Book Name:Piyaray Aqa Ka Piyara Bachpan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

 پیارے آقا کا  پیارا بچپن ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۲۸ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : مسلمان جب تک مجھ پر دُرُود شرىف پڑھتا رہتا ہے فرشتے اُس پر رَحمتىں بھىجتے رہتے ہىں اب بندے کى مَرضى ہے کہ کم پڑھے ىا زىادہ۔ ([2])    

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

طَلبہ کا ایک دوسرے کی چیزیں اِستعمال کرنا کیسا؟

سُوال : Students(یعنی طَلبہ)مىں عام طور پر ىہ بات رائج  ہے کہ اىک دوسرے کے نوٹس ، بک نوٹس ، اسٹىشنرى اور دِىگر چىزوں کا بِلاتکلف اور بِلااِجازت اِستعمال کرتے ہیں ، ایسا کرنا کیسا؟   

جواب :  Students(یعنی طَلبہ) کے ایک دوسرے کی چیزیں اِستعمال کرنے کی  مختلف صورتىں ہىں مثلاً  اىسے دو بالغ دوست جن کا آپس مىں اِس طرح کا دوستانہ ہے  کہ اىک دوسرے کى چىزىں بِلا تکلف اِستعمال کرتے ہیں اور کوئى بھی  بُرا نہىں مَناتا تو یہ جائز ہے ۔ اگر اىسا تعلق نہىں اور پھر بھی بِلا اجازت ایک دوسرے کی چیز اِس طرح اِستعمال کی کہ اسے کچھ  نُقصان پہنچا تو اِستعمال کرنے والا گناہگار ہو گا۔ ایسے موقع پر عموماً کہہ دیا جاتا ہے کہ میں نے نُقصان کہاں پہنچاىا ہے ؟بس دو پىپر ہى تو کاپی میں سے پھاڑے ہىں۔ یاد رہے کہ  ىہ بھی نُقصان ہے ۔ اِسى طرح قلم سے لکھا تو کچھ نہ کچھ قلم گھسا اور اس کىInk(یعنی سیاہی)اِستعمال ہوئى تو ىہ بھى نُقصان پہنچانا ہی ہے ۔ اگر نقصان نہ بھی پہنچے تب بھی بِغیر اجازت دوسرے  کی چیز اِستعمال نہ کی جائے کہ اگر قِیامت کے روز پکڑ ہوئی تو کیا بنے گا؟

دوسروں کی چیزیں اِستعمال نہ کرنے میں ہی عافیت ہے

بہرحال عافىت اِسى مىں ہے کہ بندہ اپنى چىز ہى اِستعمال کرے ۔ قریبی دوست کی اَشیا بھی بِلااِجازت اِستعمال نہ کرے اور نہ ہی بار بار اِستعمال کرنے کے لیے اِجازت طلب کرے کیونکہ بہت سے بے تکلف دوستوں میں بھی بعض اوقات مَسائِل پیدا  ہو جاتے ہىں مثلاً اگر کوئی  دوست کی موٹرسائیکل پنکچر کر کے آ گیا یا ایکسیڈنٹ میں کچھ نُقصان کر دیا تو اب جس کا نُقصان ہوا ہے وہ خوشى سے جھومے گا نہىں بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ  طنزیہ جملے کہہ کر اپنے غصے کا اِظہار کرے کہ تم کو صحىح چلانى نہىں آتى ، سارا پىٹرول ختم کر دىا ، پتا نہىں کہاں گئے تھے ؟ بَریک خَراب کر دیا تھا وغىرہ وغىرہ۔

سُوال نہ کرنے پر بیعت

ہمارے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان شدید فاقے بَرداشت کرتے لیکن کسی سے سُوال نہیں کرتے تھے ، بالخصوص حضرتِ سیِّدُنا ابوہرىرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کى اِس بارے میں کئی حکاىات ہىں۔ بعض صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دَستِ مُبارَک پر اِس بات پر بىعت کى تھى کہ کسى سے سُوال نہىں کرىں گے ۔ انہیں بیعت کرنے والوں میں حضرتِ سیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھى تھے ، اگر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سواری پر ہوتے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا چابُک(یعنی ہنٹر) زمىن پر تشرىف لے آتا  تو آپ کسى سے نہ کہتے کہ یہ اُٹھا کر دے دو  بلکہ خود گھوڑے سے نىچے تشرىف لاتے اور خود اُٹھاتے ۔ ([3])

حضرتِ سَعید بِن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فَضائل و مَناقِب

سُوال : عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ(ایک ہی وقت میں نام بنام جنَّت کی خوشخبری پانے والے دَس صحابہ)مىں سے اىک جَلیلُ القدر صَحابی حضرتِ سیِّدُنا سَعىد بِن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھى ہىں ، بَرائے کرم! ان کے کچھ مَناقب اور فَضائل بىان فرما دیجیے ۔ (عمان سے ایک عمانی اسلامی بھائی کا سُوال)

جواب : مَا شَآءَ اللّٰہ!  عمانى اسلامى بھائى کو مَرحبا! حضرتِ سیِّدُنا سعىد بِن زىد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَدِیْمُ الْاِسْلام ىعنى اِبتدائى وقتوں کے صحابى ہىں۔ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دارِ اَرقم([4])مىں داخِل ہونے سے پہلے ہى اِسلام لا چکے تھے ۔ ([5]) حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا لقب مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِیْن (یعنی مسلمانوں کی تعداد میں40 کا عَدد پورا کرنے والا) ہے



[1]      یہ رِسالہ ۲ ربیع الاوّل ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق 10نومبر 2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)        

 2     اِبن ماجه ، کتاب اقامة الصلوة والسنة فیھا ، باب الصلوة علی النبی ، ۱  / ۴۹۰ ، حدیث : ۹۰۷ دار المعرفة بیروت

[3]      ابن ماجه ، کتاب الزکاة ، باب کراھية المسئلة ، ۲ /  ۴۰۱ ، حدیث :  ۱۸۳۷۔ اِسی طرح کی ایک اور حدیثِ پاک کے تحت مشہور مُفَسّر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم ان ہی کے لیے خاص تھا ورنہ گِرا ہوا کوڑا کسی سے اُٹھوا لینا ناجائز نہیں۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳ / ۶۸ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)

[4]       دارِ اَرقم کوہِ صَفا کے قریب واقع ہے ، جب کفارِ جفاکار کی طرف سے خطرات بڑھے تو حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اِس میں پوشیدہ طور پر تشریف فرما رہے ۔ اِسی مکانِ عالیشان میں  حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مُشَرَّف بَہ اِسلام ہوئے ۔ (اخبار  مکة ، ذکر المواضع التی یستحب فیھا الصلاة  بمکة...الخ ، ۴ / ۱۲ دار خضر بیروت) 

[5]      الاصابة ، حرف السین المھملة ، سعید بن زید ، ۳ / ۸۷  دار الکتب العلمیة  بیروت



Total Pages: 7

Go To