Book Name:Saman-e-Bakhsish

ہوچکا تجھ سے مَداوا عشق کے بیمار کا

فتنے جو اُٹھے مٹا ڈالے رَوِش نے آپ کی

کیوں نہ ہو دشمن بھی قائل خوبیٔ رَفتار کا

چوکڑی بھولا بُراقِ باد پا یہ دیکھ کر

ہے قدم دَوشِ صبا پر اس سَبک رفتار کا

 

کوئی دَم کی دیر ہے آتے ہیں دَم کی دیر ہے

اب چمکتا ہے مقدر طالبِ دِیدار کا

جب گرا میں بے خودی میں ان کے قدموں پر گرا

کام تو میں نے کیا اَچھے بھلے ہشیار کا

آبلہ پا چل رہا ہے بے خودی میں سر کے بل

کام دیوانہ بھی کرتا ہے کبھی ہشیار کا

آبلوں کے سب کٹورے آہ خالی ہوگئے

منہ ابھی تر بھی نہ ہونے پایا تھا ہر خار کا

آبلے کم مائیگی پر اپنی روئیں رات دن

سوکھ کر کانٹا ہوا دیکھیں بدن ہر خار کا

وا اسی برتے پہ تھا یہ تَتَّا پانی واہ واہ

پیاس کیا بجھتی دہن بھی تر نہیں ہر خار کا

پاؤں میں چبھتے تھے پہلے اَب تو دِل میں چبھتے ہیں

یاد آتا ہے مجھے رہ رہ کے چبھنا خار کا

 

پاؤں کیا میں دِل میں رکھ لوں پاؤں جو طیبہ کے خار

مجھ سے شوریدہ کو کیا کھٹکا ہو نوکِ خار کا

راہ پر کانٹے بچھے ہیں کانٹوں پر چلنی ہے راہ

ہر قدم ہے دِل میں کھٹکا اس رَہِ پُر خار کا

خارِ گل سے دَہر میں کوئی چمن خالی نہیں

یہ مَدینہ ہے کہ ہے گلشن گلِ بے خار کا

گل ہو صحرا میں تو بلبل کے لئے صحرا چمن

 



Total Pages: 123

Go To