Book Name:Islami Shadi

کر انہی ذرائع سے بلا جھجک ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرلیتے ہیں اور پھر اپنے باہمی تعلُّقات کو کس حد تک لے جاتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، یاد رکھیں !شَہْوت نہ صرف انسان کو انسان سے دَرِنْدہ بنا دیتی ہے بلکہ اُسے انتہائی شرمناک اَفْعال کا اِرتکاب کرنے پر بھی مجبور کر دیتی ہے جس کی وجہ سے انسان ذلیل و رُسوابھی ہوتا ہے اور سچّی توبہ نہ کرنے کی صُورت میں آخرت کے دَرْدْناک عذاب کا حق داربھی بن جاتا ہے۔ آئیے ! شادی کے معاملے میں ٹالم ٹول اور بلا وجہ کی تاخیر سے بچنے کا ذہن بنانے کیلئے ایک ایسے شخص کی داستانِ عبرت مُلاحظہ کیجئے جس نے شَہْوت کے سبب اپنی دُنیا و آخرت برباد ڈالی۔ چنانچہ

شیطان کا مکر و فریب

شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابُو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز کتاب “ پردے کے بارے میں سوال جواب “ کے صفحہ 93پر ایک حکایت نقل فرماتے ہیں : بنی اسرائیل میں ایک بہت بڑا عابد یعنی عبادت گُزار شخص تھا ۔ اُسی عَلاقے کے تین بھائی ایک بار اُس عابِد کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گُزار ہوئے کہ ہمیں سفر درپیش ہے ، واپسی تک اپنی جوان بہن کو ہم آپ کے پاس چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں ۔ عابِدنے خوفِ فِتنہ کے سبب معذرت چاہی مگر اُن کے مُسلسل اِصرار پر وہ تیّار ہو گیا اور کہا کہ میں اپنے ساتھ تو نہیں رکھوں گا کسی قریبی گھر میں اُس کو ٹھہرا دیجئے۔ چُنانچِہ ایسا ہی کیا گیا۔ عابد کھانا اپنے عبادت خانے کے دروازے کے باہر رکھ دیتا اور وہ اُٹھا کر لے جاتی ۔ کچھ دن کے بعد شیطان نے عابد کے دل میں ہمدردی کے انداز میں وَسْوَسہ ڈالا کہ کھانے کے اَوقات میں جوان لڑکی اپنے گھر سے نکل کر آتی ہے کہیں کسی بدکار مرد کے ہتّھے نہ چڑھ جائے ، بہتر یہ ہے کہ اپنے دروازے کے بجائے اُس کے دروازے کے باہر کھانا رکھ دیا جائے ، اِس اچھی نیّت کا کافی ثواب ملے گا۔ چُنانچِہ اُس نے اب کھانا اُس کے دروازے پر پہنچانا شروع کیا ۔ چند روز بعد شیطان نے پھر وَسْوَسے کے ذریعے عابدکا جذبَۂ ہمدردی اُبھارا کہ بے چاری چُپ چاپ اکیلی پڑی رہتی ہے ، آخر اِس کی وحشت دُور کرنے کی اچّھی نیّت کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیا گُناہ ہے! یہ تو کارِ ثواب ہے ، یُوں بھی تم بہت پرہیز گار آدمی ہو ، نَفْس پر حاوی ہو ، نیّت بھی صاف ہے یہ تمہاری بہن کی جگہ ہے۔ چُنانچِہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا ۔ جوان لڑکی کی سُریلی آواز نے عابد کے کانوں میں رَس گھولنا شروع کر دیا ، دل میں ہیجان (جوش)برپا ہوا ، شیطان نے مزید اُکسایا یہاں تک کہ “ نہ ہونے کا ہو گیا “ ۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ شَہْوت کی بدولت بد نصیب عابد اپنے پاس جوان لڑکی کو رکھنے کیلئے تیّارہو گیا اور پھر کھانا اُس کے دروازے تک پہنچانے لگا اور بس یُوں اُس نے شیطان کو صِرف اُنگلی پکڑائی تھی کہ اُس چالباز نے ہاتھ خود ہی پکڑ لیا۔ واقعی شَہْوت مرد و عورت کے دل میں ایک دوسرے کا شوق پیدا کرتی ہے ، جس کی وجہ سے رفتہ رفتہ بات چیت کے سلسلے چل نکلتے ہیں ، یہ  بات چیت آگے چل کر آپس کی ہنسی مذاق اور بے تکلّفی کا رُوپ دَھار لیتی ہے اور پھر یہ  بے تکلّفی کیسی کیسی آفتوں اور گُناہوں میں مبُتلا کرتی ہے اس کا ہر عقلمند اندازہ کر سکتا ہے۔

نکاح کا شَرْعی حکم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے!!اگر شہوت اس حد تک بڑھ جائے کہ نَفْس پر قابو پانا مشکل ہوجائے اور اِرتکابِ گُناہ کا غالب گمان ہو تو شادی کرنا واجب اور یقین ہو تو شادی کرنا فرض ہوجاتا ہے جبکہ نان نفقہ اور ادائیگیِ مہر اور دیگر حُقوق کی ادائیگی کی استطاعت ہو جیساکہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد اَمجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اعتدال کی حالت میں یعنی نہ شہوت کا بہت زیادہ غلبہ ہو نہ عنّین (نامرد) ہو اورمَہر و نفقہ پر قدرت بھی ہو تو نکاح سُنّتِ مؤکدہ ہے کہ نکاح نہ کرنے پر اڑا رہنا  گناہ ہے اور اگر حرام سے بچنا یا اتباعِ سُنّت و تعمیلِ حکم یا اولاد حاصل ہونامقصودہے تو ثواب بھی پائے گا اور اگر محض لذّت یا قضائے شہوت منظور ہو تو ثواب نہیں ۔ شَہْوت کا (اگر اس قدر)  غَلَبہ ہے کہ نکاح نہ کرے تو مَعَاذَ اللہ اندیشۂ زنا ہے اور مہر ونفقہ کی قدرت رکھتا ہو تو نکاح واجب۔ يوہيں جبکہ اجنبی عورت کی طرف نگاہ اُٹھنے سے روک نہیں سکتا یا مَعَاذَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہاتھ سے کام لینا پڑے گا تونکاح واجب ہے (اور اگر صرف اندیشہ نہیں بلکہ)یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہو جائے گا تو فرض ہے کہ نکاح کرے۔ اگر یہ اندیشہ ہے کہ نکاح کریگا تو نان نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں ہیں ان کو



[1]   تلبیس ابلیس  ، التحذیر من فتن ابلیس و مکایدہ ، ص۳۸۔ ۴۰ملخصا



Total Pages: 74

Go To