Book Name:Kuttay Kay Mutalliq Sharai Ahkam

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

کتے کے متعلق شرعی اَحکام([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۴۰صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فَرمانِ مُصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : تم جہاں بھى ہو مجھ پر دُرُود پاک پڑھو کہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کیا خالی کاغذ کا بھی ادب ہے؟

سُوال : کاغذ ہمارى زندگىوں کا لازمى جزو ہے ۔ ىہ مختلف کوالٹى اور سائز مىں ہوتے ہىں ۔ اس کااستعمال صدىوں سےہورہا ہے ۔ کاغذ ہمارى تحرىروں کو محفوظ کرتا ہے ۔ جدىد دور مىں معلومات جمع کرنے کے نت نئے طرىقے آگئے ہىں لىکن اس کے باوجود کاغذ کى اہمىت کم نہىں ہوئی، حصولِ تعلىم کے لىے کاغذ کى بہت اہمىت ہے ۔  کتابیں اور  کاپىاں سب کاغذ  کی ہوتى ہىں ۔ اب کاغذ کا استعمال خرىدارى کے تھىلوں کے طور پر بھى ہوتا ہے کىونکہ  ىہ ماحول دوست ہے اور ناکارہ ہونے کے بعد جلد زمىن مىں گھل جاتا ہے ۔ کاغذ سے مختلف اقسام کى اشىاء بنائى جارہى ہىں جىسے لفافے، مصنوعى فون، ڈىکورىشن کى اشىاء وغىرہ ۔  امىر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے عرض ہے کہ کىا خالى کاغذ کا بھى استعمال ہونا چاہىے نیز کىا کاغذ کے استعمال مىں بھى اسراف ہو سکتا ہے؟

جواب : کاغذ اللہ پاک کی نعمت اور بہت ہی اہم چیز ہے ۔ اس کے موجِد کا تو علم نہیں کہ مسلمان ہے یا نہیں مگر جس نے  بھی اس کو ایجاد کیا اس نے اللہ پاک کی دی ہوئی عقل ہی سے کیا ۔ اور اس میں دن بدن بہتری ہی آتی رہی ہے ۔ چونکہ کاغذ پر اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا نام اور شرعی مسائل لکھے جاتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن کورے کاغذ کا بھی بہت ادب کیا کرتے تھے حتّٰی کہ جو کاغذ لکھنے کے کام آسکتا اس کو بے وضو چھوتے تک نہیں تھے ۔ ذرا اندازہ کیجیے جب ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن بغیر لکھے کاغذ کا اس قدر احترام فرماتے تھے تو لکھے ہوئے کاغذ کا کس قدر احترام فرماتے ہوں گے ۔ اے کاش! ہمیں بھی کاغذ کا ادب نصیب ہوجائے ۔

کاغذ کی اہمیت اور ہماری نا قدری

اباکثر لوگوں کا کاغذ کے ادب کے متعلق ذہن ہی نہیں ہے، کاغذ پر کوئی کچھ تحریر ہو یانہ ہو سب ہی کو کچرے میں ڈال دیتے ہیں ۔  جن اخبارات میں اللہ  و رسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے نام اور دینی مضامین ہوتے ہیں مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہ بھی کچرے میں پھینک دئیے جاتے ہیں، بعض اوقات تو ان اخبارات میں بچوں کا گند وغیرہ لپیٹ کرپھینکاجاتاہےایساہرگزنہیں کرنا چاہیے ۔ نیز جب کاغذ اور اخبارات کی Recycling ہوتی ہے (تاکہ کاغذ دوبارہ استعمال میں آسکے  تو)اس وقت بھی یہ کاغذات پاؤں تلےروندےجاتے ہیں حالانکہ اس بے ادبی سے بچنے کی کوشش کی جائے تو بچنا ممکن ہے لہٰذا ہر ایک کو حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ باادب با نصیب ہوتا ہے ۔ اللہ پاک ہم سب کو کاغذ کا ادب کرنا نصیب فرمائے ۔   

قابلِ استعمال کاغذ ضائع کردینا کیسا؟

یاد رہے! یہ تو اس کاغذ کی بات ہے جو اب قابلِ استعمال نہیں رہا ورنہ جو کاغذ ابھی کسی کام میں آسکتا ہے تو اسے یوں ضائع کرنے میں مسئلہ ہوگا اس لیے کہ کاغذ ایک مال ہے جو پیسوں سے خریدا اور بیچا جاتا ہے لہٰذا اسے  ضائع کرنا گناہ ہے کیونکہ مال کا ضیاع حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ([3])

وقف کے کاغذ اور قلم کی احتیاط کیجیے

سُوال : وقف کے اداروں کے کاغذ اور قلم کے استعمال میں کیا کوئی خاص احتیاط کرنی ہو گی؟([4])

 



[1]    یہ رِسالہ ١٥ رَبیع الآخر ۱۴۴۰؁ ھ مطابق 22 دَسمبر 2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ ‘‘ نے مُرتَّب کیا ہے ۔  (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)         

[2]    معجمِ اوسط، باب الالف، من اسمه احمد، ۱ / ۱۱۶، حدیث : ۳۶۵ دار الکتب العلمیة بیروت

[3]    ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۳۵۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[4]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے  ۔   (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)



Total Pages: 12

Go To