Book Name:Ummahatul Momineen

حکم حقیقی ماں کی طرح نہیںہے کیونکہ قرآن مجید میں حضرت حق جل جلالہ کا ارشاد ہے کہ

وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ-   (پ۲۲،الاحزاب:۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اورجب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔

        مسلمان اپنی حقیقی ماں کو تو دیکھ بھی سکتا ہے اور تنہائی میں بیٹھ کر اس سے بات چیت بھی کر سکتا ہے مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی مقدس ازواج سے ہر مسلمان کے لیے پردہ فرض ہے اور تنہائی میں ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا حرام ہے ۔

        اسی طرح حقیقی ماں کے ماں باپ،نانی نانا اورحقیقی ماں کے بھائی بہن ماموں خالہ ہوا کرتے ہیں ،مگرازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ماںباپ امت کے نانی نانااور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہنکے بھائی بہن امت کے ماموں خالہ نہیں ۔

        یہ احکام حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ان تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ہیں جن سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے نکاح فرمایا ،چاہے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے پہلے ان کا انتقال ہوا ہو یا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد انہوں نے وفات پائی ہو۔یہ سب کی سب امت کی مائیں ہیں اور ہر امتی کے لیے اس کی حقیقی ماں سے بڑھ کر لائق تعظیم و واجب الاحترام ہیں ۔(شرح العلامۃ الزرقانی،المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات،ج۴،ص۳۵۶)

       ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداداور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف ہے ۔مگر گیارہ امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سامنے ہی انتقال ہوگیا تھا

السلام نے پھر آغوش میں لے کر بھینچا پھر چھوڑ کر کہا پڑھئے میں نے کہا میں نہیںپڑھتا۔ تیسری مرتبہ پھر



Total Pages: 58

Go To