Book Name:Jab Bulaya Aaqa Nay Khud Hi Intizam Ho Gaye

چڑھانا، دولہے اور دِیگر لوگوں کو ہار پہنانا 100 فىصد جائز ہے لىکن مىں نے اپنی سوچ کے مُطابق کچھ مَدَنى پھول پىش کىے  ۔ قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : (وَ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵)) ۲۷، الذّٰریٰت : ۵۵) ترجمۂ کنزالایمان : ”اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے  ۔ “ اَراکىنِ شُورىٰ بھی اگر مىرى طرح سمجھاتے رہیں گے تو فائدہ ہوگا اور اُمّید ہے کہ ہاروں کی کثرت ختم ہو جائے ۔ ہار پہننے مىں مزہ آتا ہے ۔ جب دُولہے یا کسی شخصیت کو ہار پہنا کر منچ پر بٹھایا جاتا ہے اور  لوگ نعرے لگاتے ہیں  تو اس کا 12 کلو خون بڑھ جاتا ہے ، لیکن اپنی یہ سوچ ہونی چاہیے کہ میری رَقم ایسے کام میں خرچ ہو جس سے میری آخرت اور دِىن کا زىادہ سے زىادہ فائدہ ہو ۔  

مسجد میں ماچس کی تیلی جَلانا کیسا؟

سُوال :  سردىوں مىں ہىٹر چلانے کے لىے کیا مسجد مىں ماچس کی تیلی جَلا سکتے ہىں؟(SMS کے ذَریعے سُوال)

جواب : مسجد مىں ماچس جَلانا جائز نہىں ہے  ۔ ([1]) کىونکہ اس کى تىلى جَلانے سے بَدبو اُڑتى ہے اور مسجد کو بَدبو سے بچانا واجب ہے لہٰذا جس نے کبھى اىسا کىا ہو تو وہ توبہ کرے اور آئندہ ایسا کرنے سے بچے ۔

کسی کا گمشدہ  میموری کارڈ ملے تو مالِک تک کیسے پہنچائیں؟

سُوال :  اگر کسى  کو مىمورى کارڈ ملا، کارڈ میں جس کى تصوىر تھى اس سے پوچھا کہ ىہ مىمورى کارڈ آپ کا ہے ، آپ لے لیں ۔  مگر اس نے صاف اِنکار کر دىا تو اب اس مىمورى کارڈ کا کىا کىا جائے ؟

جواب :  اگر واقعى یہ مىمورى کارڈ اس کا نہىں اور اس وجہ سے وہ لینے سے اِنکار کر رہا ہے تو اب گن پوائنٹ پر واپس دىنا ضَرورى نہىں ہے  ۔ یہ کارڈ  لُقطہ ہے لہٰذا  لُقطے کے اَحکام اس پر آئىں گے  ۔ ([2]) مىمورى کارڈ میں کسی کی تصوىر ہونے سے  لازم نہیں آتا کہ یہ اسی کا ہو کیونکہ لوگ اىک دوسرے کى تصاویر رکھتے ہىں ۔ مىرى تصاوىر ہزاروں مىمورى کارڈز مىں ہوں گى ، اب اگر کوئی  مجھ سے پوچھے کہ یہ مىمورى کارڈ آپ کا ہے تو مىں منع ہى کروں گا کہ مىرا نہىں ہے ۔

کیا عورتوں کا آپس میں ہاتھ ملانا  جائز ہے ؟

سُوال :  عورتوں کا آپس مىں ہاتھ ملانا کىسا ہے ؟

جواب : عورتوں کا آپس مىں ہاتھ ملانا جائز ہے  ۔ ([3])

کیا اُنگلی مِسواک کے قائم مقام ہے ؟

سُوال :  اگر مِسواک نہ ہو تو کىا اُنگلى مِسواک کے قائم مقام ہے ؟

جواب : اُنگلی مِسواک کے قائم مقام ہے  ۔ ([4]) مگر اس کى عادت نہ بنائى جائے  ۔ ([5])

لڑکی رونگ نمبر سے کال اُٹھائے یا نہیں؟

سُوال :  اگر لڑکىوں یا عورتوں  کے پاس رونگ  نمبر سے فون آئے تو انہیں  کىا کرنا چاہىے ؟

جواب : اگر ان  کے پاس رونگ نمبر سے کال آئے تو موقع کى مُناسبت سے کال اُٹھانے کا مُعاملہ دیکھ لیا جائے کىونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے اَبُّو کو کوئى پرىشانى ہو اور ان کے دوست نے فون کىا ہو یا پھر کوئی ضَرورى بات بھائى یابچے کے تعلق سے کرنی ہو ، اس لیے  موقع کى مُناسبت سے کال اٹىنڈ کر لى جائے اور سامنے والے کے اَندازِ گفتگو کو دىکھ کر بات کى جائے ۔

محمد واصِف رضا نام رکھنا کیسا ؟

سُوال :  مىں نے اپنے مَدَنی منے کا اصل نام محمد رکھا ہے اور پکارنے کے لىے واصِف رضا، اب کیا  واصِف رضاسے پہلے محمد لگا سکتا ہوں؟  

جواب : اگر بَرکت کی نىت سے ”محمد“ نام رکھا تو بہت فضىلت والا کام کىا  ۔ واصِف رضا کا معنىٰ ہے :  رضا کى تعرىف کرنے والا ۔ اب  ىہاں ىہ دىکھا جائے گا کہ محمد ، رضا کى تعرىف کرتے ہىں ، اِس لىے اِحتىاط اِسى مىں ہے کہ واصِف رضا الگ سے پکارا جائے ۔ محمد واصِف رضا نہ کہنا مناسب ہے اور اگر کہا تو کوئى حرج یا گناہ بھی نہىں ہے ۔

جھوٹ کی تباہ کاریاں کتاب کب شائع ہوگی؟

سُوال :  جھوٹ کى تباہ کارىاں کتاب کب تک آئے گى؟ (سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)

 



[1]    فتاویٰ رضویہ، ۱۶ / ۲۳۲ 

[2]    صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : پڑا ہو ا مال کہیں ملا اور یہ خیال ہو کہ ميں اس کے مالک کو تلاش کر کے دیدوں گا تو اُٹھا لینا مستحب ہے اور اگر اندیشہ ہوکہ شاید ميں خود ہی رکھ لوں اور مالک کو نہ تلاش کروں تو چھوڑ دینا بہتر ہے اور اگر ظنِّ غالب(یعنی غالب گمان ) ہو کہ مالک کو نہ دونگا تو اُٹھا نا  نا جائز ہے اور اپنے لیے اُٹھانا حرام ہے اور اس صورت ميں بمنزلہ غصب کے ہے (غصب کرنے کی طرح ہے )اور اگر یہ ظَنِّ غالب ہو کہ ميں نہ اُٹھاؤں گا تو یہ چیز ضائع و ہلاک ہو جائے گی تو اُٹھا لینا ضَرور ہے لیکن اگر نہ اٹھاوے اور ضائع ہو جائے تو اس پر تاوان نہیں ۔ لقطہ کو اپنے تَصَرُّف(اِستعمال)ميں لانے کے ليے اُٹھا یا پھر نادم ہوا کہ مجھے ایسا کرنا نہ چاہیے اور جہاں سے لایا وہیں رکھ آیا تو بری الذمہ نہ ہوگا یعنی اگر ضائع ہوگیا تو تاوان دینا پڑے گا بلکہ اب اس پر لازم ہے کہ مالک کو تلاش کرے اور اُس کے حوالہ کر دے اور اگر مالک کو دینے کے ليے لایا تھا پھر جہاں سے لایا تھا رکھ آیا تو تاوان نہیں ۔  (بہارِشَریعت، ۲ / ۴۷۳-۴۷۴)

[3]    جنتی زیور، ص۹۹مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[4]    درمختار، کتاب الطھارة، ارکان الوضوء اربعة، ۱ / ۲۵۳ 

[5]    مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے رسالے ”مسواک شریف کے فضائل“کا مطالعہ کیجیے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)



Total Pages: 8

Go To