Book Name:Aghwa Se Hifazat Kay Aurad

سُوال : عمان سے آئے ہوئے عمانی اِسلامى بھائى سُوال کر رہے ہىں کہ مىں شافعی( یعنی حضرتِ سَیِّدُنا امام شافعی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کے مذہب کا  پیروکار) ہوں اور ىہاں( عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں) عصر کى نماز حَنَفى مذہب کے مُطابق تاخیر سے ہوتى ہے تو کىا مجھے اِجازت ہے کہ مىں جماعت چھوڑ کر اَوَّل وقت میں اپنے مذہب پر نماز پڑھوں ىا جماعت کے ساتھ حَنَفى مذہب پر ہى نماز پڑھوں؟

جواب : عصر کا وقت غُروبِ آفتاب  تک باقی ہوتا ہے اور اس سے تقریباً 20 مِنَٹ پہلے وقتِ کراہت شروع ہو جاتا ہے ۔ مکروہ وقت سے پہلے پہلے نماز  پڑھ سکتے ہىں ۔ بہرحال شافعی مذہب والے حَنَفی اِمام کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ ہاں اگر حَنَفی اِمام کوئی ایسا فِعل کرے  جس سے شافعی مذہب کے مُطابق وُضو ٹوٹ جاتا ہو یا نماز ہی نہ ہوتی ہو تو ایسی صورت میں شافعی مذہب والا حنفی اِمام کی اِقتدا نہیں کر سکتا ۔ ( [1])

مَدَنی ماحول سے وابستگی اور دِین کا دِفاع

سُوال : ىو کے سے آئے ہوئے اسلامى بھائى نے اپنے تاثرات دیتے ہوئے ( ۱۹ مُحَرَّمُ الْحَرام ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق 29 ستمبر 2018 کو) امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں عرض کی : مىں نے کم و بىش پانچ سال پہلے اِسلام قبول کىا تھا اور آپ کى زىارت کے لىے حاضِر ہوا ہوں ۔

جواب : ( اس پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے انہیں اِصلاح کے مَدَنی پھول دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا : ) دعوتِ اسلامى کا  مَدَنى ماحول مَت چھوڑنا اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس مىں آپ کے دِىن مذہب کا دِفاع ( Defence) ہوتا رہے گا ۔ اللّٰہ پاک کَرم فرمائے حالات اگرچہ یہاں( وطنِ عزیز پاکستان) کے بھی صحیح نہیں ہیں مگر آپ کے ہاں( یو کے کا ) ماحول بہت زىادہ خراب ہے ، گناہوں کا سىلاب آىا ہوا ہے اور غىر مُسلموں کى اکثرىت ہے ۔ وہاں عاشقانِ رَسول کی صحبت میں رہیں گے اور ان کے ہمراہ سُنَّتوں کی تَربیت کے مَدَنی قافلوں میں سفر کرتے رہیں گے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اِسلام مىں ترقی کرتے رہىں گے ۔ مىرے لىے بے حساب مَغفرت کى دُعا کىجئے گا ۔

تُرکی کے بارے میں تاثرات

سُوال : کىا آپ کبھى تُرکى گئے ہىں؟( سوشل مىڈىا  کا سوال)

جواب : ابھى( ۱۹ مُحَرَّمُ الْحَرام ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق 29 ستمبر 2018) تک تو تُرکی نہىں گىا لیکن جانے کا بہت  دِل کرتا ہے ۔ بس سُستى اور صحت رُکاوٹ بن رہى ہیں ۔ وہاں استنبول مىں توپ کاپی مىوزىم ( Topkapi palace museum) ہے ، جس میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى اِستِعمال شُدہ نعمتىں ہیں جن کى زىارت کرنے  کی مىرى خواہش دعوتِ اسلامى بننے سے بھى پہلے کی ہے ، لیکن اس وقت جانے کے اَسباب نہ تھے ، اب جا تو سکتا ہوں مگر صحت اور دِىگر عَوارِض رُکاوٹ بن رہے ہىں ۔ وہاں  صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مَزارات بھی ہیں ، اللہ پاک چاہے گا تو حاضِری  ہو جائے گى ۔

 ابھی سفرِمدىنہ کرلىا ہے جس سے دِل کا دَرِىچہ کُھلا ہے  کہ سفرِ حج کی آزمائشیں ، تکلىفىں کعبہ شریف کا طواف اور سَعى مىں جو تھکن ہوتی ہے وہ  سب بھی تو  بَرداشت ہو گئی ہیں ۔ مگر کَرم کى جو بارشىں حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں ہىں وہ معلوم نہیں کہ دوسرى جگہوں پر بھی ہیں یا نہیں ، دوسری جگہوں میں اگر آزمائِش ہو گئى تو پھر کىا کرىں گے ۔ ىوں کئى طرح کے  خوف لاحِق  ہىں کیونکہ صحت کے اِعتبار سے اب  ہِمَّت نہىں ہو رہى ۔ اللہ پاک چاہے گا تو ہِمَّت بھی آ جائے گى ۔ مجھے جىتے جى اِستنبول کے توپ کاپى مىوزىم کى زىارت کرنى ہے ، پھر وہاں کے  اسلامى بھائىوں سے بھی مِلنا ہے ۔ تُرکی میں دعوتِ اسلامی کے بہت اہلِ محبت ہیں ، میں ان کے عشقِ رَسول سے بڑا مُتأثر ہوا ہوں ، ان  لوگوں نے مسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعمیر کا جو کام کیا ہے اس کی تاریخ پڑھ کر حىرت ہوتى ہے ، اىک اىک پتھر کو مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے باہر جا کر تَراشتے تھے تاکہ ہتھوڑى کی آواز سے پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو تکلىف نہ ہو ۔ پھر پتھر اور سلیپ وغیرہ کو  لگاتے ہوئے دُرُست کرنے کے لیے جو تھوڑی بہت ہتھوڑی اِستعمال کرنے کی ضَرورت پڑتی تو یہ لوگ ہتھوڑی پر رَبڑ لپیٹ کر اِستعمال  کرتے تاکہ آواز پید ا نہ ہو اور یہ سارا کام کرنے والے حُفّاظِ کِرام تھے ۔ اِس طرح انہوں نے اَدب و اِحترام  کے ساتھ مسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعمیر کا کام کیا ۔ ( [2])  

 



[1]    اِسی طرح کے ایک سُوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : اگر معلوم ہے کہ اس وقت امام میں وہ بات ہے جس کے سبب میرے مذہب میں اس کی طہارت یا نماز فاسِد ہے تو اِقتدا حرام اور نماز باطِل ، اور اگر اس وقتِ خاص کا حال معلوم نہیں مگر یہ معلوم ہے کہ یہ امام میرے مذہب کے فرائض وشَرائط کی اِحتیاط نہیں کرتا تو اس کی اِقتدا ممنوع اور اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ اور اگر معلوم ہے کہ میرے مذہب کی بھی رِعایت و اِحتیاط کرتاہے یا معلوم ہو کہ اس نمازِ خاص میں رِعایت کئے ہوئے ہے تو اس کے پیچھے نماز بِلا کراہت جائز ہے جبکہ سُنّی صحیحُ العقیدہ ہو نہ غیر مقلد کہ اپنے آپ کو شافعی ظاہر کرے اور اگر کچھ نہیں معلوم تو اس کی اِقتدا مکروہِ تنزیہی ۔ ( فتاویٰ رضویہ ، ۶ / ۵۷۷ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور)

[2]    تاریخ نجد و حجاز ، مقدمہ ، ص ۱۱تا ۱۴  ماخوذاً  ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور



Total Pages: 13

Go To