Book Name:Malfuzat Ameer e Ahlesunnat Qisst 8

ہر وُضو کے عِوَض ایک صَدَقہ ادا کر دے ۔اس طرح بال  ٹوٹنے  کی وجہ سے لازم آنے والے کفارے کی اَدائیگی ہو جائے گی۔ یوں ہی بعض لوگوں کو داڑھی سے کھیلنے کی عادت ہوتی ہے وہ بار بار اپنی داڑھی کو ہاتھ لگاتے رہتے ہیں اِحرام کے عِلاوہ ایسا کرنے میں کوئی حَرج نہیں مگر حالت ِاِحرام میں اس کی وجہ سے بال ٹوٹ گئے تو کفارہ لازم آئے گا۔

بال ٹوٹنے سے کب کفارہ لازم آتا ہے ؟

سُوال : بال ٹوٹنے سے کب کفارہ لازم آتا ہے ؟

جواب : اگر دو تین بال ٹوٹے تو ہر بال کے بدلے  ایک مٹھی اَناج یا ایک ٹکڑا روٹی یا ایک چھوہارا دینا ہو گا۔ ([1]) اگر اس سے زیادہ بال گرے تو صَدَقۂ فِطر کی مِقدار دینا لازم ہوگی نیز اگر کوئی  دو یا تین بال ٹوٹنے پر بھی صَدَقہ دینا چاہے تو دے سکتا ہے ۔ ہاں !  اگر خود بخود بال جھڑ جائیں یا بیماری کی وجہ سے سارے بال ہی گر پڑیں تو کوئی کفارہ نہیں ۔ ([2])

اِحرام باندھنے سے پہلے سر مُنڈوانا کیسا؟

سُوال : حج یا عمرے  کا اِحرام باندھنے سے پہلے سر کے بال چھوٹے کروا لینا یا اُسْتَرہ پھروا لینا کیسا ؟

جواب : مَرد کا اِحرام باندھنے سے پہلے اپنے سرکے بال اُسترے یا مشین وغیرہ سے منڈانا جائز ہے ۔

دَم  اورصَدَقہ کہاں ادا کیا جائے ؟

سُوال : کیا دَم اور صَدَقے کا حُدُودِ حَرم ہی میں ادا کرنا ضَروری ہے ؟

جواب : جس پر دَم واجِب  ہو اس کے لیے ضَروری ہے کہ وہ اس جانور کو حُدُودِ حَرم ہی میں ذَبح کر کے صَدَقہ کر دے ، زندہ جانور صَدَقہ نہیں کر سکتا۔ ہاں !  صَدَقہ اپنے وطن میں بھی  ادا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے مگر حُدُودِ حَرم میں ادا کرنا افضل ہے ۔  

کفارہ کس مُلک کی کرنسی سے ادا کیا جائے ؟

سُوال : کفارے کی اَدائیگی کے وقت کس مُلک کی کرنسی کا اِعتبار ہو گا؟

جواب : کفارہ جس مُلک میں ادا کر رہا ہے اسی مُلک کی کرنسی کا اِعتبار ہوگا نہ کہ اس جگہ کا جہاں وہ لازم آیا ہے ۔کفارہ جس مُلک میں بھی ادا کیا جائے وہاں صَدَقۂ فِطر کی مِقدار یعنی دو کلو میں80 گِرام کم گیہوں یا کشمش یا جس سے  وہ ادا کرنا چاہے اس کی رَقم معلوم کر کے ادا کر دے ۔ جیساکہ وطنِ عزیز پاکستان میں دوکلو میں 80  گِرام  کم گیہوں آج کل تقریباً 100 روپے میں بآسانی دَستیاب ہیں اس لیے آج کل ایک صَدَقے کی رَقم میں 100 روپے بھی دیئے جا سکتے ہیں اور دِیگر میوہ جات کی رَقم اس سے  کچھ زائد بنے گی۔اگر کوئی پاکستانی حالتِ اِحرام میں لازم آنے والا کفارہ گیہوں کے حِساب سے ادا کرے تو بآسانی ادا کر سکتا ہے بلکہ کئی اِحتیاطی کفارے بھی دے سکتا ہے ۔

نماز میں داڑھی سے کھیلنا کیسا ؟

سُوال : نماز میں داڑھی سے کھیلنا کیسا ؟

جواب : نماز میں داڑھی سے کھیلنا مکروہِ تحریمی ناجائز و گناہ ہے ۔ ([3]) بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے وہ نماز کے عِلاوہ بھی اپنی داڑھی سے کھیلتے ہیں اور بعض اوقات داڑھی کے بال بھی منہ میں لیتے رہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے جہاں داڑھی کے بال کمزور ہوتے ہیں وہاں داڑھی پر لگنے والے گرد و غبار اور مختلف جراثیم پیٹ میں پہنچ کر طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بھی  بن سکتے ہیں ۔ یوں ہی بعض لوگوں کو خواہ مخواہ ناخن چبانے کی عادت ہوتی ہے  انہیں لاکھ منع کیا جائے مگر باز نہیں آتے حالانکہ ناخن چبانے سے بَرص یعنی  جسم پر سفید دھبے پڑ جانے کا اندیشہ ہے لہٰذا اس طرح کی فضول عادات سے جان چھڑا لینی چاہیے ۔

کیا حالتِ اِحرام میں ناخن کاٹ سکتے ہیں؟

سُوال : کیا حالت ِاِحرام میں ناخن کاٹ سکتے ہیں؟

جواب : حالت ِاِحرام میں ناخن وغیرہ کوئی چیز جسم سے جُدا کرنے کی اِجازت نہیں۔ ([4])

مَقروض پر قرض کے تقاضے میں نَرمی کیجیے

سُوال : قرض خواہ کے تقاضوں یا کسی کے تنگ کرنے کی وجہ سے خود کشی کرنا جائز ہے ؟

جواب : جی نہیں ! خود کشی کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے ، البتہ اگر کوئی اسے گولی مار دے تو یہ خود کشی نہیں بلکہ اس کا قتل ہے ۔بعض اوقات قرض خواہ یا منچلے لوگ کسی کی کوئی کمزوری پکڑ کر اسے اتنا تنگ کرتے ہیں کہ وہ جذبات میں آ کر  خود کشی کر لیتا ہے ۔ یاد رَکھیے !  کسی کے لیے  بھی اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو داغدار کرنے کی دھمکی دینا یا کسی



[1]    فتاویٰ رضویہ ، ۱۰ / ۷۶۰ ماخوذاً

[2]    لباب الناسک ، باب الجنایات ، فصل فی سقوط الشعر ، ص۳۲۷

[3]    فتاویٰ ھندية ، کتاب الصلوة ، الباب السابع فیما یفسد الصلوةالخ ، الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلوة  وما لا یکرہ ، ۱ / ۱۰۵ 

[4]    فتاویٰ رضویہ ، ۱۰ / ۷۳۳ ماخوذاً



Total Pages: 9

Go To