Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

دوسروں کے گھروں میں جانے کے آداب اور احکام

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۲۷)فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْۚ-وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ(۲۸) لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ(۲۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان میں رہنے والوںپر سلام نہ کرلو ۔  یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت مان لو ۔ پھر اگرتم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤتو بھی ان میں داخل نہ ہو نا جب تک تمہیں اجازت نہ دیدی جائے اور اگر تمہیں کہا جائے ’’واپس لوٹ جاؤ ‘‘تو تم واپس لوٹ جاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جاننے والا ہے ۔ اس بارے میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی رہائش نہیں جن میں تمہیں نفع اُٹھانے کا اختیار ہے اور اللہ جانتا ہے جوتم ظاہر کرتے ہواور جو تم چھپاتے ہو ۔ (النور : ۲۷-۲۹)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اے ایمان والو!) اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے دوسروں کے گھروں میں جانے کے آداب اور احکام بیان فرمائے ہیں ۔  شانِ نزول :  حضرت عدی بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت نے بارگاہ ِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں عرض کی :  یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اپنے گھر میں میری حالت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ میں نہیں چاہتی کہ کوئی مجھے اس حالت میں دیکھے ، چاہے وہ میرے والد یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو اورمیری اسی حالت میں گھر میں مردوں کا آنا جانا رہتا ہے تو میں کیا کروں؟ ا س پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی ۔ (تفسیرطبری، النور، تحت الاٰية :  ۲۷، ۹ / ۲۹۷)

دوسروں کے گھر جانے سے متعلق 3شرعی احکام :

            یہاں اس آیت کے حوالے سے 3 شرعی احکام ملاحظہ ہوں :

(1)…اس آیت سے ثابت ہوا کہ غیر کے گھرمیں کوئی بے اجازت داخل نہ ہو ۔  اجازت لینے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ بلند آواز سے سُبْحَانَ اللّٰہ یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یا اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہے ، یا کَھنکارے جس سے مکان والوں کو معلوم ہوجائے کہ کوئی آنا چاہتا ہے (اور یہ سب کام اجازت لینے کے طور پر ہوں) یا یہ کہے کہ کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ۔  غیر کے گھر سے وہ گھر مراد ہے جس میں غیر رہتا ہو خواہ وہ اس کا مالک ہو یا نہ ہو ۔ (روح البیان، النور، تحت الاٰية :  ۲۷، ۶ / ۱۳۷، ملخصاً)

(2)…غیر کے گھر جانے والے کی اگر صاحبِ مکان سے پہلے ہی ملاقات ہوجائے توپہلے سلام کرے پھر اجازت چاہے اور اگر وہ مکان کے اندر ہو تو سلام کے ساتھ اجازت لے اور اس طرح کہے :  السلام علیکم، کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ۔  حدیث شریف میں ہے کہ سلام کو کلام پر مُقَدَّم کرو ۔

(ترمذی، کتاب الاستئذان والاٰداب عن رسول اللّٰه، باب ما جاء فی السلام قبل الکلام، ۴ / ۳۲۱، الحدیث :  ۲۷۰۸)

(3)…اگر دروازے کے سامنے کھڑے ہونے میں بے پردگی کا اندیشہ ہو تو دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہو کر اجازت طلب کرے ۔  حدیث شریف میں ہے اگرگھرمیں ماں ہوجب بھی اجازت طلب کرے ۔ (موطا امام مالک، کتاب الاستئذان، باب الاستئذان، ۲ / ۴۴۶، الحدیث :  ۱۸۴۷)

( فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا :  پھر اگرتم ان گھروںمیں کسی کو نہ پاؤ ۔)یعنی اگرمکان میں اجازت دینے والا موجود نہ ہو تو بھی ان میں داخل نہ ہو ناجب تک تمہیں اجازت نہ دیدی جائے کیونکہ غیر کی مِلک میں تَصَرُّف کرنے کے لئے اس کی رضا مندی ضروری ہے ۔  اور اگر مکان میں اجازت دینے والا موجود ہو اور وہ تمہیں کہے کہ ’’واپس لوٹ جاؤ ‘‘تو تم واپس لوٹ جاؤ اور اجازت طلب کرنے میں اصرار اور منت سماجت نہ کرو ۔

کسی کا دروازہ بجانے سے متعلق دو اہم باتیں :

جب بھی کسی کے گھر جائیں تودروازہ بجانے سے پہلے دو باتوں کا ضرور لحاظ رکھیں :

(1)… کسی کا دروازہ بہت زور سے کھٹ کھٹانا اور شدید آواز سے چیخنا خاص کر علماء اور بزرگوں کے دروازوں پر ایسا کرنا اوران کو زُور سے پکارنا مکرو ہ و خلافِ ادب ہے ۔ (مدارک، النور، تحت الاٰیة :  ۲۸، ص۷۷۶) لہٰذا درمیانے انداز میں دروازہ بجائیں اور آواز دینے کی ضرورت ہو تو درمیانی آواز سے پکاریں، یونہی جس کے گھر پہ بیل لگی ہو تو ایسا نہ کریں کہ بٹن پر ہاتھ رکھ کر ہی کھڑے ہو جائیں اور جب تک دروازہ کُھل نہ جائے اس سے ہاتھ نہ ہٹائیں بلکہ ایک بار بٹن دباکر کچھ دیر انتظار کریں، اگر دروازہ نہ کھلے تو دوبارہ بجا لیں، کچھ دیر انتظار کے بعد پھر بجا لیں، اگر تیسری بار بجانے کے بعد بھی جواب نہ ملے تو کسی شدید مجبوری اور ضرورت کے بغیر چوتھی بار نہ بجائیں بلکہ واپس چلے جائیں اور کسی دوسرے وقت میں ملاقات کر لیں ۔ نیز یہاں یہ بھی یاد رہے کہ تین مرتبہ تک دروازہ بجانے یا گھنٹی بجانے کی اجازت ہے ، کوئی واجب نہیں لہٰذا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دو یا ایک مرتبہ دروازہ بجانے پر اگر کوئی دروازہ نہ کھولے تو واپس چلے جائیں ۔

(2)…جب کسی کا دروازہ بجائیں اور اندر سے پوچھا جائے کہ کون ہے تو ا س کے جواب میں یہ نہ کہیں کہ میں ہوں، بلکہ اپنا نام بتائیں تاکہ پوچھنے والا آپ کو پہچان سکے ۔ حضرت



Total Pages: 97

Go To