Book Name:Bachon Ki Zid Khatam Karnay Ka Wazifa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

بچوں کی ضِد ختم کرنے کا وَظیفہ ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۳۷ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فَرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے  : مجھ پر دُرُود شریف  پڑھو، اللہ پاک تم پر رَحمت بھیجے گا ۔ ([2])  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بچوں کی ضِد ختم کرنے کا وَظیفہ

سُوال : بچے ضِد نہ کرىں اِس کا کوئى وَظیفہ اِرشاد فرما دىجیے ۔ (سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)

جواب : بچے اگر ضِد، شرارتیں ، چھیڑ خانیاں اور  مىٹھى مىٹھی باتىں نہ  کریں اور نہ بڑوں سے اُلجھیں اور نہ ہی  بات بات پر رُوٹھیں تو  پھر اُن کے  بچے ہونے  کا لُطف نہىں آئے گا ۔  بچہ اگر مونگا مونگا (یعنی خاموش خاموش) ہو کر گھر کے کسی کونے میں بیٹھا رہے تو پھر گھر والے سوچیں گے کہ شاید اسے نظر لگ گئی ہے یا کسی جِن نے پکڑ لیا ہے اور اَثرات ہو گئے ہیں اس لیے ہمارا بچہ نہ بولتا ہے اور نہ بھاگتا ہے ۔  بچوں میں اِس طرح کی صِفات  ہوتی  ہیں البتہ کسی میں کم اور کسی میں زیادہ پائی جاتی  ہیں ۔  بچوں  کی بعض ضِدیں بے ضَرر(یعنی کسی نقصان کے بغیر) ہوتی ہیں انہیں پورا کر  دیا جائے مگر ان کی ہر ضِد کو پورا نہ کیا جائے کیونکہ اگر والدین  ان کی  ہر ضِد پوری کریں گے  تو وہ اس کے  عادى ہو جائیں گے اور ان کا یہ ذِہن بن جائے گا کہ اگر ہم شرافت سے بولتے ہیں تو ہمارا کام نہیں ہوتا اور اگر ہم  یُوں یُوں کرتے ہیں تو ہمارا کام ہو جاتا ہے ۔  بچے اگر غیر واجبی ضِد کریں تو اُن پر  اَوّل و آخر دُرُود شریف کے ساتھ سُورَۃُ الفلق اور سُورَۃُ النَّاس ایک ایک بار پڑھ کر روزانہ  دَم کر دیا  جائے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اُن کی غیر واجبی ضِد کرنے کی عادت نکل جائے گی ۔

شریعت کی حَد توڑے جانے پر غُصَّہ کرنا کیسا؟

سُوال : کیا یہ بات دُرُست ہے کہ جب شریعت کی حَد توڑی جا رہی ہو تو اس وقت غُصَّہ آنا چاہیے ؟([3])

جواب : جی ہاں! یہ بات 100فیصد دُرُست ہے کہ جب شریعت کی  حَد توڑی جا رہی ہو تو اُس وقت غُصَّہ آنا چاہے لیکن اس سے دعوتِ اسلامی کے ذِمَّہ داران یہ  نہ سمجھىں کہ اگر ان کا  ماتحت ذِمَّہ دار یا مبلغ مَدَنى کاموں مىں سُستی  کر رہا ہے اور صحىح کارکردگى نہىں دے پا رہا تو وہ شرىعت کى حَد توڑ رہا ہے لہٰذا  اَب اس پر غُصَّہ کرنا اچھا ہے ۔ یاد رَکھیے ! مَدَنی دَرس نہ دینا، مَدَنی قافلوں میں سفر اور مَدَنی اِنعامات کا رِسالہ پُر نہ کرنا اور دعوتِ اسلامی کے دِیگر  مَدَنی کاموں میں سستیاں کرنا شریعت کی حَد توڑنا نہیں ہے اور نہ اس صورت میں غُصَّہ کرنے کی اِجازت ہے بلکہ اگر غُصَّہ کر کے کسی کی دِل آزارى کریں گے تو  گناہ گار ہوں گے  ۔   

فٹنگ والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا شرعی حکم

سُوال : کىا فٹنگ والے  کپڑوں میں  ىا جن کپڑوں کو پہننے کی اِسلام اِجازت نہىں دىتا انہیں پہن کر نماز پڑھنے سے عورتوں کی نماز ہو جائے گی ؟

جواب :  اگر ان کپڑوں کو پہن کر سَتر چُھپ رہا ہے تو نماز ہو جائے گى ۔  آجکل عورتوں میں فاسِقات(یعنی علانیہ گناہ کرنے والیوں) کی وَضع(یعنی طرز) کا لباس پہننا عام ہے اور مَردوں کے مقابلے میں عورتیں فیشن پَرستیوں میں بہت زیادہ آگے ہیں ۔  فیشن ایبل عورت کو اِسلامی بہن نہ کہا جائے ، اسلامی بہن صِرف  اُسے  کہا جائے جو شریعت و سُنَّت کے مُطابق لباس پہنے ۔ (امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : )نماز پڑھنے کے لیے اگر  دوسرے کپڑے ہیں تو پھر بہتر یہ ہے کہ عورتیں  انہیں پہن کر نماز پڑھیں ورنہ چادر کے ذَریعے اپنے آپ کو اِس طرح چھپائیں کہ  فٹنگ کے سبب اَعضاء ظاہر نہ ہوں کیونکہ اَعضاء کا ظاہر ہونا مُناسب نہیں ہے اَلبتہ نماز بہرصورت ہو جائے گی ۔ ([4])نیز کپڑے کس اَنداز  کے ہیں؟اسے بھی دیکھا جائے گا اور ہر طرح کے کپڑوں کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ ان میں نماز



[1]    یہ رِسالہ۲۹رَبیع الآخر ۱۴۴۰؁ھ بمطابق 5جنوری 2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔  (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)          

[2]    الکامل لابن عدی ، عبد الرحمٰن بن القطامی، ۵ / ۵۰۵ دار الکتب العلمیة بیروت

[3]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے  ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 

[4]    دَبیز(یعنی موٹا) کپڑا، جس سے بَدن کا رنگ نہ چمکتا ہو، مگربَدن سے بالکل ایسا چِپکا ہوا ہے کہ دیکھنے سے عضو کی ہيات معلوم ہوتی ہے ، ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی، مگر اس عضو کی طرف دوسروں کو نگاہ کرنا جائز نہیں ۔   اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے اور عورتوں کے ليے بَدَرجۂ اَولیٰ ممانعت ۔  بعض عورتیں جو بہت چُست پاجامے پہنتی ہیں، اس مسئلہ سے سبق لیں ۔  (بہارِ شریعت، ۱ / ۴۸۰، حصہ : ۳ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)



Total Pages: 11

Go To