Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرو بھلائی اور پرہیزگاری پر ۔

            کیوں صاحب! اگرغیر خدا سے مددلینی مطلقاً محال ہے تو اس حکم الٰہی کا حاصل کیا، اور اگر ممکن ہو تو جس سے مدد مل سکتی ہے اس سے مدد مانگنے میں کیا زہرگھل گیا ۔  حدیثوں کی تو گنتی ہی نہیں بکثرت احادیث میں صاف صاف حکم ہے کہ (۱) صبح کی عبادت سے استعانت کرو ۔ (۲) شام کی عبادت سے استعانت کرو ۔ (۳)کچھ رات رہے کی عبادت سے استعانت کرو ۔  (۴) علم کے لکھنے سے استعانت کرو  ۔ (۵) سحری کے کھانے سے استعانت کرو ۔ (۶) دوپہر کے سونے سے استعانت و صدقہ سے استعانت کرو ۔ (۷) حاجت روائیوں میں حاجتیں چھپانے سے استعانت کرو ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۱ / ۳۰۵-۳۰۶)

مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 21ویں جلد میں موجود رسالہ’’بَرَکَاتُ الْاِمْدَادْ  لِاَہْلِ الْاِسْتِمْدَادْ‘‘  کا مطالعہ فرمائیں ۔

(03)

حلال رزق کھانے اور اللہ تعالٰی  کا شکر ادا کرنے کا حکم

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ(۱۷۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤاور اللہ  کا شکر ادا کرواگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو ۔ (البقرۃ : ۱۷۲)

) وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ : اور اللہ  کا شکر ادا کرو ۔ (اللہ تعالیٰ نے ہمیں کھانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ کئی مقامات پررزقِ الٰہی کھانے کا بیان کیا، جیسے سورۂ بقرہ آیت168، سورۂ مائدہ87 ، 88، سورۂ اعراف آیت31، 32اورسورۂ نحل آیت 114وغیرہ  ۔  الغرض اس طرح کے بیسیوں مقامات ہیں جہاں رزقِ الٰہی سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دی گئی ہے ۔  صرف یہ شرط لگائی ہے کہ حرام چیزیں نہ کھاؤ، حرام ذریعے سے حاصل کرکے نہ کھاؤ، کھا کر غافل نہ ہوجاؤ، یہ چیزیں تمہیں اطاعت ِ الٰہی سے دور نہ کردیں ، کھا پی کر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا شکر ادا کرو ۔  چنانچہ فرمایا :  اور اللہ  کا شکر ادا کرواگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو ۔

(04)

قصاص کی فرضیت اوردیت کے چند احکام

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰىؕ-اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰىؕ-فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍؕ-ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌؕ-فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۷۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کے خون کا بدلہ لینا فرض کردیا گیا، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دیدی جائے تو اچھے طریقے سے مطالبہ ہو اور وارث کو اچھے طریقے سے ادائیگی ہو ۔  یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے  ۔  تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔ (البقرۃ : ۱۷۸)

( كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰىؕ- :  تم پر مقتولوں کے خون کا بدلہ لینا فرض کردیا گیا ۔ ) یہ آیت اَوس اور خَزرج کے بارے میں نازل ہوئی ، ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے سے قوت، تعداد، مال و شرف میں زیادہ تھا ۔  اُس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے غلام کے بدلے دوسرے قبیلہ کے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو اور ایک کے بدلے دو کو قتل کرے گا، زمانہ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی زیادتیوں کے عادی تھے ۔  عہد اسلام میں یہ معاملہ حضور سید الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں پیش ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اور عدل و مساوات کا حکم دیا گیا  ۔ ا س پر وہ لوگ راضی ہوئے ۔ (جمل، البقرة، تحت الاٰية :  ۱۷۸ ، ۱ / ۲۱۳)

            قرآن کریم میں قصاص کا مسئلہ کئی آیتوں میں بیان ہوا ہے ، اس آیت میں قصاص اور معافی دونوں مسئلے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا بیان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو قصاص اورمعافی میں اختیار دیا ہے ۔ اس آیت ِ مبارکہ اور اس کے شانِ نزول سے اسلام کی نظر میں خونِ انسان کی حرمت کا بھی علم ہوتا ہے ۔

            خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قتلِ عمد کی صورت میں قاتل پر قصاص واجب ہے خواہ اس نے آزاد کو قتل کیا ہو یا غلام کو، مرد کو قتل کیا ہو یا عورت کو کیونکہ آیت میں ’’ قَتْلٰى‘‘ کا لفظ جو قتیل کی جمع ہے وہ سب کو شامل ہے ۔  البتہ کچھ افراد اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کی تفصیل فقہی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے ۔  نیز اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو قتل کرے گا وہی قتل کیا جائے گاخواہ آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت اور زمانۂ جاہلیت کی طرح نہیں کیا جائے گا ، ان میں رائج تھا کہ آزادوں میں لڑائی ہوتی تو وہ ایک کے بدلے دو کو قتل کرتے ، غلاموں میں ہوتی تو بجائے غلام کے آزاد کو مارتے ، عورتوں میں ہوتی تو عورت کے بدلے مرد کو قتل کرتے اور محض قاتل کے قتل پر اکتفا نہ کرتے بلکہ بعض اوقات بہت بڑی تعداد میں قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رکھتے ۔  ان سب چیزوں سے منع کردیا گیا  ۔

( فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ :  تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دیدی جائے ۔) اس کا معنی یہ ہے کہ جس قاتل کو مقتول کے اولیاء کچھ معاف کریں جیسے مال کے بدلے معاف کرنے کا کہیں تو یہاں قاتل اور اولیاءِ مقتول دونوں کو اچھا طریقہ اختیار کرنے کا فرمایا گیا ہے ۔  مقتول کے اولیاء سے فرمایا کہ اچھے انداز میں مطالبہ کریں ،



Total Pages: 97

Go To