Book Name:Piyaray Aqa Ka Piyara Bachpan

۔ ان سے پہلے کل 39 مسلمان تھے جن میں حضرتِ سیِّدُنا سَعىد بن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی شامِل ہیں۔ ([1]) ٭حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کى بہن حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بِنتِ خَطّاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا آپ کے نِکاح مىں تھیں اور آپ کى بہن حضرتِ سیِّدَتُنا عاتِکہ بِنتِ زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

کے نِکاح مىں تھىں۔ ([2]) ٭ حضرتِ سیِّدُنا سَعىد بِن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کا شمار اُن صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مىں ہوتا ہے جنہوں نے اَوّلاً ہجرتِ مدىنہ کى سعادت حاصِل کى ہے ۔ ([3])٭حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، حضرتِ سَیِّدُنا سَعىد بِن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور آپ کى زوجۂ محترمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سبب ہى دائرۂ اِسلام مىں داخِل ہوئے ۔ ([4])٭حضرتِ سیِّدُنا سَعىد بِن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بىعتِ رِضوان مىں بھى شِرکت کى۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنَّت مىں حضرتِ سیِّدُنا مُوسىٰ بن عمران عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رَفىق ہوں گے ۔ ىعنى جنَّت میں حضرتِ سیِّدُنا سَعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرتِ سیِّدُنا مُوسىٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کى خِدمت (یعنی صحبت) مىں ہوں گے ۔ ([5])٭آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بَدر کے عِلاوہ تمام غَزوات مثلاً غَزوۂ اُحُد ، غَزوۂ خَندق ، غَزوۂ خىبر ، غَزوۂ حُنَیْن ، غَزوۂ طائِف اور غَزوۂ تَبُوک وغىرہ مىں شَرىک ہوئے ۔ ([6])

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بَدری ہونے کی وُجُوہات

 غَزوۂ بَدر مىں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ شَرىک نہ ہو سکے لیکن پھر بھى آپ کا شُمار بَدرى صَحابہ مىں ہوتا ہے ، اِس کى دو وُجُوہات ہىں : (۱)اللہ پاک کے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا طَلحہ بِن عُبَیْدُاللہ اور حضرتِ سیِّدُنا سَعىد بِن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماکو مُلکِ شام سىرىا کى طرف کفار کے حالات وغىرہ کى معلومات کے لىے بھىجا تھا۔ جب ىہ دونوں وہاں سے واپس مَدینۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً لوٹے تو غَزوۂ بَدر واقع ہو چکا تھا۔ چونکہ جنگى  جاسوسى بھى جنگ ہى مىں شِرکت ہے اس لىے ان دونوں صَحابہ کو بَدرىوں میں شُمار کیا گیا۔ (۲) سرکارِ مدىنہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے انہىں مالِ غنىمت مىں سے حِصّہ بھی عطا فرماىا جو اِس بات کى دَلىل ہے کہ یہ دونوں بھی بَدرى ہىں۔ ([7]) اگر بَدرى صحابہ میں شامِل نہ ہوتے تو انہىں مالِ غنیمت سے حِصّہ نہ دىا جاتا۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عُرْوَہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِواىت ہے کہ رَسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے غَزوۂ بَدر سے لوٹنے کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا سَعىد بِن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مُلکِ شام سے واپس آئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے انہىں مالِ غنىمت مىں سے ان کا حِصّہ عطا فرماىا تو آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اِستفسار کىا : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مىرا اَجر؟اِرشاد فرماىا :  تمہارے لىے تمہارا اَجر ہے ۔ ([8])آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے 70 بَرس سے زىادہ عمر پائى

اور 50 ىا 51 سِنِ ہجرى مىں وِصالِ باکمال ہوا اور جَنَّتُ البقىع مىں دَفن ہوئے ۔ ([9]) اللہ پاک کى ان پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہمارى بے حِساب مَغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم([10])

سب صحابہ سے ہمىں تو پىار ہے

اِنْ شَآءَ اللہ اپنا بىڑا پار ہے

حاجی مشتاق عطّاری کی یاد

سُوال :  کىا آپ کو حاجى مشتاق عطّارى کى ىاد آتى ہے ؟(سوشل میڈیا کا سُوال)  

جواب : ہمارا اتنا وقت ساتھ گزرا ہے اور یہ بات Understood(یعنی طے شُدہ) ہے کہ جس کے ساتھ اتنا وقت گزرا ہو اس کی یاد کبھى نہ کبھى تو آ ہى جاتى ہے ۔ جیسے ابھی ان کا تذکرہ ہوا تو  ىاد آگئی۔ یوں ہی ماں کی بھى ىاد آتى ہے ، بڑے  بھائى اور  بڑى بہنوں کی بھى ىاد آتى ہے ۔ یوں ہی  بعض اسلامى بھائى اور  دوست جو اَب دُنىا مىں نہىں ہىں وہ کبھى کبھار ىاد آ جاتے ہیں۔ جس نے محبت دى وہ بھى ىاد آئے گا اور جس نے ستاىا وہ بھى ىاد آئے گا۔

سَجاوٹ دیکھنے کے لیے عورتوں کا نکلنا کیسا؟

سُوال : عىد مِیْلَادُ النَّبِی  بڑے زور و  شور سے مَنائی جاتی ہے اورسَجاوٹ کا بھی اِہتمام کیا جاتا ہے ، سَجاوٹ دىکھنے کے لىے مَردوں کے ساتھ ساتھ خَواتىن بھى جاتى ہىں اور جُلُوسِ مِىلاد مىں بھى شامِل ہو جاتى ہىں ، اِس بارے مىں آپ کیا اِرشاد فرماتے ہىں؟

جواب : جو عورتیں مَردوں کی بھیڑبھاڑ میں جاتی ہیں  انہیں خَواتىن نہ کہا جائے کیونکہ خاتون نىک عورت کو کہتے ہىں جیسے خاتونِ جنَّت۔ مُطلقاً بھی عورت کو خاتون بولا جاتا ہے لیکن میں



[1]      معرفة الصحابة ، باب الف ، باب الارقم بن ابی الارقم ، ۱ / ۲۹۳ ملتقطاً دار الکتب العلمیة بیروت

[2]      اسدالغابة ، باب السین و العین ، سعید بن  زید القرشی ، ۲ / ۴۵۶  دار احیاء التراث العربی بیروت

[3]      تاریخ  مدینة  دمشق ، ذکر من اسمه سعید ، سعید بن زید بن عمرو ، ۲۱ / ۶۵ دار الفکر بیروت

[4]      تھذیب الاسماء  واللغات ، باب سعید ، سعید بن زید ، ۱ / ۲۱۱ دار الفکر بیروت

[5]      الریاض النضرة ، ذکر ما جاء  فی  شھادته للعشرة بالجنة ، ۱ / ۳۵  دار الکتب العلمیة بیروت

[6]      الریاض النضرة ، الباب التاسع : فی مناقب ابی الاعور : سعید بن زید ، ۲ / ۳۵  

[7]      الریاض النضرة ، الباب التاسع : فی  مناقب ابی الاعور : سعید بن زید ، ۲ / ۳۵ 

[8]      معرفة الصحابة ، معرفة  سعید  بن  زید ، ۱ / ۱۵۳ حدیث : ۵۵۲ ملتقطاً 

[9]      الطبقات الکبریٰ ، طبقات البدرین...الخ ، سعید بن زید ، ۳ / ۲۹۴ دار الکتب العلمیة بیروت

[10]      مزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے مَطبوعہ رِسالے ”فىضانِ سعىد بن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ“ کا مُطالعہ کىجے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)



Total Pages: 7

Go To