Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

علامہ احمد سخاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں   : اس آیت کریمہ کے فوائد میں  سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آدمی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قبر انور کے پاس کھڑے ہو کر یہ آیت پڑھے :

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

ترجمۂکنزُالعِرفان :  بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پردُرودبھیجتے ہیں  ۔  اے ایمان والو! ان پر دُرود اور خوب سلام بھیجو ۔

پھر کہے :  ’’صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدْ‘‘ یہاں  تک کہ سَتّر مرتبہ یہی کہتا چلا جائے تو فرشتہ اسے پکارتا ہے :  ’’صَلَّی اللہُ عَلَیْکْ‘‘ اے فلاں  ! تیری کوئی حاجت پوری ہوئے بغیر نہ رہے گی ۔ (القول البدیع، نبذة یسیرة من فوائد قوله تعالی :  انّ اللّٰه وملائکته یصلّون علی النبی الخ، ص۸۷)

طیبہ کے ماہِ تمام جملہ رُسل کے امام                                       نوشہِ ملکِ خدا تم پہ کروڑوں  درود

تم سے جہاں  کا نظام تم پہ کروڑوں  سلام                                               تم پہ کروڑوں  ثنا تم پہ کروڑوں  درود

تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم                                                     بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں  درود

خلق کے حاکم ہو تم رزق کے قاسم ہو تم                                              تم سے ملا جو ملا تم پہ کروڑوں  درود

نافع و دافع ہو تم شافع و رافع ہو تم                                                      تم سے بس افزوں  خدا تم پہ کروڑوں  درود

شافی و نافی ہو تم کافی و وافی ہو تم                                                         درد کو کردو دوا تم پہ کروڑوں  درود

نوٹ : درود پاک کے فضائل، فوائد، آداب اور اس سے متعلق دیگر چیزوں  کی معلومات حاصل کرنے کے لئے راقم(مفتی قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ) کی کتاب ’’رحمتوں  کی برسات‘‘ کا مطالعہ فرمائیں  ۔

(65)

مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے طرزِ عمل سے بچنے کی نصیحت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْاؕ-وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ(۶۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو!ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں  نے موسیٰ کو ستایا تو اللہ نے موسیٰ کااس شے سے بری ہونا دکھادیا جو انہوں  نے کہا تھا اور موسیٰ اللہ کے ہاں  بڑی وجاہت والا ہے ۔ (الاحزاب : ۶۹)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى :  اے ایمان والو!ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں  نے موسیٰ کو ستایا ۔ ) سورت کی ابتداء سے لے کریہاں  تک منافقین کی اَنواع واَقسام کی ایذاؤں  کاذکرتھا اور اب یہاں  سے بنی اسرائیل کے طرزِ عمل کی طرف اشارہ کر کے مسلمانوں  کو اس سے بچنے کی تنبیہ کی جا رہی ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو! نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام بجالاؤ اورکوئی ایسی بات نہ کہنا اور نہ کوئی ایساکام کرنا جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے رنج و ملال کا باعث ہو اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ستایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کااس سے بری ہونا دکھا دیا جو انہوں  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  کہا تھا ۔  ( قرطبی، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۶۹، ۷ / ۱۸۴، الجزء الرابع عشر، تفسیر طبری، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۶۹، ۱۰ / ۳۳۶، ملتقطاً)

            یہاں  اس آیت سے متعلق دو باتیں  یاد رہیں :

(1)…یہ ضرور ی نہیں  کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے کوئی ایسا کام سرزد ہوا ہو جس سے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اَذِیَّت پہنچی تھی اور اس پر انہیں  یہاں  آیت میں  تنبیہ کی گئی، بلکہ عین ممکن ہے کہ آئندہ ایسے کام سے بچانے کے لئے پیش بندی کے طور پر انہیں  تنبیہ کی گئی ہو ۔ اَحادیث میں  جو بعض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا واقعہ منقول ہے اُس کا مَحمل بھی یہی ہے کہ اُس وقت ان کی اِس بات کی طرف توجہ نہ ہوئی ہو گی کہ یہ کلمہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے ایذا کا باعث ہے کیونکہ کسی صحابی سے ایسا ممکن نہیں  کہ وہ جان بوجھ کر تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا پہنچائیں  اور جتنے واقعات جان بوجھ کر ایذا پہنچانے کے ہیں  وہ سب منافقین کے ہیں  ۔

(2)…بنی اسرائیل نے کیا کہہ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ستایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بری ہونا کس طرح دکھا یا تھا، اس سے متعلق مفسرین نے مختلف واقعات ذکر کئے ہیں  جن میں  سے ایک یہ ہے کہ جب حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وفات پاگئے توبنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا :  آپ نے ان کوقتل کیاہے اوروہ آپ کی بہ نسبت ہم سے زیادہ محبت کرنے والے تھے اورآپ کی بہ نسبت زیادہ نرم مزاج تھے ۔  بنی اسرائیل نے ان باتوں  سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواذیت پہنچائی تواللہ تعالیٰ نے فرشتوں  کوحکم دیا، وہ حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جسم مبارک اٹھاکرلائے اوران کی وفات کی خبردی ۔  



Total Pages: 97

Go To