Book Name:Ghulaab Ki Patiyon Par Paon Rakhna Kaisa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

گُلاب کی پتّیوں  پر پاؤں رکھنا کیسا؟([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۳۱ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : جس نے دِن اور رات مىں مىرى طرف شوق و محبت کى وجہ سے تىن تىن مَرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا  اللہ پاک پر حق ہے کہ وہ اس کے اُس دِن اور اُس رات کے گناہ بخش دے  ۔ ([2])      

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قرآنِ پاک کا یاد ہوجانا معجزہ ہے

سُوال : قرآنِ پاک آسانی کے ساتھ یاد ہو جاتاہے ، یہاں تک کہ  نابىنا لوگ بھى اسے ىاد کر لىتے ہىں، اِس کی کیا وجہ ہے ؟  

جواب: مَاشَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ىہ قرآنِ کرىم کا معجزہ ہے کہ مسلمانوں کا بچہ بچہ اسے ىاد کر لىتا ہے ۔  دُنیا میں  کوئى اىسى کتاب نہىں جس کوحَرف  بہ حَرف حِفظ کىا جائے ۔  بالفرض اگر کسى نے کوئی کتاب حِفظ کر بھی لی جب بھی اس کى کوئى حىثىت نہىں اس لیے کہ قرآنِ کرىم تو لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے سىنوں مىں محفوظ ہوتا  ہے اور ىہ سِلسِلہ آج سے نہیں بلکہ صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے دور سے چلا آرہا ہے ۔  صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں بھى اىک تعداد حافِظِ قرآن تھى ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے مدارسُ المدینہ میں ہزارہا طُلَبائے کِرام حِفظ کر رہے ہىں اور ہزارہا حِفظ کی سعادت پا کر  سَند لے چکے ہیں ۔ ([3])  دیکھا یہ گیا ہے کہ نابىنا اَفراد میں زىادہ حافِظِ قرآن پائے جاتے ہىں ۔  اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے حافظے بہت مَضبوط ہوتے ہىں ۔  عام طور پر بَدنگاہى حافِظہ کی کمزوری کا سبب بنتی ہے جبکہ یہ بَدنگاہی کر ہی نہیں پاتے ۔  اگر کوئى نابىنا حافِظِ قرآن نہ بھى ہو تب بھی عموماً لو گ اسے حافِظ جى بولتے ہىں، تو نابینا اَفراد کا بھی حافِظ بن جانا یقیناً قرآنِ کرىم کا اعجاز ہے ۔  بہرحال اس سے ان لوگوں کو ضَرور سبق حاصِل کرنا چاہیے جو آنکھوں والے ہیں لیکن دیکھ کر بھی قرآنِ پاک نہیں پڑھ سکتے ۔  یقیناً یہ بڑی بَدنصىبی کی بات ہے ۔ جس سے ہو سکے  اسے کچھ نہ کچھ سورتىں زبانی ىاد کرنی چاہئیں، ورنہ  کم از کم  دىکھ کر قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے رہنا چاہیے ۔ اللہ  کرىم ہم سب کو قرآنِ کرىم سے محبت عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

حجرِ اَسود کِس نے نصب کیا تھا؟

سُوال : حجرِ اَسود خانۂ  کعبہ میں کس نے نصب کیا تھا ؟

جواب: سب سے پہلے حضرتِ سَیِّدُنا اِبراہىم خَلِیْلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   نے کعبہ شرىف کی تعمىر کرنے کے بعد حجرِ اَسود کو اس میں نصب فرماىا تھا ۔ اب  اس کا نام حجرِ اَسود (یعنی سیاہ پتھر، Black Stone) ہے جبکہ اس وقت یہ حجرِ اَبىض یعنی سفىد پتھر تھا ۔  پھر اِنسانوں کے گناہوں کى وجہ سے اس کا رنگ کالا پڑ گىا ۔  ([4])

نبىٔ کرىم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى عمر ِمبارک جب 35 سال ہوئى تو بارش اور سىلاب کے سبب کعبہ شرىف کى عمارت شہىد ہو گئى ۔  قرىش نے مِل جُل کر نئی تعمىر شروع کى ۔ جب حجرِ اَسود نصب کرنے کا معاملہ آىا تو قبائل مىں سخت جھگڑا ہو گىا، ہر قبىلہ چاہتا تھا کہ ہم حجرِ اَسود اس کی جگہ نصب ىعنى فکس کرىں چنانچہ نبىِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى رائے سے حجرِ اَسود کو چادر مىں رکھا گىا اور ىہ طے پاىا کہ تمام قبىلوں مىں سے اىک اىک شخص آئے اور سب چادر تھام کر مُقدس پتھر (Sacred Stone) کو اُٹھائىں ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور جب  حجرِ اَسود اپنے مقام تک پہنچ گىا تو حضور ِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے بَرکت والے ہاتھوں سے اس مُقَدَّس پتھر کو اُٹھا کر اس کى جگہ پر رکھ دىا ۔ ([5])

 



[1]    یہ رِسالہ ۲۶ مُحَرَّمُ الْحَرام ۱۴۴۰؁ھ بمطابق 6  اکتوبر 2018 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔  (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)     

2   معجم کبیر، قیس بن عائد ابوکاھل، ۱۸ / ۳۶۲، حدیث: ۹۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت

[3]    دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے پاکستان میں  مَدارسُ المدینہ لِلبَنین  کی تعداد 1892 ہے ، جن میں پڑھنے والے طلبائے کِرام کی تعداد 91139 ہے اور 2017 تک کی کارگردگی کے مُطابق  مَدارسُ المدینہ لِلبَنین سے حِفظ کی سعادت پا کر سند حاصِل کرنے والے حُفّاظِ کِرام  کی تعداد 74329 ہے ۔  جبکہ مَدارسُ المدینہ للبنات کی تعداد 764 ہے جن میں پڑھنے والی  طالِبات  کی تعداد 39586 ہے ۔  (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)     

[4]    ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء فی  فضل الحجر الاسود و الرکن، ۲ / ۲۴۸، حدیث: ۸۷۸ دار  الفکر بیروت 

[5]    سيرة ابنِ هشام، حدیث بنیان الکعبة...الخ، ص۷۷-۷۹  ملتقطاً دار الکتب العلمیة بیروت



Total Pages: 9

Go To