Book Name:Islami Shadi

ایسی جگہ بٹھایا جاتا ہے جہاں اس کی سہلیوں کے علاوہ کوئی اور نہیں جاتا۔ یونہی اُبٹن کے نام سے بھی ایک رَسْم کی جاتی ہے جس میں دُولھا  اور دُلہن کے جسم کو نکھارنے اور نرم و ملائم کرنے کیلئے اُبٹن لگایا جاتا ہے ۔ اس حد تک تو ان دونوں رَسْموں میں خِلافِ شرع کوئی بات نہیں لہٰذا مائیوں بٹھانے اور اُبٹن لگانے میں شَرْعاً کوئی حرج نہیں ۔ جیساکہ صَدْرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ مفتی محمد اَمجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : دُولھا ، دولہن کو بُٹنا (اُبٹن) لگانا ، مائیوں بٹھانا ، جائز ہے ان میں کوئی حرج نہیں ۔ ([1])یونہی مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : شادی سے پہلے دُولھا ، دولھن کو جو اُبٹن مَلا جاتا ہے جس میں خُوشبو اور صفائی والی چیزیں ہوتی ہیں یہ بِلاکراہت جائز ہے کہ یہ صابون کی طرح جسم کی صفائی ، نرمی کیلئے ہے۔ ([2])

فی زمانہ رائج مائیوں اور اُبٹن کی حیثیّت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل رَسْمِ مائیوں اور اُبٹن کی صورت بھی انتہائی بگڑ چکی ہے ،  اس میں بھی غیر مَحْرَم  مرد و عورت اکٹھے ہوتے ہیں ، دُولھا کو اس کے خاندان کی نامَحْرَم عورتیں بلکہ نوجوان لڑکیاں بھی اُبٹن اور مہندی لگاتی ہیں حالانکہ مرد کیلئے ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا تو ویسے ہی حرام ہے خواہ اُسے نامَحْرَم لڑکیاں نہ بھی لگائیں جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے : مرد کو ہتھیلی یاتلوے بلکہ صرف ناخنوں ہی میں مہندی لگانی (بھی) حرام ہے۔ ([3])غور کیجئے!مرد کیلئے صرف مہندی لگانے کوبھی  ناجائز و حرام قرار دیا گیا ہے۔ اگر یہی  مہندی نامَحْرَم لڑکیاں لگائیں تو کیا گُناہ پر گُناہ نہیں ؟ جس پر طُرّہ یہ کہ وہ لڑکیاں اُبٹن اور مہندی لگاتے ہوئے ہنسی مذاق کرتی ہیں اور عشقیہ و فسقیہ اشعار یا تو خود گنگناتی ہیں یا پھر اس قسم کے سنگیت  کی دُھنوں  میں یہ رَسْم ادا کرتی ہیں ، کہیں کہیں دُلہن کی بہنیں دُولھا کو اُبٹن لگاتی ہیں ، اب تو اس میں مزید جِدّت آگئی ہے کہ مائیوں کی رَسْم کیلئے دُولھا اور دُلہن ایک ہی جگہ اکٹھے ہوتے ہیں بلکہ جن لوگوں کی دولت سر چڑھ کر بولتی ہے وہ یہ رَسْم “ شادی ہال “ میں کرتے ہیں جہاں دُولھا دُلہن کو منچ (Stage)پر بٹھایا جاتا ہے اور دونوں خاندانوں کے مرد اور عورتیں جن میں بہت سے ایک دوسرے کیلئے نامَحْرَم ہوتے ہیں ، اپنے ہاتھ سے دُولھا اور دُلہن کو مٹھائی کھلاتے اور ساتھ بیٹھ کر مُووی بھی بنواتے ہیں ۔ لہٰذا اس طرح کی مائیوں اور اُبٹن سراسر ناجائز ہے اور اس سے بچنا لازم ہے۔ انہی خرافات کی وجہ سے مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  شادی بیاہ کی غیر شَرْعی رُسُومات کی ضمن میں فرماتے ہیں کہ ان تما م رَسْموں میں بَدتر رَسْم مائیوں ، اُبٹن کی رسمیں ہیں جس میں اپنی پرائی عورتیں جمع ہوکر دُولھا کے اُبٹن ، مہندی لگاتی ہیں ، آپس میں ہنسی مذاق ،  دل لگی ، دُولھا سے مذاق وغیرہ بہت بے عزّتی کی باتیں ہوتی ہیں ۔ ([4])

جُوتا چُھپائی کی رَسْم

ایک رَسْم “ جُوتا چُھپائی “ بھی بڑے ذوق و شوق سے پوری کی جاتی ہے۔ اس رَسْم میں دُلہن والوں کی طرف سے جوان لڑکیاں دولہے کے جوتے چُھپادیتی ہیں اور پھر دُولھا اُن سے جوتے مانگتا ہے تو وہ دولہے کے ساتھ ہنسی مذاق اور بے تکلّفی کا مُظاہَرہ کرنے کے علاوہ مُنہ مانگی رقم کا مُطالَبہ بھی کرتی ہیں جسے پورا کئے بغیر جُوتا واپس نہیں ملتا۔

سُرمہ لگائی کی رَسْم

شادی کے موقع پر “ سُرمہ لگائی “ کے نام سے بھی ایک رَسْم کی جاتی ہے۔ سُرمہ لگانا تو نہ صرف جائز ہے بلکہ ہمارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  کی نہایت ہی پیاری پیاری سنّت ہے۔ لیکن افسوس!فی زمانہ اس کو شادی بیاہ میں گُناہ کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے وہ اس طرح کہ جب دُولھا نہا دھوکر تیار ہوجاتا ہے اور بارات روانہ ہونے والی ہوتی ہے تو اس وقت دولہے کی بھابھی اس کی آنکھوں میں اپنے ہاتھوں سے سُرمہ لگاتی ہے ، حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے نامَحْرَم ہیں ، عورت کا اس طرح  نامَحْرَم کو چھونا جائز نہیں ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اجنبی جوان عورت کو جوا ن مرد کے ہاتھ پاؤں چھونا  جائز نہیں اگر چہ(وہ مرد اس عورت کا)پِیر ہو۔ ([5])

 



[1]   بہارِ شریعت ، حصہ۷ ، ۲ / ۱۰۵

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۵/ ٧۷۲

[3]   فتاویٰ رضویہ ، ۲۴ / ۵۴۲

[4]   اسلامی زندگی ، ص ۳۵

[5]   فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ۲۴۵



Total Pages: 74

Go To