Book Name:Musalman Kay Joothay Main Shifa

نُمایاں شخصیت کی طرف میلان زیادہ ہوتا ہے

سُوال : بعض جگہوں پر جب کوئی بڑی شخصیت تشریف لاتی ہے تو اس سے کم مرتبہ شخصیات کی حاضری وہاں بہت کم ہوتی ہے اِس کی کیا وجہ ہے ؟ ([1])

جواب:نفسىاتى طور پر بھى نُمایاں شخصیت کی طرف میلان زیادہ  ہوتا ہے  جىسے کہیں  کچھ اَفراد آتے ہیں تو ان مىں جو پىر صاحب یا عالِم  صاحب ىا جو بھی بزرگ نُمایاں ہوتے ہیں Automatic(یعنی خود بخود) لوگوں کی  طبىعت ان کى طرف مائل ہو جاتی ہے اور وہ ا ن سے ہاتھ ملاتے،دَست بوسى کرتے اور ان کے سامنے عاجزى کا انداز اپناتے ہیں جبکہ دوسروں   سے صِرف کھڑے کھڑے ہاتھ ملا کر حال اَحوال  پوچھ لیے جاتے ہیں۔ کئی سال پہلے اىک بار میرا  کہىں جانا ہوا تو وہاں بابُ المدىنہ(کراچی ) کے تىن D.C آئے ہوئے تھے، شاىد اُس وقت بابُ المدىنہ (کراچی )کے  چار D.C  ہوا کرتے تھے اب تو بڑھ گئے ہوں گے،ان کے نىچے جو  اَفسران تھے انہیں بھی وہاں آنے کی دعوت دی گئی تھی تو ان کی بہت  کم  تعداد وہاں آئی تھى حالانکہ وہ بھى بڑے عہدے دار تھے۔ اگر اُس عہدے کے کسی اَفسر کو  اکىلا بُلایا جائے اور کسی دوسری بڑی شخصیت کو دعوت نہ دی جائے تو پھر لوگ اُسے بھی کندھوں  پر بٹھائىں لىکن D.C سے  اُن کا گرىڈ کم تھا اس لیے  ان کی کم  تعداد وہاں آئی تھى۔  بعد میں جب میری  بات چىت ہوئى تو مىں نے کہا:اس عہدے کے اَفسر تو بابُ المدینہ( کراچی) میں  اتنے سارے ہوتے ہىں مگر یہاں اتنے کم آئے ہیں۔ مجھے کسى نے جواب دیا  کہ بڑے عہدے داروں کى طرف آدمى کا رُجحان زیادہ  ہوتا  ہے اور جو چھوٹے عہدے دار  ہوتے ہىں انہیں کوئی پوچھتا نہىں اِس لیے  چھوٹے آتے نہىں۔ اگر صِرف چھوٹے عہدے دار کو بلائىں اور اسے کوئى  کشش بھی  دکھائىں تو وہ  آئے گا مگر کسی   بڑے عہدے دار  کے ہوتے ہوئے نہىں آئے گا۔ اسے ىوں سمجھیے کہ بڑی شخصیت چھوٹی سب شخصىتوں کو جَذب کر لىتى ہے دُنىوى طور پر اىسا ہوتا ہے حالانکہ  اىسا نہیں ہونا چاہىے۔  

دِینی شخصیات کا اِخلاص

کئی بار میں اور نگرانِ شُورىٰ(مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری) دونوں ایک ساتھ جب کہیں جاتے ہیں یا  نگرانِ شُوریٰ مجھے بُلاتے اور ساتھ جانے کے لیے  اِصرار کرتے ہىں حالانکہ ىہ سمجھتے ہىں اگر ىہ نہ سمجھىں تو مىں سمجھتا ہوں کہ مىرے جانے سےاسلامی بھائیوں کا رُجحان ان کی طرف کم اور مىرى طرف زیادہ ہوتا ہے تو مىں نگرانِ شوریٰ سے متأثر بھى ہوتا ہوں کہ ان میں  کىسا اِخلاص ہے! اپنى شخصىت کو پھىکا کر کے مجھے چمکا رہے ہیں ۔ ایسا 100  سے زائد بار ہوا  بلکہ وقتاً فوقتاً ہوتا ہی رہتا ہے۔ اگر نگرانِ شُوریٰ اکىلے ہوں تو ساری  عوام کا رُخ اور توجہ کا مَرکز یہی بنیں مگر  جب مىں ہوتا ہوں تو بعض اوقات ان سے  ہاتھ بھى نہىں ملایا جاتا لىکن یہ ان کا ضبط ہے کہ اس کے باوجود یہ مجھے بُلاتے ہیں تو  پتا چلا کہ  مذہبى لوگوں مىں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسا نہیں  ہے۔ ىہ باتىں مجھے  آپ لوگوں  کی اِصلاح کے لىے عرض کرنا پڑیں ورنہ انہیں بیان کرتے ہوئے  مجھے جھجک ہو رہى تھى کہ  اپنے منہ مىاں مٹھو بن رہا  ہوں مگر اللہ  جانتا ہے کہ نىت کدھر کی ہے۔ (اِس موقع پر نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا: اس مىں کوئى شک و شبے کى گنجائش نہىں کہ دعوتِ اسلامى میں  جس بھى نگران ىا ذِمَّہ دار یا عطارى کا چاند چمک رہا ہے وہ کس کى وجہ سے چمک رہا ہے ؟اور اس  کى روشنى کہاں سے آرہى ہے؟)([2])  

بعض شہروں میں مزارات کم اور زیادہ ہونے کی وجہ

سُوال:بعض شہروں مىں مَزارات  کم ہوتے ہىں اور  بعض جگہوں پر تو پورے پورے شہروں مىں اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام  کے مزارات  نہىں ملتے جبکہ  بعض شہروں میں  اچھی تعداد میں اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام کے مزارات  ہوتے ہیں، اِسی طرح دُنىا کے مختلف ممالک میں جب جانا ہوتا ہے تو یہی معاملہ ہوتا ہے،اِس کى کیا  وجہ ہے ؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب:اس کى وجہ ىہ سمجھ آتى ہے کہ بعض جگہوں  پر مسلمان اِس طرح کے ہوتے ہىں کہ جن کو بزرگوں سے بڑى عقىدت ہوتى ہے۔ ملتان کو مدىنۃُ الاولیا (یعنی اَولیا  کا شہر ) اسی لیے کہتے ہىں کہ وہاں مزارات ہى مزارات ہىں ۔ ملتان کے بارے میں تىن باتىں میں نے  سُنی  تھیں  کہ وہاں گور(یعنی قبریں)، گرد(یعنی مٹی) اور گرمى ىہ تىنوں چىزىں بکثرت ہىں اور واقعتاً ایسا ہی ہے ۔ چونکہ ملتان میں عقىدت مند زىادہ ہىں اِس لیے اَولىائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام  کى خدمت کرنا اور ان کى صحبت سے فىضیاب ہونا وغىرہ وہاں  ہے  تو ىوں وہ  لوگ مزارات بنا دىتے ہىں ورنہ بزرگانِ دِىن رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن کہاں نہىں ہوتے۔ جہاں جہاں اىسے عاشقانِ اَولیا لوگ ہوتے ہوں گے وہاں مزار بنتا ہو گا اور جہاں نہىں ہوتے ہوں گے وہاں مزار نہىں بنتا ہو گا۔ بعض اوقات تو پتا ہی نہىں چلتا ہو گا کہ فُلاں صاحب  صالحىن یا بزرگانِ دِىن رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن یا اَولىائے  کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام میں سے ہىں۔ نہ لوگ ان کے گِرد ہوتے ہىں اور  نہ لوگوں کو اپنے گِرد اکٹھا کرنے کا  ان کا  مزاج ہوتا ہوگا تو یوں بھی مزارات نہیں بن پاتے ۔    

 



[1]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[2]    یہ سب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فیضان ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 



Total Pages: 13

Go To