Book Name:Jannatiyon Ko Sab Say Pehlay Kia Khilaya Jaye Ga

ہیں ان کی باتوں پر ہمارا اِیمان نہیں ہے۔یہ لیڈیز فرسٹ کی، مَرد اور عورت کے شانہ بشانہ چلنے کی بات  کرتے ہیں۔ کیا  یہ اپنی ماں بہنوں کو مَردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی تَرغیب دے رہے ہیں؟ ان کی حیا کہاں چلی گئی؟خُدارا!اِس طرح کی باتوں میں نہ پڑیں اور اپنا یہ ذہن بنائیں کہاللہ پاک اور اس کے رَسُول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے جو فرمایا ہے ہمیں اسی کو ماننا ہے وہی دُرُست ہے اور اسی میں حقیقی نجات ہے۔

مَردوں کو ہاتھ پاؤں پر مہندی لگانا کیوں منع ہے؟

سُوال:مَردوں کو ہاتھ اور پاؤں پر مہندی لگانا کیوں منع ہے اور اس کی دَلیل کیا ہے ؟

جواب:مَرد کے لیے اپنے ہاتھ پاؤں پر مہندی لگانا اِس وجہ سے منع ہے کہ اِس میں عورتوں کی نقالی ہے۔ رہی بات دَلیل کی تو عرض ہے کہ مَرد حضرات بُرقع نہیں پہنتے،چہرے پر نقاب نہیں کرتے اس کی کیا دَلیل ہے؟نیز عورتیں اپنے چہرے پر مہندی کیوں نہیں لگاتیں جبکہ مَرد لگاتے ہیں اس کی کیا دَلیل ہے؟ جو جواب اِن باتوں کا ہے وُہی جواب پوچھی گئی بات کا ہے۔بہرحال مَردوں کو ہاتھ پاؤں پر مہندی لگانا اِس وجہ سے منع ہے کہ یہ عورت کے لیے ہے اور مَرد کو عورت کی نقالی کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے یُوں ہی عورت کو بھی مَرد کی نقالی سے منع کیا گیا ہے۔ ([1])

فاسق کی صحبت سے دُور رہیئے

سُوال:اگر کوئی اِنسان ”جُوا“کھیلے اور منع کرنے کے باوجود اس سے باز نہ آئے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ (دار السلام ٹوبہ سے سُوال)

جواب:ظاہر  ہے ”جُوا“ایک غَلَط کام ہے اس کو غَلَط ہی سمجھنا چاہیے اور اس جواری کی صحبت سے دُور رہنا چاہیے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے( وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸))(پ۷،الانعام:۶۸)ترجمۂ کنز  الایمان:

اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔“جواری اور شرابی وغیرہ بھی ظالموں میں شامل ہیں۔ چنانچہ تفسیراتِ اَحمدیہ میں ہے:ظالم سے مُراد کافر،بَد مذہب اور فاسق قسم کے لوگ ہیں ان کی صحبت میں بیٹھنا منع ہے۔ ([2])

مسجد میں سُوال کرنے والے کو دینے کا وبال

سُوال:خانہ کعبہ یا مدینے شریف میں کوئی ہم سے کسی چیز کا سُوال کرے اور ہم اسے کہہ دیں کہ اللہ بھلا کرے یا اسے  سکوئی چیز دینے سے اِنکار کر دیں تو کیا  ہم گناہ گار ہوں گے؟ (مدینہ پور دُنیا پور سے سُوال)

جواب:اگر کوئی مسجدِ حرام یا مسجدِ نبوی شریف زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں سُوال کرتا ہے تو اسے  کچھ دینے یا نہ دینے کی وُہی صورتیں ہیں جو دِیگر مَساجد میں کسی سائل کو دینے کی ہیں۔جیسے آج کل لوگ مَساجد میں کھڑے ہو کر مانگنا شروع کر دیتے ہیں ایسوں کو دینے سے تو منع کیا گیا ہے،انہیں  دینے کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر کسی نے  مسجد میں ان کو کچھ پیسے دیئے تو اُسے چاہئے کہ  مسجد  سے باہر جا کر ایک روپیہ کا 70 روپیہ بطورِ کفارہ  دے۔ ([3])  

      اگر مسجدِ نبوی شریف زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں اِس طرح پیسے دیئے تو اس کا حکم اور بھی سخت ہو گا پھر یہ مُعاملہ مسجدِ حرام شریف زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں  ہوا تو حکم مزید سخت ہو جائے گا کیونکہ جَواز و عدمِ جَواز(یعنی  جائز اور ناجائز ہونے) کے مَسائل اپنے وطن کے مقابلے میں حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر”اللہ بھلا کرے“ کہنے میں کوئی حَرج نہیں کہ اس کو دُعا دی ہے۔

کیا حَرَمَیْنِ شَرِیْفَیْن کے پہاڑوں پر گھاس اُگنا قیامت کی نشانی ہے؟

سُوال:کیا حَرَمَیْنِ شَرِیْفَیْن کے پہاڑوں پر گھاس کا اُگنا قیامت کی نشانی ہے؟ (یوٹیوب کے ذَریعے سُوال)

جواب:یہ بات ابھی  کی مشہور کردہ ہے ورنہ پہلے بھی وہاں گھاس اُگتی تھی حتّٰی کہ حدیثِ پاک میں اُحُد شریف کی گھاس کھانے کی تَرغیب موجود ہے۔([4])

بلی کے جُوٹھے کا حکم

سُوال:اگر بلی دُودھ میں مُنہ ڈال دے تو وہ دُودھ پینے کے لائق رہے گا یا نہیں؟ (ضلع لیہ سے سُوال)

جواب:بلی کا جُوٹھا کوئی پینا چاہے تو منع نہیں ہے۔بلی کا جُوٹھا پھینکنے کے بجائے  بہتر ہے کہ  بلی ہی کو پلا دیا جائے ۔([5])



[1]    حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رَسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک مُخَنَّث (یعنی ہیجڑا ) حاضر کیاگیا جس نے اپنے ہاتھ اورپاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے ۔ اِرشاد فرمایا:اس کاکیا حال ہے؟ (یعنی اس نے کیوں مہندی لگائی ہے ؟) لوگوں نے عرض کی: یہ عورتوں کی نقل کرتا ہے۔ رَسُولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حکم فرمایا: اسے شہر بد ر کردو۔لہٰذا اس کو شہربد ر کردیا گیا،مدینۂ مُنَوَّرہ سے نکال کر ”نقیع“کو بھیج دیا گیا۔ (ابوداؤد،کتاب الادب،باب فی الحکم فی المخنثین،۴/۳۶۸،حدیث:۴۹۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت ) حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کی مُشابَہت اِختيار کرنے والے مَردوں اور مَردوں کی مُشابَہت اِختيار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری،کتاب اللباس،باب المتشبھون بالنساء والمتشبھات بالرجال ، ۴/۷۳، حدیث: ۵۸۸۵) 

[2]    تفسیرات احمدیه،پ۸، الانعام،تحت الآية:۶۸، ص۳۸۸  پشاور

[3]    فتاویٰ رضویہ،۱۶/۴۱۸ ماخوذاً        

[4]     معجم اوسط،باب الالف،من اسمه احمد، ۱/۵۱۶،حدیث:۱۹۰۵دار الکتب العلمية بيروت

[5]     بلّی کا جوٹھا مکروہِ تنزیہی ہے۔ بہارِ شریعت میں ہے:گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلّی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے۔اچھا پانی ہوتے ہوئے مکروہ پانی سے وُضو و غُسل مکروہ اور اگر اچھا پانی موجود نہیں تو کوئی حَرَج نہیں۔اِسی طرح مکروہ جھوٹے کا کھانا پینا بھی مالدار کو مکروہ ہے۔غریب محتاج کو بِلا کراہت جائز۔ (بہارِ شریعت، ۱/۳۴۳، حصہ:۲ ملتقطاً)



Total Pages: 7

Go To