Book Name:Hafta war ijtima

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

ہفتہ وار اجتماع

شیطان لاکھ سُستی دلائے یہ رِسالہ اوّل تا آخر پڑھ لیجئے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مفید دِینی و تنظیمی معلومات کا خزانہ ہاتھ آئے گا ۔

بلند آواز سے دُرود و سلام پڑھنے کی فضیلت

ایک شخص کو اِنْتِقَال کے بعد اُس کے پڑوسی نے جنّت میں دیکھا تو پوچھا : یہ مَقام کیسے حاصِل ہوا؟ اُس نے بتایا : میں ایک اِجْتِمَاع میں شریک ہوا ، جہاں ایک مُحَدِّثْ صاحِب نے دورانِ بیان اِرشَاد فرمایا :  جو شخص رسولِ پاک ، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بُلند آواز سے دُرُود شریف پڑھے ، اُس پر جنّت واجِب ہو جاتی ہے ۔  یہ سُنّتے ہی میں نے فوراً بُلَند آواز سے دُرُودِ پاک پڑھا ، مجھے دیکھ کر شرکائے اِجْتِمَاع بھی زور زور سے دُرُودِ پاک پڑھنے لگے ۔  اس عَمَل یعنی بُلَند آواز سے دُرُودِ پاک پڑھنے کے سَبَب اللہ پاک نے میری اور سارے شرکائے اِجْتِمَاع کی مَغْفِرَت فرما دی ۔ [1]

نبی کی شان میں ہو جس قدر درود پڑھو                                                                                  مُحِبّو پاؤ گے جَنَّت میں گھر درود پڑھو

خُدا تو بھیجے ہے صَلُّو وَ سَلِّمُو کا خطاب                                                                                    تم ایسے بیٹھے ہو کیوں بے خبر درود پڑھو [2]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب !     صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سیّاح فرشتے

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا :  بے شک اللہ پاک کے کچھ سیاحت کرنے والے فِرشتے ہیں ، جو ذِکر کی مجالس کو ڈُھونڈتے پِھرتے ہیں ۔  جب وہ کوئی ایسی مَـجْلِس دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنے مَقْصَد کی طرف آؤ ۔ پھر وہ سب مل کر ان ذاکِرین (ذِکْر کرنے والوں) کو آسمانِ دُنیا تک اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں اور جب لوگ بکھر جاتے ہیں تو وہ فرشے آسمان پر چلے جاتے ہیں ۔ [3]

اللہ پاک علیم و خبیر ہونے کے باوُجُود فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ میرے وہ بندے کیا کہتے تھے ؟ فرشتے عَرْض کرتے ہیں :  تیری تسبیح و تکبیر اور حَمد و بُزرگی بیان کررہے تھے ۔  ربّ تعالیٰ فرماتا ہے :  کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ عَرْض کرتے ہیں :  تیری قسم !  اُنہوں نے تجھے کبھی نہیں دیکھا ۔  پھر ربّ تعالیٰ فرماتا ہے :  اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیا ہو؟ عَرْض کرتے ہیں :  اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو اور زیادہ عِبَادَت کریں ، بڑائی بولیں اور کَثْرَت سے تسبیح بیان کریں ۔  پھر اِرشَاد ہوتا ہے :  وہ مانگتے کیا تھے ؟ عَرْض کرتے ہیں : جنّت ۔  ربّ تعالیٰ فرماتا ہے :  کیا انہوں نے جنّت دیکھی ہے ؟ عَرْض کرتے ہیں :  یا ربّ !  تیری قسم !  نہیں دیکھی ۔  فرماتا ہے : اگر وہ جنّت دیکھ لیں تو کیا ہو؟ عَرْض کرتے ہیں : اگر وہ جنّت دیکھ لیں تو اس کے اور زیادہ حریص ، طلبگار اور مزید رَغْبَت کرنے والے بن جائیں ۔  پھر اللہ پاک فرماتا ہے :  وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے ؟ فرشتے عَرْض کرتے ہیں :  وہ (جہنّم کی) آگ سے پناہ مانگ رہے تھے ۔  ربّ تعالیٰ فرماتا ہے :  تو کیا انہوں نے (جہنّم کی) آگ دیکھی ہے ؟ عَرْض کرتے ہیں : یا الٰہی !  تیری قسم !  نہیں دیکھی ۔  پھر فرماتا ہے :  اگر وہ دیکھ لیں تو کیا ہو؟ عَرْض کرتے ہیں :  اگر وہ دیکھ لیں تو اور زیادہ دُور بھاگیں ، بہت زیادہ خوف کریں ۔  پھر اللہ پاک فرماتا ہے :  میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا ۔  ان فرشتوں میں سے ایک عَرْض کرتا ہے کہ ان میں فُلاں بندہ تو ذِکر کرنے والوں میں سے نہ تھا ، وہ تو کسی کام کے لئے آیا تھا ۔  ربّ تعالیٰ فرماتا ہے ، ذِکْر کرنے والے ایسے ہم نشین ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی مَحْرُوم نہیں رہتا ہے ۔ [4]

گناہ گار ہوں میں لائِقِ جہنَّم ہوں                                                                                  کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یارب[5]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب !     صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اجتماعات کی اہمیت

 



[1]      نزھة المجالس ، باب فضل الصلاة والتسلیم...الخ ، ص ۳۴۹ مفھومًا

[2]      نورِ ایمان ، ص ۵۶

[3]      مسلم ، کتاب الذکر...الخ ، باب فضل مجالس الذکر ، ص ۱۰۳۷ ، حدیث:۲۶۸۹

[4]      بخاری ، کتاب الدعوات ، باب فضل ذکر الله ، ص۱۵۷۸ ، حدیث:۶۴۰۸

[5]     وسائلِ بخشش (مرمّم) ، ص  ۷۸



Total Pages: 29

Go To