Book Name:Saman-e-Bakhsish

آبلے پاؤں میں پڑ جائیں جو چلتے چلتے

راہِ طیبہ میں چلوں سر سے قدم کی صورت

تم اگر چاہو تو اِک چین و جبیں سے اپنی

کردو اَعدا کو قلم شاخِ قلم کی صورت

نامِ والا ترا اے کاش مثالِ مجنوں

ریگ پر اُنگلیوں سے لکھوں قلم کی صورت

تیرا دِیدار کرے رحم مجسم تیرا

دیکھنی ہو جسے رحماں کے کرم کی صورت

آپ ہیں شانِ کرم کانِ کرم جانِ کرم

آپ ہیں فضل اَتم لطفِ اَعم کی صورت

 

اِک اِشارہ ترے اَبرو کا شہِ ہردوسرا

کاٹ دے دشمنوں کو تیغِ دودَم کی صورت

آپ کا مثل شہا کیسے نظر میں آئے

کس نے دیکھی ہے بھلا اہل عدم کی صورت

موم ہے ان کے قدم کے لیے دل پتھر کا

سنگ نے دل میں رکھی اُن کے قدم کی صورت

خواب میں بھی نہ نظر آئے اگر تم چاہو

دَرد و غم، رَنج و اَلم، ظلم و ستم کی صورت

اے سحابِ کرم اِک بوند کرم کی پڑجائے

صفحۂ دِل سے مرے محو ہو غم کی صورت

جب سے سوکھے ہیں مرے کشت اَمل باغِ عمل

یاد آتی ہے مجھے اَبرِ کرم کی صورت

صفحۂ دِل پہ مرے نامِ نبی کندہ ہو

نقش ہو دِل پہ مرے اُن کے علم کی صورت

 

تیری تصویر کھنچے رُوحِ منوّر کیوں کر

کیسے کھینچے کوئی مِصباحِ ظُلَم کی صورت

 



Total Pages: 123

Go To