Book Name:Bachon Ki Zid Khatam Karnay Ka Wazifa

سِلسِلہ ہو یہ کرنے بھی نہیں چاہئیں ۔  

عُموماً بابا جی قسم کے لو گ اِس طرح کی مَنازل طے کرواتے ہیں، یہ پورا ایک بزنس والا سِلسِلہ ہوتا ہے ۔  اِسی میں اَثرات کا عِلاج، جنات کو پکڑنا  اور جادو کا توڑ وغیرہ ہوتا ہے ، اِس طرح یہ لوگ خوب کماتے اور موج کرتے ہیں ۔ نیز اَحادیثِ مُبارَکہ میں جو زیادہ مِقدار میں پڑھنے والے اَوراد کا ذِکر ہوتا ہے کہ اتنی بار پڑھے جائیں تو یہ ہو گا تو ان میں بھی اپنے پیر صاحب سے مُشاورت کر لی جائے ، اگر وہ اِجازت دیں تو ہی پڑھیں کہ اپنی مَرضی سے پڑھنے والے آزمائش میں آجاتے ہیں ۔  اگر پیر صاحب منع کر دیں تو دَلائل کے ذَریعے اپنا مؤقف مَنوانے کی کوشش کرنے کے بجائے  یہ حُسنِ ظَن رکھیں کہ پیر صاحب ہمارا بھلا  چاہتے ہیں اور یہ حُسنِ ظَن رکھنا ضَروری بھی ہے ۔ اس کے بَرعکس خواہ مخواہ ضِد کریں گے تو پیر صاحب ہاں کر دیں گے پھر آپ خود ہی آزمائش میں آ جائیں گے ۔  

جِن قابو کرنا مہنگا پڑگیا

ایک حِکایت ہے کہ کسی پیر صاحب کے پاس ایک شخص آ کر بولا مجھے جِن قابو کرنا ہے ، پیر صاحب نے منع فرما دیا  ۔ وہ بولا :  نہیں مجھے جن قابو کرنا ہے ۔  پیر صاحب نے پھر وہی کہا کہ نہیں بیٹا ۔  وہ پھر بولا کہ مجھے یہ کام  کرنا ہے ۔ پیر صاحب نے کہا : ٹھیک ہے ایک جن تیرے قابو میں دیا ۔ اب جن نے اس  مُرید سے کہا :  مجھے کام دو ۔  اس نے جن کو عمارت بنانے کا کام دے دیا ۔   جن نے فوراً عمارت تعمیر کر دی ۔  پھر فارغ ہو کر کہا :  مجھے اور کام دو ۔  اس نے کھانے پکانے کا کہا ۔  جن نے کھانے تیار کر دئیے ۔ اس نے جن سے اپنی پسند کا لباس تیار کرنے کو کہا، جن نے  تیار کر دیا ۔  جن پھر اس کے پیچھے پڑگیا کہ مجھے  مزید کام دو ۔  اب وہ  پریشان ہوا  کہ اسے  کیا  کام دوں کوئی کام ہی نہیں سوجھ رہا اور جن پیچھے پڑا ہوا ہے کہ مجھے کام دو ۔  اب یہ بے چارہ بھاگ کر پیر صاحب کے پاس پہنچا کہ  مجھے بچا لیجیے  ۔ پیر صاحب بولے میں نے پہلے ہی کہا تھا  کہ تم جن کے چکر میں مَت پڑو مگر تم نہیں مانے ۔ چلو اب یہ کرو کہ کتے کی دُم کہیں سے حاصِل کر کے پائپ میں ڈالو اور جن کو  سیدھی کرنے کے لیے دے دو  ۔  اس نے یہی کیا اب جن بار بار  پائپ میں دُم ڈال کر نکالے وہ اسی طرح ٹیڑھی رہے بالآخر جن نے ہار مان لی اور اس شخص سے کہنے لگا بھائی تم جیتے  میں ہارا ، مجھے آزاد کر دو ۔  پھر اس نے جن کو آزاد کر کے جان چھڑائی ۔  ممکن ہے یہ مثال”کتے کی دُم ٹیڑھی کی ٹیڑھی“اِسی حِکایت سے بنی ہو  ۔  بہرحال پیر صاحب جس چیز سے منع کریں تو ان کی بات مان لینی چاہیے ۔   

اسلامی بہن اپنے سُسرالیوں کو ناراض نہ کرے

سُوال : کوئی اسلامی بہن یہ وَصیت کرنا چاہے کہ ان کے اِنتقال کے بعد ان کی مَیِّت سُسرال لے کر نہ جائی جائے بلکہ میکے لائی جائے کیا اِس طرح کی وَصیت کرنا جائز ہے ؟ (ویب سائِٹ کے ذَریعے سُوال)

جواب : کسی اسلامی بہن  کا اِس طرح وَصیت کرنا کہ اِنتقال کے بعد اس  کی مَیِّت کو  سُسرال لے کر نہ جایا جائے ، ظاہر ہے جاتے جاتے اپنے سُسرال والوں کو ناراض کرنا ہے ۔  اِس طرح سُسرال والے  مزید بَدظن اور رَنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈی گریڈ ہوں گے ، لوگوں میں باتیں کی جائیں گی کہ دیکھو یہ لوگ بے چاری کو اتنا  ستاتے اور ایسا ظلم کرتے تھے کہ مَرتے مَرتے بھی یہ وَصیت کر گئی کہ مجھے اِن ظالموں میں مَت لے کر جانا ۔ یہ بہت زیادہ نُقصان کی بات ہے ۔  اِس طرح  یہ خود کو اپنے سُسرالیوں کی دُعاؤں اور اِیصالِ ثواب سے بھی مَحروم کربیٹھے گی ۔ لہٰذا ہرگز ہرگز اِس طرح کی وَصیت نہ کی جائے ۔  اگر کسی نے ایسی وَصیت کر بھی دی تو اس پر عمل کرنا ضَروری نہیں ہے ۔  

نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مُختارِ کُل ہیں

سُوال : ”نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مُختارِ کل ہیں“اِس کا کیا مَطلب ہے ؟ (فیس بک کے ذَریعے سُوال)

جواب : مُختارِ کُل کا معنیٰ ہے ہر طرح سے اِختیار رَکھنے والے ۔  ”اللہ پاک کے سِوا کائنات کی ہر چیز  عالَم کہلاتی ہے ۔ “([1])تو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کی عطا سے سارے عالَم میں جو چاہیں کر سکتے ہیں یہی مُختارِ کُل کا معنیٰ ہے ۔ ([2])

 



[1]    شرح العقائد النسفیة، العالم بجمیع اجزائه  محدث ، ص۹۷ مکتبة المدینه باب المدینه کراچی

[2]    حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللّٰہپاک کی عطا سے شَرعی اَحکام میں خود مختار ہیں  ۔ آپ جسے جو  چاہے حکم دے سکتے ہیں  ، جس کے لئے جو چیز چاہے جائز  یا  ناجائز کر  سکتے ہیں  اور جسے جس حکم سے چاہے الگ فرما سکتے ہیں ۔ کثیر صحیح اَحادیث میں اِس کے شَواہد موجود ہیں، یہاں ان میں  سے 4 اَحادیث  مُلاحظہ کیجیے  : حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو بُردہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے چھ مہینے کے بکری کے بچے کی قربانی کر لینا جائز کر دیا ۔  (بخاری، کتاب العیدین، باب التکبیر الی العید، ۱ / ۳۳۲، حدیث :  ۹۶۸  دار الکتب العلمیة بیروت)حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ عَطِیَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو ایک گھر کے مُردے پر بَین کر کے رونے کی اِجازت دے دی ۔  (مسلم، کتاب الجنائز، باب التشدید فی النیاحة، ص۳۶۳، حدیث :  ۲۱۶۵) حضرتِ سَیِّدَتُنا اَسماء بنتِ عُمَیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو وفات کی عِدَّت کے عام حکم سے الگ فرما دیا اور ان کی عِدَّت چار مہینے دس دن کے بجائے تین دن مقرر فرما دی ۔ (معجم کبیر، عبد اللہ بن شداد بن الھاد عن اسماء ، ۲۴ / ۱۳۹، حدیث : ۳۶۹  دار احیاء التراث العربی بیروت)حضرتِ سَیِّدُنا خُزیمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی گواہی ہمیشہ کے لئے دو مَردوں  کی گواہی کے برابر فرما دی ۔  (ابو داؤد، کتاب الاقضية، باب اذا علم الحاکم صدق الشاهد الواحد…الخ، ۳ / ۴۳۱، حدیث :  ۳۶۰۷)سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے کائنات اور شریعت دونوں کے متعلق اِختیارات جاننے کے لیے فتاویٰ رضویہ کی 30ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عظیم تصنیف”اَلْاَمْنُ وَالْعُلٰی لِنَاعِتِی الْمُصْطَفٰی بِدَافِعِ الْبَلَاء“(مصطفیٰ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو دافعُ البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والاکہنے والوں کے لئے اِنعامات) کا مُطالعہ فرمائیے ۔  (شعبہ فیضان مَدَنی مذاکرہ)



Total Pages: 11

Go To