Book Name:Ummahatul Momineen

درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی۔

    (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

          جب سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں ۔ باندی نے آکر وصال کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی وہ سب سے زیادہ محبوب تھیں اپنے والد ماجد کے بعد۔

   (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)

{۴}ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نسب شریف

         ام المؤمنین حفصہ بنت عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی۔ سیدہ کی والدہ ماجدہ حضرت زینب بنت مظعون ، حضرت عثمان  بن مظعون کی بہن ہیں ۔

                             (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ،ج۸،ص۶۵)

           حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  سے پہلے حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں ،جو شرکائے بدر میں سے ہیں سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کے ہمراہ ہجرت فرمائی۔

                      (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ،ج۸،ص۶۵)

     


 

 



Total Pages: 58

Go To