Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے روزے رکھو کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے ۔  میں نے عرض کی  : اے اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے پیارے نبی! حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کے روزے کس طرح تھے ؟ ارشاد فرمایا : ’’وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔  اور فرمایا : ’’ہر ماہ میں ایک قرآنِ پاک ختم کیا کرو ۔  میں نے عرض کی :  یارسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں ۔  ارشاد فرمایا : ’’ پھر بیس دن میں ایک قرآنِ پاک ختم کر لو ۔  میں نے عرض کی :  میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ارشاد فرمایا : ’’پھر دس دن میں ایک  قرآنِ پاک ختم کر لو ۔ میں نے عرض کی :  میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں ۔  ارشاد فرمایا : ’’پھر سات دن میں قرآنِ پاک ختم کر لو اور اس سے زیادہ اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو کیونکہ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ، تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے ۔ ( مسلم، کتاب الصیام، باب النهی عن صوم الدهر الخ، ص۵۸۵، الحدیث :  ۱۸۲(۱۱۵۹))

حلال چیزوں کو ترک کرنے کاشرعی حکم  :

            حلال چیزوں کو ترک کرنا جائز ہوتا ہے کہ ان کا کرنا کوئی فرض و واجب نہیں ہوتا لیکن جس طرح حرام کو گناہ و نافرمانی سمجھ کر ترک کیا جاتا ہے اس طرح حلال چیزوں کو ترک کرنے کی اجازت نہیں ۔  نیز کسی حلال چیز کے متعلق بطورِ مبالغہ یہ کہنے کی اجازت نہیں کہ ہم نے اس کو اپنے اُوپر حرام کرلیا ہے ۔  صوفیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے جو بہت سی چیزوں کو ترک کرنے کے واقعات ملتے ہیں وہ بطورِ علاج ہیں یعنی جس طرح بیمار آدمی بہت سی غذاؤں کو حلال سمجھنے کے باوجود اپنی صحت کی خاطر پرہیز کرتے ہوئے کئی چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اسی طرح صوفیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ نفس کے علاج کیلئے بعض حلال چیزوں کو حلال سمجھنے کے باوجود ترک کردیتے ہیں ، لیکن اس میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ حلال چیزوں کو ترک کرنے کی اجازت تو ہے لیکن یہ اجازت نہیں کہ ان کے ساتھ حرام جیسا سلوک کیا جائے ۔

حلال چیزوں کو حرام قرار دینے کے بارے میں ایک اہم مسئلہ :

            اس آیت ِ مبارکہ میں پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینے سے منع فرمایا، اس سے ان لوگوں کو بھی عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جو مقبولانِ بارگاہ ِ الٰہی کی طرف منسوب ہر چیز پر حرام کے فتوے دینے پر لگے رہتے ہیں اور ہرچیز میں انہیں شرک ہی سوجھتاہے ۔

)38(

چار ناپاک شیطانی کام

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ ۔ (المآئدة : ۹۰)

) رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ : ناپاک شیطانی کام ہیں ۔( اس آیتِ مبارکہ میں چار چیزوں کے نجاست و خباثت اور ان کا شیطانی کام ہونے کے بارے میں بیان فرمایا اور ان سے بچنے کا حکم دیاگیا ہے ۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں : (1) شراب ۔  (2) جوا  ۔ (3) اَنصاب یعنی بت  ۔ (4) اَزلام یعنی پانسے ڈالنا ۔  ہم یہاں بالترتیب ان چاروں چیزوں کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہیں :

(1)شراب ۔  صدرُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : شراب پینا حرام ہے اور ا س کی وجہ سے بہت سے گناہ پیدا ہوتے ہیں، لہذا اگر اس کو معاصی (یعنی گناہوں ) اور بے حیائیوں کی اصل کہا جائے تو بجا ہے ۔ ( بہار ِشریعت، حصہ نہم، شراب پینے کی حد کا بیان، ۲ / ۳۸۵)

حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ شراب ہرگز نہ پیو کہ یہ ہر بدکاری کی اصل ہے ۔  (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث معاذ بن جبل، ۸ / ۲۴۹، الحدیث :  ۲۲۱۳۶)

شراب پینے کی وعیدیں  :

             احادیث میں شراب پینے کی انتہائی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ، ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :

(1)حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت کی :  (1) شراب بنانے والے پر ۔  (2) شراب بنوانے والے پر ۔  (3) شراب پینے والے پر ۔  (4) شراب اٹھانے والے پر ۔  (5) جس کے پاس شراب اٹھا کر لائی گئی اس پر ۔  (6) شراب پلانے والے پر ۔  (7) شراب بیچنے والے پر ۔  (8) شراب کی قیمت کھانے والے پر ۔  (9) شراب خریدنے والے پر ۔  (10) جس کے لئے شراب خریدی گئی اس پر ۔  (ترمذی، کتاب البیوع، باب النهی ان یتخذ الخمر خلًا، ۳ / ۴۷، الحدیث :  ۱۲۹۹)

(2)حضرت ابومالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور ا س کا نام بدل کر کچھ اور رکھیں گے ، ان کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی ۔  اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور



Total Pages: 97

Go To