ہوئی ہے۔ لہٰذا اس رَسْم سے بچنا بھی ضروری ہے۔

دُودھ پلائی کی رَسْم

یونہی رُخصتی کے موقع پر دُولھا اور دُلہن کو دُودھ پلایا جاتا ہے اور اِس کو دُودھ پلائی کی رَسْم سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یاد رکھئے !دُودھ پینے پلانے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ حلال اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عظیم نعمت ہے ، لیکن شادی کے موقع پر اس کے پلانے کا جو طریقہ کار ہے وہ انتہائی شرمناک اور بے ہودہ ہے کیونکہ اِس موقع پر دولہے کو نامَحْرَم خواتین کے مجمع میں بلایا جاتا ہے۔ عموماً اِس موقع پر اُس کے دوست بھی اُس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ پھرکوئی نامَحْرَم نوجوان لڑکی اپنی ہمجولیوں کے جُھرمَٹ میں آکر دولہے کو دُودھ کا گلاس پیش کرتی ہے اور پھر ہلہ گلہ ہوتا ہے اور دُولھا اور اس کے دوست نامَحْرَم لڑکیوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں ، پھر دولہے سے دُودھ پلائی (یعنی رقم) کا مُطالَبہ کیاجاتا ہے ایسے موقع پر بے پردگی کے علاوہ بھی بہت سی بیہودگیاں ہوتی ہیں ۔ اور بعض خاندانوں میں دُودھ پلائی کی رَسْم ادا کرنے والی عورتیں اس وقت تک بارات کو رُخصت نہیں ہونے دیتیں جب تک دُولھا اُن کو پیسے نہ دے۔

رَسْموں میں پیسوں کالین دین کیسا؟

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے!جُوتا چُھپائی ، سُرمہ لگائی ، دُودھ پلائی  اور کار رُکوائی  وغیرہ رَسْموں میں ہنسی مذاق اور تفریح کے نام پر جہاں ایک دوسرے کی دل آزاری کی جاتی ہے ، ایک دوسرے کی عزّت نیلام کی جاتی ہے ، مُروّت کو بالائے طاق رکھا جاتا ہے ، نئے رشتوں کی بُنیاد کھوکھلی کی جاتی ہے اور اسلامی تعلیمات کے خِلاف بہت سے نامناسب بلکہ ناجائز و حرام کام کئے جاتے ہیں وہیں اُن رسموں میں سے جس جس رَسْم میں پیسوں کا لین دین ہوتا ہے خواہ باقاعدہ مُطالَبہ کرکے پیسے لئے جائیں یا مُروّتاً دئیے جائیں ، پیسوں کا یہ لین دین بعض صورتیں میں رشوت کے حکم میں ہے  لہذا اس قسم کی لین دین میں انتہائی احتیاط کی حاجت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جانے انجانے میں رشوت جیسے حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام کے مرتکب ٹھہریں ۔ آئیے رُسومات میں پیسوں کے لین دین کے بارے میں دارُ الافتاء اہلسنت کا ایک اہم فتوی مُلاحظہ کیجئے :  

پیسوں کے لین دین کے متعلِّق اہم فتوی

بسمِ اللٰہ الرَّحمنِ ا لرَّحِیم 

786

الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ           مدینہ                   وعلی آلک واصحٰبک یا حبیب اللہ

92

دارالافتاء اھلسنت

مکتبۃ المدینہ،گنج بخش  مارکیٹ،مرکز الاولیاء داتا دربار لاہور، پاکستان

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شادیوں میں طرح طرح کے لاگ لئے جاتے ہیں مثلاً جب بارات جاتی ہے تو بیٹھنے سے پہلے پیسے لیتے ہیں ، دولھے کو دودھ پلا کر یا سرمہ ڈال کریا دولھے کا جوتا چھپا کر پیسے لیتے ہیں ۔ کیاان سب صورتوں میں پیسے لینا جائز ہے یا نہیں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مذکورہ تمام رسموں میں جو پیسے لئے جاتے ہیں ان کی دو صورتیں ہیں :

(1) اگر پیسے دینے والا دل سے راضی نہ ہو بلکہ مجبوراًدے رہا ہو یا اس کو معلوم ہے کہ نہ دینے کی صورت میں لوگوں کی طرف سے طعنہ زنی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا تو اس سے بچنے کے لئے وہ دیتا ہے تو ان صورتوں میں پیسے لینا جائز نہیں لیکن دینے والے کے لئے اپنی عزت بچانے کی خاطر دینا جائز ہے۔

 



Total Pages: 74

Go To