Book Name:Saman-e-Bakhsish

جب کرم آپ کا عاصی پہ شہا ہوتا ہے

جس کا حامی وہ شہِ ہر دو سرا ہوتا ہے

قید و بندِ دوجہاں سے وہ رِہا ہوتا ہے

اُن کا اِرشاد ہے اِرشادِ خداوندِ جہاں

یہ وہی کہتے ہیں جو رب کا کہا ہوتا ہے

بادشاہانِ جہاں ہوتے ہیں منگتا اُس کے

آپ کے کوچے کا شاہا جو گدا ہوتا ہے

پلہ نیکی کا اِشارے سے بڑھا دیتے ہیں

جب کرم بندہ نوازی پہ تلا ہوتا ہے

سارا عالم ہے رضا جوئے خداوند ِ جہاں

اور خدا آپ کا جویائے رضا ہوتا ہے

 

ہم نے یوں شمعِ رِسالت سے لگائی ہے لو

سب کی جھولی میں اُنہیں کا تو دِیا ہوتا ہے

اَز شہا تا بگدایانِ جہاں اِک عالم

آپ کے دَر پہ شہا عرض رَسا ہوتا ہے

ایسی سرکار ہے بھرپور جہاں سے لینے

روز ایک میلہ نیا دَر پہ لگا ہوتا ہے

دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہیں خزانہ لیکن

جتنا خالی کریں اُتنا ہی بھرا ہوتا ہے

کردہ ناکردہ اِشارے میں تمہارے ہوجائے

بے کیا آپ کے صدقہ میں کیا ہوتا ہے

بیکس و بے بس و بے یارو مَددگار جو ہو

آپ کے دَر سے شہا سب کا بھلا ہوتا ہے

ان سے دشمن کی مصیبت نہیں دیکھی جاتی

دشمنوں کے لیے جی اُن کا برا ہوتا ہے

جگمگا اُٹھتا ہے دل کا مِرے ذَرَّہ ذَرَّہ

جب مرا جانِ قمر جلوہ نما ہوتا ہے

 



Total Pages: 123

Go To