Book Name:Intiqal Par Sabar Ka Tariqa

جنَّت میں سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پڑوسی

حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بِن عُبَیْدُاللہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ ([1])مىں سے ہونے کے ساتھ ساتھ ىہ فضىلت بھى حاصِل ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   جنَّت مىں مَدَنى حبىبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پڑوسى ہوں گے  ۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عَلِىُّ الْمُرْتَضٰىکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہىں کہ مىں نے اپنے کانوں سے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ىہ اِرشاد فرماتے سُنا کہ طلحہ اور زُبىر جنَّت مىں مىرے پڑوسى ہوں گے  ۔ ([2])اِس بشارت میں دوسرے صحابی حضرتِ سیِّدُنا زُبىر بن عَوّامرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ىہ بھى عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ مىں سے ہىں ۔ ([3])  

یَمن کو ”یَمن شریف“کہنے کی وجہ

سُوال : یَمن کو ”یَمن شریف“کہنے کی کیا  وجہ ہے ؟([4])

جواب : میں یَمن کو”ىَمن شرىف“اِس لیے بولتا ہوں کہ مىرے مَدَنى آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِس کے لىے دُعا فرمائى ہے  ۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کی : اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِىْ یَمَنِنَا یعنی اے اللہ! ہمارے لىے ہمارے ىَمن مىں بَرکت عطا فرما ۔ ([5])سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِس کو ہمارا یَمن فرمایا ہے ۔ نیز یَمن شریف کو یہ شَرف بھی حاصِل ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ہود عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مَزار شرىف بھى وہاں ہے  ۔ ([6]) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سالانہ عُرس مُبارَک دھوم دھام سے مَنایا جاتا ہے ۔ جَشنِ وِلادتِ مصطفے ٰ  کى بھى یَمن شریف میں خوب دھوم مچتى ہے ۔ ہم نے تو صِرف ىہاں(وطن عزیز پاکستان وغیرہ) کے جَشنِ میلاد کے مَناظِر دىکھے ہىں لیکن عرب دُنىا مىں بھى جَشنِ وِلادت مَنانے کا زبردست اِہتمام ہوتا ہے ۔  

کُنڈے کی بجلی کے نُقصانات

سُوال :  کُنڈے کی بجلی کے کیا نُقصانات ہیں؟ ([7])

جواب : اگر کسی نے  کنڈے کی بجلى لى ہے تو وہ گناہ گار ہو گا ۔ اس پر ضَروری ہے کہ بجلی فَراہم کرنے والے اِدارے کو پوری رَقم کی Payment(یعنی اَدائیگی) کرے ۔ کُنڈا وىسے بھى نہیں لگانا چاہیے کہ دُنىوی اِعتبار سے بھی اِس کا ىہ نُقصان ہے کہ جن علاقوں مىں کُنڈے لگائے جاتے ہىں تو ان علاقوں میں لوڈ شیڈنگ زیادہ ہوتی ہے ، جس کے سبب ان لوگوں کا حق بھی مارا جاتا ہے جن کی قانونى بجلى ہوتی ہے ۔ ان کُنڈے لگانے والوں کى وجہ سے وہ بیچارے بھی گرمیوں میں کئى کئى گھنٹے گرمی مىں تڑپتے ہىں ۔ کُنڈے لگانے والوں کو توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ پوری رَقم کی Payment(یعنی ادائیگی)بھى کرنی چاہىے ۔ کُنڈا لگانا شَرعاً بھی جائز نہىں اور قانوناً بھى جُرم ہے ۔

بجلی کا بِل تھوڑا ہو یا زیادہ اس کی اَدائیگی کیجیے

بجلى سپلائی گورنمنٹ کا سِسٹم ہے لیکن سب کو مُفت بجلى تو نہیں دىں گے  ۔ بجلی کا بِل لینے کا طریقہ صِرف ہمارے مُلک پاکستان ہی مىں نہیں بلکہ دُنىا بھر میں رائج ہے بلکہ ہمارے  مُلک پاکستان کے مقابلے میں دِیگر ممالک میں بجلی کے بِل بہت زیادہ آتے ہیں ۔ بہرحال بِل تھوڑا ہو ىا زىادہ جو بھى طے شُدہ بِل ہے وہ تو دىنا ہى پڑے گا ۔ کُنڈے کے ذَریعے چَراغاں بھی ہرگز نہ کیجیے ۔ ہم(13 رَبیع الاوّل ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق 2018ء کو)چَراغاں دیکھنے بابُ المدینہ (کراچی) کے مختلف علاقوں میں گئے تھے تو اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مىں نے کہیں بھی کُنڈا لگا  ہوا نہیں دیکھا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مسلمان سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى محبت مىں چَراغاں کا اِہتمام اپنے پَلے سے کرتے ہیں جسے دیکھ کر عُشّاق کو لُطف آجاتا ہے  ۔ بعض ممالک میں مختلف Events(یعنی تقریبات) پر دُکانوں پر لائٹنگ کا وسیع اِنتظام کیا جاتا ہے  ۔ ان ممالک میں بجلی کے Voltage(وولٹج یعنی بَرقی طاقت)زیادہ ہونے کے سبب  لائٹوں کی چمک زیادہ ہوتی ہے جبکہ ہمارے مُلک پاکستان میں Voltage(وولٹج یعنی بَرقی طاقت) کم ہونے کے سبب لائٹوں کی ویسی چمک نہیں ہوتی لیکن پھر بھی دُنیوی Event(یعنی تقریب) کے سلسلے میں لگائی گئی لائٹوں کو جى بھر کر دیکھنے کا دِل نہیں کرتا جبکہ جَشنِ وِلادت کا اىک پرچم بھى لہرا رہا ہو تو ہمارے دِلوں کو لبھا رہا ہوتا ہے ۔ یہ ساری نسبت کی بات ہے کہ ىہ لائٹنگ سرکار



[1]    ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی الاعور سعید بن زید...الخ، ۵ / ۴۲۰، حدیث :  ۳۷۷۸  دار الفکر بیروت

[2]    ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب طلحة بن عبید اللہ، ۵ / ۴۱۳، حدیث : ۳۷۶۲ 

[3]    ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی الاعور سعید بن زید...الخ، ۵ / ۴۲۰، حدیث :  ۳۷۷۸  

[4]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[5]    بخاری، کتاب الاستسقاء، باب ما قیل فی الزلزال  و الآیات، ۱ / ۳۵۴، حدیث : ۱۰۳۶ دار الکتب العلمیة بیروت

[6]    تفسیرخازن، پ۸، الاعراف، تحت الآیة : ۷۲ ، ۲ / ۱۱۲ماخوذاً  دار الکتب العربیة الکبری مصر 

[7]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)



Total Pages: 14

Go To