Book Name:Bachon Ko Dhoop Laganay Kay Fawaid

بعد پھر  شیوڈ بڑھ جاتی ہے اور بندہ اُلٹا بَدصورت نظر آتا ہے ۔  جو بال گالوں پر جمے ہوئے ہوں انہیں چھیڑنا نہیں چاہیے ، کسی نے اس طرح   میرا خط بنا ہوا کبھی نہیں  دیکھا  ہو گا ۔  داڑھی کے  بالوں سے اوپر چھوٹے چھوٹے اور پتلے بال آ جاتے ہیں جسے لوگ روئیں بولتے ہیں اور ہماری میمنی زبان میں انہیں  رُواڑی کہا جاتا ہے تو اس طرح کے باریک بال جو داڑھی سے بالکل الگ اُگ جاتے ہیں انہیں لے سکتے ہیں لیکن اگر انہیں لیں گے تو بعد میں یہاں بھی سخت بال نکلنا شروع ہو جائیں گے ۔  اس لیے میرا یہ مشورہ ہے کہ  اگر ضَرورت نہ ہو تو یہاں اُسترا یا بلیڈ کچھ بھی نہ  لگایا جائے ۔ جو لوگ  داڑھی پوری نہیں مونڈتے وہ گڑھے ڈال کر  تھوڑا حِصّہ مونڈ ڈالتے ہیں ۔  اِسی طرح مذہبی لوگوں کی ایک تعدادہے  جو بعض اوقات  عِلم رکھنے کے باوجود  نچلے  ہونٹ کے نیچے داڑھی کے بال  لے رہی ہوتی ہے جسے بُچی بولتے ہیں ، اسے لینے کی  بھی ممانعت ہے لہٰذا ان بالوں کوجُوں کے توں چھوڑ دینا چاہیے ۔  البتہ اِکّا دُکّا بال جو کھانے کے دَوران مُنہ میں آ جاتا ہو اُسے کاٹ سکتے ہیں ۔ ([1])

داڑھی کا خط بنوانے میں غلطی نہ کیجیے

 لوگوں کی ایک تعداد ہو گی  کہ اُن کے حِساب سے اُن کی داڑھی پوری ہو گی مگر انہوں نے غَلَطیاں کی ہوئی ہوں گی ، انہیں چاہیے کہ توبہ کریں اور صحیح داڑھی رکھیں ۔ چہرے پر جو روئیں آجاتے ہیں ان کا خط بنانا تو جائز ہے مگر جس کو عوام خط سمجھتے ہیں اور داڑھی  ایک مٹھی سے کم کر دیتے ہیں وہ جائز نہیں ہے ۔ جو داڑھی ایک مٹھی سے کم کرے گا وہ گناہ گار ہو گا ۔  اب تو لوگوں نے داڑھی مُنڈانا کم کر دیا ہے اور چھوٹی  داڑھی رکھتے ہیں اور پھر اس میں طرح طرح کی ڈیزائنگ کرتے  ہیں ۔ پتا نہیں کسی فلمی ایکٹر نے اس طرح کی  داڑھی رکھی ہے   جسے دیکھ کر یہ اس کی نقالی کر رہے ہیں ۔  یاد رہے اگرمیٹھے مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیروی کریں گے تو جنَّت ملے گی ۔ حدیثِ پاک میں ہے : اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ یعنی آدمی  جس سے محبت کرتا ہے اُس کا حشر بھی اُسی کے ساتھ ہو گا  ۔ ([2]) ہم میٹھے میٹھے مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتے ہیں لہٰذا  اگر ان کی پیروی کریں گے ، ان کی نقالی کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ان کے پیچھے پیچھے جنَّت میں جائیں گے اور اگر فلمی ایکٹر کی نقالیاں کریں گے ، ان سے محبتیں رکھیں گے ، مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ان کی تصویریں سنبھال کر رکھیں گے اور انہیں اپنا آئیڈیل بنائیں گے تو پھر انجام خطرناک ہو سکتا ہے  ۔

مکڑى کو مارنا كيسا؟

سُوال : اکثر دىکھا گیا ہے کہ گھروں  کے اندر کونوں  مىں مکڑى جالا تن دیتی  ہے ، بعض لوگ ان جالوں کی صفائی کرتے ہوئے تنگ آ کر مکڑى کو بھی مار دىتے ہىں ، یہ اِرشاد فرمائیے کہ مکڑى کو مارنا کىسا ہے ؟

اِرشاد : مکڑى کو مارنے مىں حَرج نہىں ہے ۔  مکڑ ی کے  جالے بھى گھروں سے صاف کرنے چاہئیں ورنہ تنگدستى آتى ہے ۔ ([3])  

مَرحوم تختۂ غسل پر مُسکرا دیئے

سُوال : اىسا کىا عمل کىا جائے جس کے سبب نَزع کے عالَم مىں بندے کے چہرے پر مُسکراہٹ آ جائے ؟(نگرانِ شورىٰ کا سُوال)

اِرشاد : نَزع کے عالَم مىں اللہ پاک کے نىک بندوں کے چہروں پر مُسکراہٹ کا  دىکھا جانا ثابِت ہے ۔ حضور مُفتىِ اعظم ہند مولانا مصطفے ٰ رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے اِنتقال کے وقت ىا اِنتقال کے بعد چہرے پر مسکراہٹ تھى ۔  نَزع کے عالَم مىں چہرے پر مسکراہٹ کا کوئى وِرد تو مجھے معلوم نہىں اور نہ ہی میں نے کہیں پڑھا یا سُنا  ہے ۔  ہاں جس پر اللہ پاک  کی رَحمت اور اس کا کَرم ہوجائے تو مَرتے وقت اس کے چہرے پر مُسکراہٹ آ جاتی ہے ۔

 



[1]    اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں ، جبڑوں ، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عَرضاً اس کا بالائی حِصّہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے ۔  جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارِج ہیں ، یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخِل نہیں یہ بال قدرتی طور پر مُوئے رِیش (یعنی داڑھی کے بالوں)سے جُدا مُمتاز ہوتے ہیں اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مَخروطی شکل پر جانبِ ذقن (یعنی ٹھوڑی کی طرف)جاتا ہے یہ بال اس راہ سے جُداہوتے ہیں نہ ان میں مُوئے مَحاسِن(یعنی داڑھی کے بالوں) کے مِثل قوَّتِ نامِیہ(یعنی بڑھنے کی قوَّت) ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پَرورش باعِثِ تشویۂ خَلق وتقبیحِ صورت(یعنی مخلوق کی تشویش اور چہرے کی بَدصورتی کاسبب) ہوتی ہے جو شرعاً ہر گز پسندیدہ نہیں ۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ۵۹۶)     

[2]    بخاری ، کتاب الأدب ، باب علامة حب الله...الخ ، ۴ / ۱۴۷ ، حدیث : ۶۱۶۸ دار الکتب العلمیة  بيروت

[3]    حضرتِ سیِّدُنا مولائے کائنات ، مولا مشکل کشا ، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خُداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : اپنے گھروں  سے مکڑیوں  کے جالے دور کرو کیونکہ انہیں (گھروں  میں  لگا ہوا) چھوڑ دینا   ناداری کا باعِث ہوتا ہے ۔  (مدارک ، پ۲۰ ، العنکبوت ، تحت الآیة : ۴۱ ، ص۸۹۳ دار المعرفة بيروت ) 



Total Pages: 8

Go To