Book Name:Malfuzat e Ameer Ahlesunnat 10

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

چہرہ خوبصورت بناے  کا عمل( [1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ( ۲۸ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات  کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

       رَسُولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : جس نے مجھ پر اىک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ پاک اُس پر دَس رَحمتىں نازِل فرماتا ہے ، دَس گناہ مِٹاتا ہے اور دَس دَرَجات بلند فرماتا ہے ۔ ( [2])      

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

چہرے کو خوبصورت بنانے کا عمل

سُوال :  چہرے کو خوبصورت بنانے کے لىے کوئى عمل ىا وظىفہ بتا دیجىے ۔  

جواب : تہجد کی نماز صحیح طریقے سے  ادا کی جائے تو اس سے چہرے پر نُور آتا ہے ، مگر نمازِ تہجد  اِس نیت سے نہ پڑھی جائے کہ چہرہ نورانی ہو جائے بلکہ اللہ پاک کى رضا پانے اور ثواب کمانے کی نیت سے پڑھى جائے ، ضمناً چہرے پرنورانیت  بھى اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  آ ہی جائے گى ۔  نورانىت سے بڑھ کر اور کیا  خوبصورتى ہو سکتی ہے ! سفىد رنگ تو انگرىزوں کے بھى ہوتے ہىں مگر ان میں نورانیت نہیں ہوتی اور بعض تو اىسے ہوتے ہىں کہ انہیں  دىکھنے کو دِل نہیں  کرتا ۔  نورانىت ان لوگوں  کے چہروں پر ہوتی ہے جو حُضورِ پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کونُور مانتے ہىں ۔  ىہ حقىقت ہے ، دُنىا دىکھى بھالى ہے ، عُلَمائے  اہلسنَّت و مَشائخِ اہلسنَّت اور جوبھی باریش اور باعمل سُنّی مسلمان ہوتے ہیں ان  کے چہرے نکھرے نکھرے اور نور نور نظر آتے ہیں کیونکہ ہمارا چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک کی زبان پر یہی  ہوتا ہے :

نُور والا آىا ہے ہاں نُور لے کر آىا ہے

سارے  عالَم مىں ىہ دىکھو نُور کىسا چھاىا ہے     ( وَسائلِ بخشش)

نمازِ تہجد ادا کرنے کا وقت

سُوال : کیانمازِ تہجد ادا کرنے کا وقت رات بارہ بجے ہے ؟

جواب : عشا کى نماز پڑھ کر اگر کوئی  اىک مِنَٹ کے لیے بھی سو گیا تو وہ تہجد کی نماز  ادا کر سکتا ہے ۔  مثلاً سَوا آٹھ ( 8 : 15) بجے عشا کی نماز کا وقت ہے ، کوئی شخص نماز پڑھ کر سو گىا پونے نو ( 8 : 45) بجے اس کی  آنکھ کھل گئى تو وہ  تہجد ادا کر سکتا ہے ۔  اگر کوئی  سارى رات جاگتا رہا  تو وہ  تہجد کی نماز ادا نہیں کر سکتا کیونکہ نمازِ تہجد کے لیے عشا کی نماز کے بعد سونا شرط ہے چاہے اىک مِنَٹ کے لىے سوئے اگرچہ بىٹھے بىٹھے آنکھ لگ جائے ۔

اچھے اَخلاق  اپنانے اور ان پر اِستقامت پانے کا طریقہ

سُوال : اچھے اَخلاق اپنانے اور ان پر اِستقامت پانے کا طریقہ بیان فرما دیجیے ۔  

جواب : عام طور پر اچھے اَخلاق والا اُسے کہا جاتا ہے جو مسکرا کر خوب گرم جوشى سے مُلاقات کرے ۔ مسکرا  کر گرم جوشى سے مُلاقات کرنا بھی اگرچہ اَخلاق کا حصہ ہے لىکن اس میں حُسنِ معاشرت ، دوسروں کو نفع پہنچانا اور نقصان  سے بچانا وغیرہ چیزیں بھی داخل ہیں ۔  کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مسکرا کر گرم جوشی سے مِل رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی دوسروں کو نقصان بھی پہنچا رہے ہوتے ہیں  ۔ اگر کوئی بات ان کے مزاج کے خلاف ہو جائے تو وہ غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں مثلاً کسی نے آپ کے ساتھ مسکرا  کر گرم جوشی سے ملاقات کی اور پھر بڑی محبت کے ساتھ بَریانی کی پلیٹ لا کر آپ کو پیش کی ، اس دَوران آپ نے کوئی بات اس کے مزاج کے خلاف کر دی  تو اس نے وہی پلیٹ آپ کے مُنہ پر  مار دی تو اسے حُسنِ اَخلاق نہیں بلکہ بَداخلاقی کہیں گے ۔

اچھے اَخلاق اور  خوب مسکرا مسکرا کر  تو بعض تاجِر حضرات بھی ملتے ہیں اور  چائے بوتل کے ذَریعے گاہک کی خوب آؤ بھگت بھی کرتے ہیں ، مگر سودا نہ ہونے یا ان



[1]    یہ رِسالہ ۵ مُحَرَّمُ الْحَرام ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق 15ستمبر 2018ءکو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذا کرے کا تحریری گلدستہ ہے،جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے’’ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ ( شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)    

[2]    نسائی،کتاب السھو،باب الفضل فی الصلاة علی النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ،ص۲۲۲،حدیث:۱۲۹۴ دار الکتب العلمیة بیروت



Total Pages: 8

Go To