Book Name:Malfuzat Ameer e Ahlesunnat Qisst 8

حَلق کروانا کب واجِب ہے ؟

سُوال : اگر کسى کے سر کے بال اىک پَورے سے چھوٹے ہوں تو اب اس پر حَلق کروانا ہى واجِب ہوگا ىا تَقْصِیْر بھی کرسکتا ہے ؟

جواب : اگر کسى مَرد کے سر کے بال اىک پَورے سے کم ہوں تو اسے حَلق کروانا ہى واجِب ہے تَقْصِیْر نہیں کروا سکتا ، کیونکہ تَقْصِیْر میں ایک پَورے کے برابر بال کاٹنے ہوتے ہیں جبکہ اس کے بال ایک پَورے سے پہلے ہی کم ہیں لہٰذا تَقْصِیْر  کا مَحل نہ رہا۔یوں ہی اگر کسی کے سر پر بالکل ہی بال نہیں یعنی وہ  گنجا ہے تو اسے بھی اُسترا پِھروانا لازم ہے ۔ ([1])

حَلق کروانے میں اِحتیاط

سُوال : حَلق کروانے میں کیا اِحتیاط کرنی چاہیے ؟

جواب : حَلق کرواتے وقت بالوں کو نَرم کرنے کے لیے خوشبودار یا  سادہ صابن وغیرہ نہ لگایا جائے بلکہ سادہ پانی اِستعمال کیا جائے کیونکہ صابن سے مَیل اُترتا ہے جبکہ حَلق کروانے والا ابھی اِحرام میں ہے اور  ” اِحرام کے دَوران خوشبو لگانے یا مَیل چُھڑانے کی اِجازت نہیں۔ جسم کو کھجانے میں بھی یہ اِحتیاط کرنی ہو گی کہ نہ بال ٹوٹیں اور نہ ہی مَیل چُھوٹے ۔ “ ([2])

بارگاہِ رِسالت میں  سَلام پہنچانے کا طریقہ

سُوال : حج یا عمرے پر جانے والوں کو لوگ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یا  دِیگر مُقَدَّس ہستیوں کی بارگاہ میں سَلام پیش کرنے کا کہتے ہیں تو یہ اِرشاد فرمائیے کہ سَلام پہنچانے کا طریقہ کیا ہے ؟ 

جواب : جب حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے کسی  مسافر کو کہا جاتا ہے کہ بارگاہِ رِسالت مىں مىرا سَلام عرض کرنا تو عموماً وہ خود ہى بول پڑتا ہے :  ” وَعَلَیْکُمُ  السَّلَام “یوں ہی اگر کہا جائے کہ اپنے اَبو ىا فُلاں کو سلام کہنا تو وہ خود ہی فوراً  ” وَعَلَیْکُمُ السَّلَام “ کہہ دیتا ہے حالانکہ یہ طریقہ دُرُست نہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ جس کے لیے سَلام بھیجا گیا اُسے پہنچایا جائے مثلاً اگر میں کسی زائرِ مدینہ کو سَلام پیش کرنے کی دَرخواست کروں تو وہ یوں پہنچائے :  ” یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !  اِلىاس نے آپ کو سَلام عرض کىا ہے ۔ “

 یاد رہے کہ اگر کسی نے آپ سے بارگاہِ رسالت یا کسی اور بزرگ ہستی یا کسی بھی شخص کو سَلام پہنچانے کا کہا اور آپ نے حامی بھر لی کہ ٹھیک ہے میں پہنچا دوں گا تو اب سَلام پہنچانا واجِب ہوجائے گا۔ ([3]) بعض لوگ  ایسے موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ اگر یاد رہا تو سَلام پہنچا دوں گاتو ایسا کہنے کی حاجت نہیں بلکہ ممکن ہے کہ سَلام کہنے والے کو بُرا بھی لگے کہ اس بَرکت والی جگہ اور وقت کیا میں اسے  یاد نہیں رہوں گا؟ لہٰذا یُوں نہ کہا جائے کہ یادر ہا تو پہنچاؤں گا۔ اس لیے کہ آپ پر سَلام پہنچانا واجِب ہی اس صورت میں ہے جب آپ کو یاد بھی رہے ۔ اگر یاد ہی نہ رہا اور حامی بھرتے وقت آپ کی نیت  پہنچانے کی تھی تو اب کوئی گناہ نہیں۔اَلبتہ اگر حامی بھرتے وقت نیت یہ تھی کہ نہیں پہنچاؤں گا  اور اسے ٹالنے کے لیے ہاں کہہ دیا  تھا تو اب پہنچا بھی دے جب بھی جھوٹا وعدہ کرنے کا گناہ ہوگا۔ بہرحال عافیت اسی میں ہے کہ بندہ حامی نہ بھرے اور اگر حامی بھرلی تو اب اپنے پاس سَلام دینے والوں کے نام لکھ لے تاکہ اسے یاد رہے ۔ مجھے جب دیوانے سَلام پہنچانے کا کہتے ہیں تو میں خاموشی سے سُن لیتا ہوں ، جواب میں حتَّی الامکان حامی نہیں بھرتا اس لیے کہ اتنوں کے نام بھلا کیسے یاد رکھوں گا۔

اگر کسی نے زائرِ مدینہ کو سَلام پہنچانے کا  کہا ہی  نہیں اور یہ اَزخود اس کی طرف سے بارگاہِ رِسالت میں سَلام پہنچائے  مثلاً پیر صاحب  کی طرف سے سَلام پہنچایا حالانکہ پیر صاحِب نے اسے کہا ہی نہیں تو ایسا کرنا دُرُست نہیں ۔میں نے اپنی کتاب  ” رَفیقُ الحرمین “ میں ہر زائرِ مدینہ سے بارگاہِ رسالت میں اپنا سلام پیش کرنے کی دَرخواست کی ہوئی ہے ، اگر کوئی اسے پڑھ کر میری طرف سے ایک بار یا بار بار بھی سلام پیش کر دیتا ہے تو اس میں حَرج نہیں بلکہ وہ اَجر وثواب کا مستحق ہوگا۔  اگر کوئی سَلام پیش نہیں کرتا جب بھی مُضایقہ نہیں کیونکہ فقط دَرخواست کرنے پر سَلام پہنچانا واجِب نہیں ہوتا ۔  

حجاجِ کِرام سے سَلام و دُعا  پہنچانے سے متعلق پوچھنا

سُوال : سَلام یا دُعا کے لیے کہنے والے واپسی پر زائرِ مدینہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہمارا  سَلام پہنچایا تھا؟کعبہ پر پہلی نظر جب پڑی تو ہمارا نام لے کر دُعا کی تھی یا نہیں؟ تو ان کا اس طرح پوچھنا کیسا؟

جواب : سَلام یا دُعا کی دَرخواست کرنے میں تو حَرج نہیں لیکن واپسی پر پوچھنا کہ کیا ہمارے لیے دُعا کی تھی؟ہمارا سَلام پہنچایا تھا؟ تو اس سے بچنا چاہیے ۔ممکن ہے اس نے دُعا تو مانگی ہو اورسَلام بھی پہنچایا ہو لیکن اب اسے یاد نہ آرہا ہو نیز یہ بھی ممکن ہے کہ واقعی وہ وہاں بھول گیا ہوں۔اب اگر وہ سچ بولتا ہے کہ مجھے یاد نہیں رہا تو اسے اس قسم کے کڑوے جملے سُننے پڑ سکتے ہیں کہ ہاں بھائی !  ہم غریب بھلا کیسے یاد رہ سکتے ہیں ! !  ! ہمیں کون پوچھتا ہے ! ! !  وغیرہ وغیرہ۔تو ایسے جملوں سے بچنے کے لیے اکثر لوگ مُرَوَّت میں جھوٹ بول



   1فتاوی ھندية ، کتاب المناسک ، الباب الخامس فی کیفية اداء الحج ، ۱ / ۲۳۱  ماخوذاً دار الفکر بیروت

   2فتاوٰی رضویہ ، ۱۰ / ۷۳۳ ماخوذاً رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور

   3ردالمحتار ، کتاب الحظر والإباحة ، فصل فی البیع ، ۹ / ۶۸۵ ماخوذاً  دار المعرفة بیروت



Total Pages: 9

Go To