Book Name:Bachon Ki Zid Khatam Karnay Ka Wazifa

ہر دَرد کى دَوا ہے صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد

تعوىذِ ہر بلا ہے صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد

وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہیں

سُوال : اعلىٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے  اِس شعر کى وضاحت  فرما دیجیے  ۔  

وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہىں

                          تىرے دِن اے بہار پھرتے ہىں  (حدائقِ بخشش)

جواب : اِس شعر کا مطلب جو میں سمجھ پایا ہوں وہ یہ ہے کہ شعر میں موجود لفظِ ”لالہ زار“سے مُراد باغ ہے اور لفظِ”وہ“سے مُراد پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ مُبارَکہ ہے تو اِس لحاظ سے  شعر کے یہ  معنیٰ ہوئے کہ جب پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ کرم کسی باغ پر پڑتی ہے تو ”تیرے دِن اے بہار پھرتے ہیں “یعنی بہار کو بھی بہار نصیب ہو جاتی ہے اور بہار میں بھی بہار آ جاتی ہے  ۔   

مَدَنی مُنّے کس طرح نیکی کی دعوت دیں؟

سُوال :  ہم مَدَنى مُنّے کس طرح  نىکى کى دعوت دے سکتے ہىں؟

جواب : مَدَنی مُنّے اپنی عقل اور سمجھ کے مُطابق ہی نیکی کی دعوت دے سکتے ہیں مگر  سب مَدَنی مُنّے اتنے سمجھدار ہوتے نہیں ۔  مَدَنی مُنّے اگر بات بات پراپنے والدین کو ٹوکیں گے تو خرابیاں پیدا  ہو سکتی ہیں لہٰذا  مَدَنی مُنّے اگر اپنے اَبو اَمی کو نماز میں سُستی کرتا دیکھیں تو حکمتِ عملی اور اَدَب سے نماز کا کہیں، بات بات پر انہیں  یہ کہہ کر”ابو نماز پڑھیں ، اَمی نماز پڑ ھیں “نہ ٹوکیں ۔ بعض گھروں میں ماحول ہی اِس طرح اُلٹ پلٹ  ہوتا ہے کہ اگر مَدَنی مُنّا اِتفاق سے مَدَنی چینل دیکھ لے اور اُسے کوئی بات سمجھ میں آ جائے اور وہ بات اپنے اَبو اَمی کو بتائے تو اَبو اَمّی مَدَنی چینل ہی بند کروا دیں تو اس لیے نیکی کی دعوت حکمتِ عملی کے ساتھ دینی چاہیے ۔ بعض مَدَنی مُنّوں پر اللہ  پاک کی خاص عِناىتىں ہوتى ہىں اور وہ کچھ اور ہى رنگ کے ہوتے ہىں اور ان کے نىکى کى دعوت دینے  کے اَنداز بھی نرالے ہوتے ہىں! اِس ضِمن میں اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ مُلاحظہ کیجیے :   

نیکی کی دعوت دینے کا اَنوکھا اَنداز

جب حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کى عُمر شرىف کم  تھی اور  ابھی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف سے  اِعلانِ نبوت نہىں ہوا تھا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والِد حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو قُحافَہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو بعد مىں اِىمان لے آئے تھے ، آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بُت خانے مىں لے گئے اور بُتوں  کى طرف اِشارہ کر کے فرماىا : ىہ تمہارے عَظمت والے خُدا ہىں ۔   حضرتِ سَیِّدُنا  ابوبکر صِدِّىق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَبھى بچے تھے لىکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نیکی کی دعوت دینے کا یہ قدرتى اَنداز تھا کہ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک  بُت سے فرمایا : اے بُت !اگر تو خُدا ہے تو  مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھلا ، اگر تو خُدا ہے تو مجھے لباس پہنا، بُت کیا کھلاتا؟ اور کیا پہناتا؟ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بُت سے  فرمایا :  اگر تو واقعی خُدا ہے تو پھر مجھ سے اپنے آپ کو بچا!یہ کہہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک پتھر بُت کو دے مارا جس کے باعِث وہ بُت قلابازیاں کھا کر گِر پڑا  ۔  حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو قُحافہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چانٹا مارا اور پکڑ کر بُت خانے سے واپس گھر لے آئے ۔ ([1])یوں حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کتنے  پیارے اَنداز سے  نیکی کی دعوت دی اور یہ سمجھایا  کہ ایسا بے بس اور  ناچار خُدا ہو ہی نہیں سکتا ، خُدا تو قادرِ مُطلق ہے  ۔

سب سے پہلے اِیمان لانے والے کون ہیں؟

 مَردوں میں سب سے پہلے اِىمان لانے والے بھى اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّىق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہىں اور لڑ کوں مىں سب سے پہلے اِیمان لانے والے  مولائے کائنات، عَلِیُّ المرتَضیٰ، شیرِِ خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہىں اور خواتىن مىں سب سے پہلے اِیمان لانے والی حضرتِ سَیِّدَتُنا خَدىجۃُ الکُبریٰرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں ۔ ([2])اللہ پاک ان سب پر اپنی رَحمت نازِل فرمائے اور ان سب کے صَدقے ہمارى بے حِساب مَغفرت فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

جونماز جیسی قضا ہوئی ویسی ہی پڑھی جائے گی

 



[1]    ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص۶۰ ملخصاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی 

[2]    تاریخ الخلفاء، ابوبکر الصدیق عفته وصفته، فصل فی اسلامه ، ص۲۶ باب المدینة کراچی



Total Pages: 11

Go To