Book Name:Jootha Pani Phaink Dena Kesa?

اگر پانی کی کمی ہوئی تو اس کا سامنا تو سبھی کو ہی کرنا پڑے گا۔ بہرحال پانى کا اِسراف بہت زىادہ ہوگیا ہے ، ہو سکتا ہے کہ اِسى کى سَزا میں آج پانى کى تنگى کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔ اگر اب بھی ہم نے اِسراف کی عادت ختم  نہ کی  تو آگے چل کر نہ جانے کیا ہو گا؟اللہ پاک ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے کہ ہم نعمتوں کو ضائع کرنے سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

مالی کِس  طرح پانی ضائع کرتا ہے ؟

(اِس موقع پر نِگرانِ شُورىٰ نے فرمایا : )پانى کى قِلَّت جو اس وقت  اىک گھمبىر مَسئلہ بنا ہوا ہے اِس کا ایک سبب ضَرورت سے زائد پانی کا اِستعمال بھی ہے ۔ پانی ضائع کرنے مىں جہاں گھر کے اَفراد شامِل ہىں وہاں باغ کے مالى کا بھى اِس مُعاملے میں اپنا رىکارڈ ہے ۔ جب وہ باغ مىں پانى دے  رہا ہوتا ہے  تو بس وہ ہوتا ہے ، پائِپ ہوتا ہے اور پانى ہوتا ہے ، اِس قدر پانی ضائع کرتا ہے کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ۔ پانی دینے کے دَوران اگر کوئی اس کو  بُلا لے تو پانی بند کرنا گوارہ نہیں کرتا بلکہ یوں ہی پائِپ چھوڑ کر جواب دینے کے لیے آ جائے گا حالانکہ پائِپ سے بڑى تىزى کے ساتھ پانی بہہ رہا ہوتا ہے لیکن مالی کو اِس بات کى کوئى فِکر نہىں ہوتى کہ پانى ضائع ہو رہا ہے ۔

گاڑی دھونے اور دِیگر کاموں میں پانی کا اِسراف

اِسى طرح جہاں کارپارکنگ پاؤج ہوتا ہے تو وہاں  ڈرائیور حضرات گاڑی دھونے مىں جتنا پانى ضائع کرتے ہىں تو ىہ بھی اپنى مِثال آپ ہے ۔ پىٹرول پمپ پر جو کار واش کرنے والے ہوتے ہىں ىہ بھی بے تحاشا پانى ضائع کرتے ہىں۔ ٹرک اَڈّوں پر جو ٹرک یا  دِیگر گاڑیاں دھو رہے ہوتے ہىں وہ بھی بالٹىاں بھر بھر کر ڈال رہے ہوتے ہىں۔ اِس کے عِلاوہ جو لوگ گائے ، بھىنس اور دِیگر جانور اپنے فارم ہاؤس یا گھروں میں پالتے ہىں انہىں دھلانے میں بھی بہت زیادہ  پانى اِستعمال کرتے ہىں۔ شىمپو ىا صابن اِستعمال کرتے وقت بہت سے لوگ پانى بہتا چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ اس وقت شاور یا نَل کُھلا ہوانہىں ہونا چاہىے کہ بے جا پانی بہہ رہا ہوتا ہے ۔ بہرحال ہمیں اِسراف سے بچنے کی سوچ بنانی ہو گی ۔ جب یہ سوچ بن جائے گی تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہم  پانى، بجلى، رَقم اور  وقت وغیرہ نعمتوں کو ضائع ہونے سے بچانے میں کامىاب ہوجائىں گے ۔

امیرِ اَہلسنَّت کا پانی بچانے کا ذہن کیسے بنا؟

سُوال : مىں نے آپ کو کئى مَرتبہ دىکھا ہے کہ پانى کے اِستعمال مىں بہت زىادہ اِحتىاط فرماتے ہىں، اگر آپ اپنى کچھ اِحتىاطىں بھى بىان فرما دیں تو آپ سے محبت کرنے والے اور چاہنے والے بھى ان چىزوں کو اِختىار کر کے پانى کی بچت کر سکیں گے ۔ (نگرانِ شورىٰ کا سُوال)

جواب : مىرا پانی کی بچت کا ذہن بہار ِشرىعت کا یہ مَسئلہ پڑھ کر بنا کہ صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ مُفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : دَورانِ وُضو ناک مىں پانى چڑھانے کے لىے آدھا چُلُّو کافى ہے ، پورا چُلُّو پانى لىنا ىہ اِسراف ہے ۔ ([1]) اسے پڑھ کر میرا ذہن بنا کہ پانى ضَرورت کے مُطابق ہی اِستعمال کرنا چاہیے ، ضَرورت سے کچھ بھی زائدلیا تو اِسراف ہو گا۔ فتاوىٰ رَضوىہ مىں کُلّى کے لىے بھی آدھا چُلُّو پانی کافی لکھا ہے ۔ ([2]) لہٰذا آدھے چُلُّو پانی سے کُلّى کرنی چاہیے لىکن ہمارے ىہاں ایک کُلّی کے لیے کئی چُلُّو پانی بہا دیتے ہیں، وہ اِس طرح کہ چُلُّو بھرنے کے لیے پورا  نَل کھول دیتے ہیں، اب ایک کے بجائے دَس چُلُّو کا پانی بہہ جاتا ہے ۔ پھر ناک میں پانی ڈالتے وقت بھی ایسے ہی پورا  نَل کھول کر پانی بہاتے ہیں لیکن پھر بھی سُنَّت کے مُطابق ناک دُھلتا نہیں کیونکہ پانی ناک مىں نَرم بانسے تک چڑھانا ہوتا ہے جبکہ عموماً لوگ چڑھاتے نہىں بلکہ ناک کی نوک سے لگاتے ہىں۔

 یاد رَکھیے ! وُضُو مىں ناک کی نَرم ہڈّى تک پانى  پہنچانا سُنَّتِ مُؤکَّدہ ہے اورغسل مىں فرض ہے ۔ ناک کی نوک پر پانی لگانے کے سبب نہ جانے کتنے لوگوں کا غسل نہیں اُترتا ہوگا۔ نہ صحیح وُضُو کرنا آتا ہے نہ غسل، بس اندھىرنگرى چوپٹ راجا والا مُعاملہ چل رہا ہے ۔ دِینی مُعاملات ہوں یا دُنىوى ان میں لوگوں کو دِینی معلومات حاصِل کرنے سے کوئی غَرض ہى نہىں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کے زیرِ اِہتمام مختلف مقامات پر سات دِن کا نماز کورس کروایا جاتا ہے جس میں نماز، وُضُو اور غسل وغیرہ کے مَسائِل بھی سِکھائے جاتے ہیں یہ کورس کرنے کے لیے سات دِن دینے کو بھی لوگ تیار نہیں ہوتے ۔ دُنىا حاصِل کرنے کے لىے تو دَس سال پڑھ کر مىٹرک کى سَند لیں گے جس کى خاص وىلىو بھی نہىں اور پھر مَزید اعلیٰ تعلیم کے لیے آگے پڑھىں گے ، اِس مُلک مىں جائىں گے اُس مُلک مىں جائىں گے ، دُنىا حاصِل کرنے کے لىے وقت ہى وقت ہے مگر نماز سىکھنے اور دُرُست طریقے سے قرآنِ کرىم پڑھنا  سىکھنے کے لىے وقت ہی نہیں ہوتا۔  

جوٹھا پانی پھینک دینا کیسا؟

سُوال : بعض لوگ پانی پینے کے بعد بچا ہوا پانی پھینک دیتے ہیں ، ایسا کرنا کیسا ہے ؟([3])

جواب : بچا ہوا پانی پھینک دینا اِسراف اور گناہ ہے لیکن اکثریت بڑی بے دَردی کے ساتھ یہ پانی پھینک دیتی ہے ۔ ([4]) لگتا ہے کہ ہر نعمت میں اِسراف کرنا ىہ انٹرنىشنل پَرابلم بن گیا ہے ۔



[1]    بہارِ شریعت میں ہے : چُلّو میں پانی لیتے وقت خیال رکھیں کہ پانی نہ گِرے کہ اِسراف ہو گا۔ ایسا ہی جس کام کے لیے چُلّو میں پانی لیں اُس کا اندازہ رکھیں ضَرورت سے زیادہ نہ لیں مثلاً ناک میں پانی ڈالنے کے لیے آدھا چُلّو کافی ہے تو پورا چُلّو نہ لے کہ اِسراف ہو گا۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۳۰۲، حصہ : ۲ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

[2]   فتاویٰ رضویہ ، ۱ / ۷۶۵ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور

[3]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[4]    ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے کہ ”ایک صاحِب نے پانی پی کر بچا ہوا پھینک دیا اس پر(اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے )اِرشاد فرمایا : (بچا ہوا پانی)پھینکنا نہ چاہیے ۔ کسی بَرتن میں ڈال دیتے ، اِس وقت تو پانی اِفْرَاط (یعنی کثرت)سے ہے ، اِس ایک گھونٹ پانی کی قدر نہیں۔ جنگل میں جہاں پانی نہ ہو وہاں اِس کی قدر معلوم ہو سکتی ہے کہ اگرایک گھونٹ پانی مِل جائے تو ایک اِنسان کی جان بچ جائے ۔ حضرت خلیفہ ہارون رَشید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ عُلَما دوست تھے ۔ دَربار میں عُلَما  کامجمع ہر وقت لگا رہتا تھا۔ ایک مَرتبہ پانی پینے کے واسطے منگایا، مُنہ تک لے گئے تھے ، پینا چاہتے تھے کہ ایک عالِم صاحب نے فرمایا : اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن!ذرا ٹھہریئے ! میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ فوراً خلیفہ نے ہاتھ روک لیا۔ اُنہوں نے فرمایا : اگر آپ جنگل میں ہوں اور پانی مُیَسَّر نہ ہو اور پیاس کی شِدَّت ہو تواِتنا پانی کس قَدَر قیمت دے کر خریدیں گے ؟ فرمایا : وَاﷲ! آدھی سَلطنت دے کر۔ فرمایا : بس پی لیجئے !جب خلیفہ نے پی لیا، انہوں نے فرمایا : اب اگر یہ پانی نکلنا چاہے اور نہ نکل سکے تو کس قَدَر قیمت دے کر اِس کا نکلنامَول (یعنی خرید )لیں گے ؟کہا : وَاﷲ! پوری سَلطنت دے کر۔ اِرشاد فرمایا : بس آپ کی سَلطنت کی یہ حقیقت ہے کہ ایک مَرتبہ ایک چُلُّو پانی پر آدھی بِک جائے اور دوسری بار پوری اِس پر جتنا چاہے تکبر کر لیجئے ! (تاریخ الْخُلَفَا، ھارون الرشید، اخبارہ، ص۲۳۵ملخصاً)(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۳۷۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی) 



Total Pages: 5

Go To