Book Name:Islami Shadi

نہ لے لی جائے اور کنواری کا نکاح بھی اُس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ لوگوں نے عرض کیا : یارسولَاﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ! کنواری کی اجازت کس طرح ہوگی؟ فرمایا : اُس کی خاموشی۔ ([1])

عورت کی خاموشی کب اجازت ہے

یاد رہے کہ نکاح کی اجازت طلب کرنے  پر کنواری کی خاموشی کواِس صورت میں شرعا رضا و اجازت قرار دیا گیا ہے  جبکہ ولیِ اقرب یا اسکا وکیل یا قاصد اجازت طلب کرے۔ جیساکہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ان مسائل کو بیان کرنے کے بعد کہ جن میں کنواری کی خاموشی رضاو اجازت قرار پاتی ہے ، فرماتے ہیں : یہ احکام جو مذکور ہوئے ولیِ اقرب کے ہیں ، اگرولیِ بعید یا اجنبی نے نکاح کی اجازت طلب کی تو خاموشی ، اجازت نہیں قرار پائے گی بلکہ ایسی صورت میں کنواری عورت کیلئے صراحۃً اذن (یعنی اجازت)کے الفاظ کہنا یا کوئی ایسا فعل کرنا  ضروری ہےجو قول کے حکم میں ہو۔ مثلا خوشی سے ہنسنا ، مہر یا نفقہ قبول کرنا یا طلب کرنا۔ ([2])

نکاح کی اجازت یا وکالتِ نکاح کی اجازت؟

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے یہاں لڑکی سے اجازت تو مانگی جاتی ہے مگر نکاح کے دن عین نکاح کے وقت ، اور یہ اجازت بالکل رَسْمی قسم کی ہوتی ہے جس کا مقصد اس کی رِضا معلوم کرنا نہیں ہوتا بلکہ وکالتِ نکاح کی اجازت لینا ہوتا ہے ایسی صورت میں وہ دل سے راضی نہ ہونے کے باوُجُود بھی حالات کی نزاکت اور والدین کی عزّت کے پیشِ نظر اجازت دے دیتی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ شادی کی بات پکّی کرنے سے پہلے ہی یا تو پیار محبت اور حکمتِ عملی سے اُسے  اپنی رِضا پر حقیقی طور پر راضی کرلیں یا پھر اُس کی خُوشی پر راضی ہوجائیں  جبکہ کوئی شرعی خرابی نہ ہو ، غرض اِس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ شادی کے پُر مَسَرَّت موقع پر جہاں سب لوگ خُوش ہیں وہیں جن بچّوں کی شادی کی جارہی ہے وہ بھی حقیقی طور پر خُوش ہوں اور آئندہ بھی اپنی اِزْدِواجی زندگی خُوشگوار گُزار سکیں ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

اپنے بچّوں کی شادی دینداروں میں کیجئے

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بچّوں کو پُرسُکون اِزْدِواجی زندگی مُہَیّا کرنے کیلئے جہاں اور بہت سی چیزوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے وہیں دین داروں میں رشتہ کرنے کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے بلکہ اسے مرکزی حیثیّت دینی چاہئے یعنی اگر لڑکی کا رشتہ کیا جائے تو بھی دیندار لڑکے سے اور اگر لڑکے کا رشتہ کیا جائے تو بھی دین دار لڑکی سے ہی کیا جائے۔ بدقسمتی سے آج کل لڑکی کی شادی کرنی ہو تو لڑکے کا اِنتخاب کرتے ہوئے دُنیا داری کا تو لحاظ رکھا جاتا ہے کہ لڑکا کتنا پڑھا ہوا ہے ، کیا کرتا ہے ، کتنا کماتا ہے وغیرہ وغیرہ مگر دینداری کی طرف کوئی توجّہ نہیں دی جاتی کہ آیا لڑکا صحیحُ العقیدہ ، نیک ، نمازی ، پرہیزگار اور سنَّتوں کا عادی بھی ہے یا نہیں ، اس کی آمدنی حلال ہے یا حرام ، بلکہ آج کل تو بہت سے لوگ اپنی بچیوں کی شادی کیلئے لڑکے کا اِنتخاب کرتے ہوئے صرف اور صرف مالداری ہی کو اہمیَّت دیتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ مالدار گھرانے اور اچھا کمانے والے لڑکے کو اپنی بچّی کے بہتر مستقبل کا ضامن سمجھتے ہیں ، حالانکہ اسلامی نقطۂ نظر سے اِن چیزوں کے بجائے دینداری پیشِ نظر رکھنی چاہئے ، لڑکا دین دار ہونا چاہئے ، البتہ والدین اپنی بچّی کی شادی کیلئے نان نفقہ اور سُکنٰی وغیرہ حُقوقِ واجبہ کی ادائیگی پر قدرت رکھنے والے دیندارلڑکے کے اِنتخاب کو اوّلین ترجیح دیتے ہوئے ثانوی طور دیگر خُصُوصِیَّات کا بھی خیال رکھیں تو کوئی حرج نہیں ۔ یونہی لڑکے والوں کو چاہئے کہ لڑکی کا اِنتخاب کرنے میں اچھی صورت ، اونچا خاندان اور پیسے والے لوگ دیکھنے کے بجائے اچھی سیرت اور دین داری کو مرکزی  حیثیّت دیں کیونکہ حدیثِ پاک میں لڑکے یا لڑکی کے اِنتخاب میں دین داری ہی کا لحاظ رکھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ

دین دار اچھے اَخلاق والے لڑکے کا رشتہ قبول کر لیجئے

 



[1]   مسلم ، کتاب النکاح ، باب استئذان الثیب   الخ ، ص۵۶۶ ، حـدیث : ۳۴۷۳

[2]   بہارِ شریعت ، حصہ ۷ ، ۲ / ۵۰ ملخصاً۔ ولی کے بارے میں اہم معلومات کیلئےبہارِ شریعت جلد 2 سے ولی کا بیان پڑھنا نہایت مفید ہے۔



Total Pages: 74

Go To