Book Name:Jab Bulaya Aaqa Nay Khud Hi Intizam Ho Gaye

سُوال : جن کا  مَدَنی اِنعامات پر عمل نہ ہو اور نہ ہی ان کے پاس رَختِ سفر ہو وہ چل مدینہ کیسے ہو سکتے ہیں؟

اچھوں کے خرىدار تو ہر جا  پہ  ہىں مُرشد                            بَدکار کہاں جائىں جو تم بھى نہ نبھاؤ

جواب : یہ واقعی جَذبہ ہے ، اِس مُطالبے پر تو پابندی نہیں لگائی جا سکتی ۔ ہاں!یہ لوگ گورنمنٹ کے اس اِدارے کے باہر  جا کر بیٹھ جائیں جہاں حج کے فارم بھرے جا رہے ہوتے ہیں، وہاں جا کر لائن میں لگے رہیں ۔  نہ ان کو فارم بھرنا آئے اور  نہ ہی فارم خریدنے کے پیسے ہوں مگر ان کو مدینے جانا ہو تو اُمّید ہے کہ  گورنمنٹ ایسا کرنے پر انہیں جیل میں نہیں ڈالے گی  بلکہ لوگ ہنس کر ان کی پیٹھ تھپک دیں گے اور تسلیاں دے کر انہیں واپس کر دیں گے ، ایسا ہی یہاں پر بھی ہے ۔

کیا اب مسلمان اپنی تَدفین کی وَصیت بھی  کرے ؟  

سُوال :  گزشتہ دِنوں بَرطانىہ مىں اىک مسلمان گھرانے مىں عجىب اِختلاف ہوا ۔ والد کے مَرنے پر اىک بىٹے نے کہا کہ والد صاحب کو دَفناىا جائے اور دوسرے بىٹے نے کہا کہ والد صاحب کو جَلاىا جائے تو اىسى صورت مىں کىا اب ىہ بھى وَصىت کرنا پڑے گى کہ مىرى تَدفىن کى جائے ، اِس حوالے سے راہ نمائى فرما دىجیے ۔

جواب : مسلمان کا اپنی تَدفین کے لیے وَصىت کرنا ضَرورى نہىں ہے اس لیے کہ یہ Understood (طے شُدہ) ہے کہ مسلمان کو دَفن کىا جاتا ہے لیکن سوشل مىڈىا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں حیرت انگىز طور پر ایک شخص اِصرار کر رہا ہے کہ لاش کو جَلانا ہے ۔  گھرانا مسلمانوں کا اور مَرنے والا بھى بے چارہ مسلمان  مگر بیٹا جَلانے پر اِصرار کر رہا ہے ۔ اگرچہ باقی بىٹے اس سے متفق نہىں تھے اور جب  لوگوں نے  اس بیٹے کو سمجھایا تو  آخر کار اُس نے بھی دَفنانے کی اِجازت دے دی اور مَرنے والے کو مسلمانوں کے قبرستان میں ہی دَفنایا گیا ۔  بہرحال یہاں اِجازت کی حاجت نہیں تھی کیونکہ مسلمانوں کو دَفنانے کا حکم شرىعت نے دىا ہے  ۔ تَدفىن ىعنى مسلمان کو دَفن کرنا ہی فرض ہے  ۔ ([1])جَلا دىنا اور  پھىنک دىنا وغیرہ وغیرہ باتوں میں سے کچھ بھی جائز نہىں ۔  تَدفین مىں کسی قسم کا کوئى اِختلاف بھى نہىں  لیکن عِلم اور معلومات کى کمى کى  وجہ سے اىسا واقعہ کبھى ہو جاتا ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نىکى کى دعوت“ مىں بھى اِس طرح کا ایک واقعہ لکھا ہوا ہے جو مجھے (مَرحوم رُکنِ شُوریٰ)حاجى زَم زَم رضا نے بتاىا تھا چنانچہ

مسلمان باپ کی لاش جَلانے کی تیاری کرنے والا نوجوان

       بابُ الاسلام سندھ کا واقعہ ہے کہ ایک دُنیوی پڑھے لکھے ماڈرن گھرانے کے شخص کا اِنتقال ہو گىا ۔ اس کا بىٹا بڑی بے تابی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے اُٹھا کہ مىں لکڑىاں لینے جا رہا ہوں  ۔ پوچھا  : بھئى! لکڑىاں کىوں لا رہے ہو ؟بولا  : ابھى اَبُّو کو جَلائىں  گے ۔  اسے  سمجھاىا گیا اور پھر تَدفىن کى ہى تَرکىب بنائی گئی ۔ ممکن ہے کہ وہ بیٹا اىسے لوگوں کى صحبت مىں بىٹھتا ہوگا جو اپنے مُردے جَلاتے ہىں تو اس نے ان کا اَثر لے لىا ۔  یہ بَرطانیہ والا واقعہ تو سوشل مىڈىا کے ذَریعے منظرِ عام پر آگیا ورنہ تو دُنیا بھر میں نہ جانے اور کیا کچھ مَىِّت کے ساتھ کرتے ہوں گے  ۔ بہرحال دَفنانے کی وَصیت کرنا ضَروری نہیں لیکن اتنا ضَرور کرنا چاہیے کہ اپنى اولاد کو دِىن سکھائىں ، سُنَّتوں بھرے مَدَنى ماحول مىں ان  کو لائىں ، عُلَما کے قرىب کرىں ، مَساجد کا راستہ دِکھائىں ۔  جب بچہ نمازىں پڑھے گا اور  عاشقانِ رَسُول کى صحبت مىں وقت گزارے گا تو پھر اىسى صورتىں نہىں بنىں گى ۔ دعوتِ اسلامى کے مَدَنى ماحول سے وابستہ رہىں گے تو  اس کے عِلاوہ بھى بہت کچھ سىکھنے کو ملتا رہے گا اور اِنْ شَآءَاللّٰہ  دِل کى صفائى، آخرت کى تىارى اور جنَّت کى راہ بھی  ہموار ہوتى رہے گى ۔    

کیا جھوٹ بولنے سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے ؟

سُوال  : کیا جھوٹ بولنے سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے ؟

جواب : جھوٹ بولنے سے وُضو نہىں ٹوٹتا لیکن  بہتر ہے کہ دوبارہ وُضو کرلیا جائے  ۔ ([2])

قبرستان میں بنائے گئے  نئے راستے پر چلنا

سُوال : قبروں کے بیچ میں جو راستہ بنا ہوتا ہے ، اس راستے سے گزر کر اپنے والد ىا قرىبى رِشتہ دار  کى قبر پر جا سکتے ہیں ؟

جواب : مسلمان کى قبر پر پاؤں رکھنا حرام ہے  ۔ یُوں ہی قبرىں مِٹا کر بنائے ہوئے نئے راستے پر سے  چل کر جانا بھى حرام  ہے  ۔ ([3]) جس راستے کے بارے مىں شک ہو کہ ىہ قبرىں مِٹا کر بناىا گىا ہوگا تو اس پر بھى چلنا حرام ہے  ۔ ([4]) ہمارے یہاں قبرستانوں مىں بے ترتىب قبریں ہوتى ہىں  ۔ اب اگر بندے کو شک ہے کہ ىہاں پہلے قبرىں ہوں گى اور ىہ راستہ ان کے اوپر نکالا گیا ہوگا تو اس پر  چلنا حرام ہوگا ۔ اگر شک نہىں بلکہ پکی معلومات ہیں کہ ىہاں واقعى کوئى قبر نہىں مِٹائی گئی ، شروع سے ہی راستے کے لیے جگہ چھوڑى گئى تھى تو اب اس پر چلنے میں کوئى حَرج نہىں ہے ۔

جہیز میں کون سی کتاب دی جائے ؟

سُوال  :  بہن کو جہىز مىں کون سى کتاب دى جائے ؟

جواب : سُبْحٰن اللہ! بہن کو جہىز مىں تفسیر”صِراطُ الْجِنَان“کى 10جِلدىں دے دیجیے ۔ قرآنِ کرىم کى تفسىر  گھر مىں رکھی رہے گی جب بھى بَرکتىں لُٹاتى رہے گی ۔  اس مىں اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کا ترجمۂ قرآن کنزالاىمان بھى ہے ۔ اگر خرچہ کم کرنا چاہىں تو پھر بہارِ شرىعت دی جا سکتی ہے یا پھر ترجمۂ  قرآن کنزالاىمان مَع خزائنُ العرفان اىک ہى



[1]    درمختار، کتاب الصلوة، باب الجنازة ، ۳ /  ۱۶۳ دار المعرفة بیروت

[2]    بحر الرائق، کتاب الطھارة، ۱ / ۳۴ کوئه

[3]    فتاویٰ رضویہ، ۸ / ۱۱۳ ماخوذاً رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور

[4]    ردالمحتار، کتاب الطھارة، باب الانجاس، فصل فی الاستنجاء، ۱ / ۶۱۲ دار المعرفة بیروت 



Total Pages: 8

Go To