Book Name:Piyaray Aqa Ka Piyara Bachpan

مَدَنی کام نیکی کی دَعوت کا کام ہے اور نیکی کی دَعوت دینے کی بھی کیا خوب بَرکتیں ہیں چنانچہحُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا اِمام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ  الْوَالِی فرماتے ہىں : اىک بار حضرتِ سَیِّدُنا مُوسىٰ کَلِیْمُ  اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ خُداوندی  مىں عرض کى :  یَااللہ! جو اپنے بھائى کو نىکى کا حکم کرے اور بُرائى سے روکے اس کى جَزا کىا ہے ؟اللہ تبارک و تعالىٰ نے اِرشاد فرماىا : مىں اس کے ہر کلمے کے بدلے اىک اىک سال کى عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنم کى سزا دىنے مىں مجھے حىا آتى ہے ۔ ([1])اگر کسی سے کہا کہ  بھائی مسجد میں  نماز پڑھنے چلیے جماعت تیار ہے تو یہ بھی نیکی کی دَعوت دینا ہے ۔ خیال رہے کہ جب ہم کسی کو  نیکی کی دَعوت  دینے کے لیے جاتے ہیں تو ہمارے ایک ایک قدم پر ثواب لکھا جاتا ہے لہٰذا ایسے موقع پر چھوٹے چھوٹے قدم چلنا چاہیے تاکہ ثواب زیادہ ملے ۔  

مسجد کی طرف چھوٹے چھوٹے قدم چلیے

نماز کی اَدائیگی کے لیے مسجد کی طرف جاتے ہوئے  چھوٹے چھوٹے قدم  چلنے سے متعلق تو اَحادیثِ مُبارَکہ موجود ہیں جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا زید بن ثابِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نَماز پڑھنے جایا کرتاتھا۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دَرمیانے قدم چلا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ رَسُو ْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دَریافت فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میں دَرمیانے قدم کیوں چلتا ہوں؟ میں نے عرض کی : اللہ پاک اور اس کارَسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ اِرشاد فرمایا :  جب تک بندہ نَماز کی طَلب میں ہوتا ہے نَماز ہی میں ہوتا ہے ۔ ایک اور رِوایت میں ہے کہ میں دَرمیانے قدم اِس لئے چلتا ہوں تاکہ نَماز کی طَلب میں زیادہ قدم چل سکوں۔ ([2])لہٰذا نماز کی اَدائیگی کے لیے جب مسجد جائیں تو  چھوٹے چھوٹے  قدم چلیں مگر اتنے چھوٹے بھی نہ ہوں کہ دىکھنے والا سمجھے کہ ىہ بَرسوں کا  مرىض بڑى مشکل سے گھر سے نکلا ہے اور اِس سے چلا بھی  نہىں جا رہا اور  نہ ہی دوڑ کر کہ لوگ سمجھیں اس کا کوئی مال لے کر بھاگا ہے جسے یہ پکڑنے جا رہا ہے بلکہ ایسے دَرمیانے اَنداز سے چلیں کہ لوگ نہ تو ہنسیں اور نہ ہی انہیں  تشویش ہو   کہ پتا نہیں کیا ہو گیا ہے یہ کیوں بھاگے چلا جا رہا ہے ۔ ہاں ! اگر جماعت جا رہی ہے تو پھر ایسی رفتار سے چلیں کہ اُسے دوڑنا بھی  نہ کہا جائے اور نہ ایک دَم تیز قدم رکھنا ہو کہ مسجد پہنچ کر سانس پھول جائے اور نماز میں دِل نہ لگے ۔   

اَحادیثِ مُبارَکہ میں اگرچہ چھوٹے چھوٹے قدم چلنے کا ذِکر نماز کے لیے مسجد جانے کے  بارے میں ہے مگر نماز کے عِلاوہ دِیگر نیک کاموں مثلاً سُنَّتوں بھرے اِجتماعات میں شِرکت ، کسی عالِمِ دِین کا وَعظ اور قرآنِ پاک کی تفسیر سُننے  کے لیے جب بندہ چلتا ہے تواُس کے بھی ہر قدم چلنے پر ثواب لکھا جاتا ہے ۔ یوں اپنے آپ کو نیکیوں کی حرص دِلائیں اور اپنا یہ ذہن بنائیں کہ مجھے تو اتنا سارا ثواب مِل رہا ہے میں کیوں سُستی کروں؟ اِس  طرح زبردستی اپنے نَفس کو اِس طرف مائِل کریں کہ مجھے مَدَنی کام کرنا ہے ۔

نیکیوں میں دِل نہ لگے تو کیا کریں؟

 دیکھیے !  مَریض کو غِذا اچھى نہىں لگتى لىکن زندہ رہنے کے لىے وہ  غِذا کھاتا ہے ۔ اِسى طرح ہم باطنی مَرىض ہىں ہمارے نَفس  کو نىکىاں اچھى نہىں لگ رہى ہوتیں  مگر ہمیں زبردستى اس سے  نىکىاں کروانى ہىں۔ مَرىض جب اچھا ہو جاتا ہے تو  اس کو غِذا بھی  اچھى لگنا شروع ہو جاتی ہے ، اِسی طرح جب ہم نیکیاں کرنے لگ جائیں گے تو ہمارے دِل میں نیکیوں کی رَغبت مزید  بڑھے گی۔

ہدایت کی طرف بُلانے کی فضیلت

یاد رہے مَدَنی کام کرنا گویا لوگوں کو ہدایت کی طرف بُلانا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی طرف بُلانے سے متعلق  سرکارِ نامدار ، مدىنے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ مشکبار ہے : جو ہدایت کی طرف بُلائے تو اسے ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اَجر کے برابر ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا اور جو گمراہی کی طرف بُلائے اس پر گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں کی مثل گناہ لازِم ہو گا اور ان پیروی کرنے والوں کے گناہ سے کچھ بھی کم نہ ہو گا۔ ([3]) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اِسلامى ہداىت ىافتگان کى مَدَنى تحرىک ہے جو لوگوں کو  ہداىت کى طرف بُلاتى ہے ۔  

حافظہ کیسے مَضبوط کیا جائے ؟

سُوال : جب ہم مُطالعہ کرتے ہیں تو جوکچھ پڑھا ہوتا ہے وہ یاد نہیں رہتا پھر یہ وَسوسہ آتا ہے کہ جب پڑھا ہوا یاد نہیں رہتا تو مُطالعہ کرنے کا کیا فائدہ؟یہ اِرشاد فرما دیجیے کہ حافظہ کیسے مَضبوط کیا جائے ؟

جواب : حافظہ مَضبوط کرنے کے لیے مکتبۃ المدینہ کی  کُتُب و رَسائِل کے شروع میں لکھی جانے والی دُعا : اَللّٰھُمَّ افْتَحْ عَلَیْنَا حِکْمَتَکَ وَانْشُرْ عَلَیْنَا رَحْمَتَکَ  یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَام ہر بار مُطالعہ شروع کرنے سے پہلے پڑھ لیجیے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جو کچھ پڑھیں گے یاد رہے گا۔ اِس کے عِلاوہ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ”حافظہ کیسے مضبوط ہو؟“ کا مُطالعہ کیجیے ، اِس کتاب میں حافظہ مضبوط کرنے کے کئی طریقے اور اَوراد و وَظائف وغیرہ بھی بیان کیے گئے ہیں۔ رہی بات کہ ”جب پڑھا ہوا یاد نہیں رہتا تو مُطالعہ کرنے کا کیا فائدہ؟“تو یہ شیطانی وَسوسہ ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنے گھر کا راستہ بھول جائے تو وہ راستے کی تلاش کرتا ہے مایوس ہوکر وہیں نہیں بیٹھ جاتا۔ اِسی طرح مُطالعہ کرنے والے کو بھی مایوس  ہونے کے بجائے اپنے حوصلے کو مضبوط رکھتے ہوئے بار بار مُطالعہ کرتے رہنا چاہیے ۔ یاد رَکھیے ! حُصُولِ عِلم کے لیے مُطالعہ کرنے سے ثواب حاصِل ہوتا ہے  چاہے ایک ہی چیز کو 100 بار پڑھا جائے ۔ بعض



[1]      مکاشفة القلوب ، الباب الخامس عشر فی الامر بالمعروفالخ ، ص۴۸ دارالکتب العلمية بیروت

[2]      مجمع الزوائد ، كتاب الصلا ة ، باب کیف المشی الی الصلا ة ، ۲  / ۱۵۱ ، حدیث : ۲۰۹۲ دار الفکر بیروت  

[3]      مسلم ، کتا ب العلم ، باب من سن سنة حسنة او سیئةالخ ، ص۱۱۰۳ ، حدیث : ۶۸۰۴ دار الکتاب العربی  بیروت



Total Pages: 7

Go To