Book Name:Islami Shadi

تَرْجَمَۂ کنز الایمان : ہم تمہیں اور اُنہیں سب کو رزق دیں گے۔

یونہی شادی کے ذریعے انسان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے فضل سے غنی ہوجاتا ہے جیساکہ فرمانِ خُداوندی عَزَّ  وَجَلَّ  ہے :

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ-اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ- (پ۱۸ ، النور : ۳۲)

تَرْجَمَۂ کنز العرفان : اور تم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کے نکاح کردو اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس آیتِ مُبارَکہ میں جو فرمایا گیا : “ اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُنہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا “ اِس کی ایک تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ اِ س غناء سےمراد قناعت ہے اور ایک قول  یہ ہے کہ غِناء سے ، شوہر اور بیوی کے دو  رِزْقوں کا جمع ہوجانا مراد ہے۔ ([1])

شادی کے ذریعےتنگدستی کا خاتمہ کیجئے

معلوم ہو اکہ نکاح کے بعد اَخْراجات بڑھنے کے باعث تنگدستی پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کی برکت سے تو تنگدستی دُور ہوجاتی اور فراخ دستی حاصل ہو تی ہے بلکہ احادیثِ مُبارَکہ میں تو شادی کے ذریعے رزق تلاش کرنےکا حکم بھی دیا گیا ہے اور بیوی کے ذریعے رزق و مال میں برکت کی واضح طور پر بشارت بھی دی گئی ہے ، شادی کی وجہ سے غنی ہونے کی قوی اُمید بھی دلائی گئی ہے اور شادی کئے بغیر غنی ہونے کی خواہش پر تَعَجُّب کا اظہار بھی کیا گیا ہے ، مُفلسی میں مبُتلا ہونے کے  خوف سے شادی نہ کرنے کی مَذمّت بھی بیان کی گئی ہے اور تنگدستی کی شکایت کرنے والے کو شادی کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے بلکہ ایک حدیثِ پاک میں تو ایسے مالدار مرد کو جس کی بیوی نہ ہو  اور ایسی مالدار عورت  کو جس کا شوہر نہ ہو “ مسکین “ فرمایا گیا ہے۔ ترغیب کیلئے  چند احادیثِ مُبارَکہ پیشِ خدمت ہیں :

نکاح سے مال میں برکت کے متعلِّق احادیث

٭تم نکاح کے ذریعے رزق تلاش کرو۔ ([2])٭عورتوں سے نکاح کرو کیونکہ وہ تمہارے پاس (اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے رزق اور) مال لائیں گی۔ ([3])٭حضرت ابوبکر صِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے جو تمہیں نکاح کا حکم فرمایا ، تم اُس کی اِطاعت کرو اُس نے جو غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے پورا فرمائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ اُنہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ ([4]) ٭حضرت عمر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : مجھے ا س شخص پر تَعَجُّب ہوتا ہے جو نکاح کے بغیر غنی ہونے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُنہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ ([5]) ٭مَنْ تَرَكَ التَّزْوِيْجَ مَخَافَۃَ الْعَیْلَةِ فَلَيْسَ مِنَّایعنی جس نے مُفلسی کے خوف سے شادی کو ترک کیا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ([6])  ٭ایک شخص نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہو کر اپنی تنگدستی اور غربت کی شکایت کی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : تم پر لازم ہے کہ شادی کرلو۔ ([7])٭ایک موقع پر ارشاد فرمایا : مسکین ہے مسکین ہے وہ شخص جس کی بیوی نہ ہو ، عرض کی گئی : اگر وہ غنی و مالدار ہوتو(کیا اس صورت میں بھی وہ مسکین ہی ہے؟) ارشاد فرمایا : اگرچہ وہ مالی طور پر غنی ہو ، پھر فرمایا : مسکین ہے مسکین ہے وہ عورت جس کا شوہر نہ ہو ، عرض کی گئی : اگرچہ وہ عورت غنی ہو کثیر مال و دولت والی ہو؟ ارشاد فرمایا : اگرچہ وہ مالدار ہو۔ ([8]) 

 



[1]   مدارک ، پ۱۸ ،  النور ،  تحت الآية :  ۳۲ ،  ص۷۷۹

[2]   مسند الفردوس ، ۱ / ۸۸ ،  حدیث : ۲۸۲

[3]   مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب النکاح ، باب فی التزویج من کان یامر   الخ ،  ۳ / ۲۷۱ ،  حدیث :  ۱۰

[4]   کنز العمال ، کتاب النکاح ، الترغیب فیه ، جزء : ۲ ، ۸ / ۲۰۳ ، حدیث : ۴۵۵۷۶

[5]   خازن ، پ ۱۸ ، النور ،  تحت الآیة :  ۳۲ ،  ۳ / ۳۵۰

[6]   الافصاح عن احادیثِ النکاح ، الحدیث الرابع بعد المائة  ، ۱ / ۱۴۹

[7]   الافصاح عن احادیث النکاح ، الحدیث الحادی عشر ، ۱ / ۴۱

[8]   شعب الایمان ، باب تحریم الفروج ،  ۴ / ۳۸۲ ، حدیث : ۵۴۸۳



Total Pages: 74

Go To