Book Name:Saman-e-Bakhsish

دَرد مندی کے لیے آدم سے تا عیسیٰ گئے

دے جو اپنے دَرد کی حکمی دوا ملتا نہیں

جن سے امیدِ کرم تھی دے دیا سب نے جواب

آج کے کام آنے والا خسروا ملتا نہیں

یاس کا عالم ہے سب سے آس توڑے آئے ہیں

ذاتِ والا کے سوا اور آسرا ملتا نہیں

جل رہے ہیں پھنک رہے ہیں عاشقانِ سوختہ

دھوپ ہے اور سایۂ زُلفِ رَسا ملتا نہیں

وہ ہیں خورشید رسالت نور کا سایہ کہاں

اس سبب سے سایۂ خیر الوریٰ ملتا نہیں

دشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دشمن دِین کا

ان کے دشمن سے کبھی ان کا گدا ملتا نہیں

 

قاسم نعمت سے ہم مانگیں تو نجدی یوں بکیں

کیوں  نبی  سے  مانگئے  اللّٰہ  سے  کیا  ملتا  نہیں

مُصْطَفٰی   مَا  جَآئَ   اِلَّا   رَحْمَۃً    لِّلْعٰلَمِیْن

چارہ سازِ دَو سرا تیرے سوا ملتا نہیں

خود خدا بے واسطہ دے یہ ہمارا منہ کہاں

واسطہ سرکار ہیں بے واسطہ ملتا نہیں

ہم تو ہم وہ انبیاء کے بھی لیے ہیں واسطہ

ان کو بھی جو ملتا ہے بے واسطہ ملتا نہیں

اَنبیاء بعض اَولیاء فائز ہیں اس سرکار میں

ہر ولی کو راستہ بے واسطہ ملتا نہیں

دونوں عالم پاتے ہیں صدقہ اسی سرکار کا

خود خدا سے پائے جو ان کے سوا ملتا نہیں

زَن زَمین و زَور اور زَر کے ہیں گاہک ہر کہیں

دل سے جو ہو طالب ذِکر خدا ملتا نہیں

چارزا اِک ذال کے بدلے میں لیں چوکس رہے

یہ نہ سمجھے یہ اِکائی سیکڑا ملتا نہیں

 

دادِ دُنیا کیسا اُف سنتے نہیں فریاد بھی

سننے والا دَرد کا کوئی شہا ملتا نہیں

باپ ماں بھائی بہن فرزَندو زَن اِک اِک جدا

غم زَدہ ہر ایک ہے اور غم زُدہ ملتا نہیں

جو محب کی چیز ہے محبوب کے قبضے کی ہے

ہاتھ میں ہو جس کے سب کچھ اس سے کیا ملتا نہیں

 



Total Pages: 123

Go To