Book Name:Bachon Ko Dhoop Laganay Kay Fawaid

مَرحوم عبدُالغفار عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّار دعوتِ اسلامى کے بالکل شروع کے مبلغ تھے ، اس وقت دعوتِ اسلامی دُنیا میں اتنی پھیلی نہیں تھی ۔  جس طرح اس وقت دعوتِ اسلامی میں نگرانِ شوریٰ حاجى عمران کا مقام ہے ایسے ہی پہلے مَرحوم عبدُ الغفار عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّار کا بھی تھا ۔  ان کی آواز اچھی تھی اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے گانے گاتے تھے ۔  جب دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوئے تو گانوں کے  بجائے نعتیں پڑھنے لگے ۔  اس وقت ہمارے پاس دعوتِ اسلامى کے سب سے بہترىن نعت خواں ىہى تھے ۔  نیک اور متقى اسلامى بھائى تھے ، چھوٹى چھوٹى باتوں مىں بھی  مَسائل پوچھا کرتے تھے ۔  جوانى مىں ان کا اِنتقال ہو گىا ، مَرحوم کو غسل دیا جا  رہا تھا ، میں بھی  غسل میں شامل ہو کر اسلامى بھائىوں کو غسل کی سُنَّتیں بتا رہا تھا ۔  میں اس وقت مَرحوم کی پشت کی طرف  تھا ، میرے علاوہ جتنے اسلامی بھائی چہرے کی طرف تھے شاید  سبھی  نے یہ منظر دیکھاکہ مَرحوم عبد ُالغفار عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَفَّار جس طرح اپنی زندگی میں مُسکَرایا کرتے تھے اس طرح مُسکَراہٹ ان کے چہرے پر  پھیل گئی ۔   

قبر کو پکّا کرنا کیسا؟

سُوال : قبر کو پکّا کرنا کیسا ہے ؟

جواب : قبر کو اوپر سے پکّا  کرنا جائز ہے ۔  البتہ وہ  زمىن جس پر مَیِّت رکھی  جاتی ہے وہ کچى ہونی چاہیے ، میرے خیال میں اسے کوئى پکّا کرتا بھى نہىں ۔ (امیرِ اہلسنَّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے  مُفتی صاحب نے فرمایا : )قبر کے اَندرونی حصّے میں مَیِّت کے قریب آگ مىں پکى ہوئى اِىنٹىں لگانے سے بچنا چاہىے کہ ان مىں آگ کا اَثر ہوتا ہے ۔  اگر ایسی اِینٹیں لگائى ہوئى ہوں تو بہتر ىہ ہے کہ ان کے اوپر گىلى مٹى کو لىپ دىا جائے ۔  

گناہوں سے بچنے کے لیے گوشہ نشینی اِختیار کرنے کا حکم

سُوال : جھوٹ ، غىبت اور  چغلى وغیرہ  عام ہے تو کىا ان گناہوں  سے بچنے کے لیے  گوشہ نشىنى اِختیار کر سکتے ہیں ؟ (پشاور سے سُوال)

جواب : گوشہ نشىنى کے کچھ آداب ہىں ، ہر ایک ان آداب کو  نہیں جانتا ۔ اس کی آفتىں بھی  ہوتى ہىں ۔ ([1])اگر کوئی عوام مىں بھی  آتا جاتا ہے ، نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے ، رِزقِ حلال کے لىے جدو جہد کرتا ہے اور اس کے علاوہ باقى وقت گھر مىں رہتا ہے تو اسے گوشہ نشىنى نہىں کہیں گے اگرچہ ىہ اچھا کام ہے ۔ بِلا ضَرورت لوگوں سے ملنے جلنے میں عموماً غىبت ، بَدنگاہى ، بَدگمانى ، بَدکلامى اور اس کے علاوہ دِیگر  بہت سے  گناہوں میں پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔  آپس مىں ملنے سے اگر کسى کے پاس روحانىت ہو تو وہ  بھى مُتأثر ہوتى ہے ۔  طرح طرح کے لوگوں سے چونکہ واسِطہ پڑتا ہے اور ان کے اَثرات غىر محسوس طرىقے سے اىک دوسرے پر پڑتے ہىں جس کی وجہ سے روحانىت باقی نہىں رہتى اور مُعاملات خراب  ہو جاتے ہىں ۔  اگر کسی کا عوام کے ساتھ مِلنا جُلنا رہتا ہے تو اُسے چاہیے کہ وہ اِستغفار کى کثرت کرتا رہے تاکہ لوگوں سے ملنے کے منفی اَثرات جو ہمیں نظر نہیں آتے ان سے بچا جا سکے ۔  اِستغفار کے کئی  صىغے ہىں جن میں سے ایک اَسْتَغْفِرُ اللہ پڑھنا بھى ہے ۔   روزانہ 70یا 100 مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللہ پڑھ لینا چاہیے ۔   

اچھی بُری صحبت کے غیر محسوس اَثرات

اچھی بُری صحبت کے غىر محسوس طرىقے سے اَثرات پڑ رہے ہوتے ہىں ہمیں  پتا نہىں چلتا ۔ اچھى صحبت والا شخص کچھ بھى نہ بولے پھر بھى اس کے اَثرات پڑتے ہىں ۔  آپ نے کئی لوگوں کو یہ کہتے سُنا ہو گا کہ جب مىں فُلاں سے مِلتا ہوں  تو مجھے سکون ملتا ہے ، نماز پڑھنے  اور گناہوں سے بچنے کو دِل کرتا ہے ، فُلاں مَزار پر حاضِری دیتا ہوں تو سکون مِلتا ہے لىکن جىسے ہى مىں وہاں سے نکلتا ہوں تو پھر وىسے کا وىسا ہو جاتا ہوں ۔ اِسى طرح جو بُرے لوگوں مثلاً ظالموں ، رِشوت خوروں ، بے نمازىوں ، غیبت کرنے اور گالیاں بکنے والوں کے پاس اُٹھے بىٹھے گا تو یہ لوگ اسے یہ نہیں بولیں گے کہ تو گالىاں نکال ىا  لوٹ مار کر ، ان کے ساتھ بىٹھنے سے ہی  اس کے کِردار مىں بُرائىوں کے اَثرات پىدا ہوتے رہىں گے کیونکہ صحبت کا اَثر تو پڑتا ہى ہے ۔ جتنا ہو سکے  اىسے لوگوں سے بچا جائے  جن کے منفى اَثرات پڑ سکتے ہوں ۔  لىکن کسى کو حقىر بھى نہ جانا جائے  کہ میں  تمہارے پاس اس لىے نہىں آتا کہ کہیں  تمہارے غَلَط اَثرات مجھ پر نہ  پڑ جائىں  کیونکہ یہ  اس کى دِل آزارى کا باعِث ہے اور اپنے سے دوسرے کو حقیر جاننا ىہ تکبر



[1]    گوشہ نشینی کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتب”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ صفحہ 373 اور اِحیاءُ العلوم (مترجم) جلد 2 کے صفحہ 797تا884 کا مُطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 



Total Pages: 8

Go To