Book Name:Islami Bheno Kay 8 Madani Kam

انفرادی کوشش کی اہمیت

فرمانِ امیر اہلِ سُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ :  دعوتِ اسلامی کا99%مَدَنی کام انفرادی کوشش کے ذَرِیعے  ہی مُمکِن ہے ۔ [1]

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!واقعی انفرادی کوشش اجتماعی کوشش سے کہیں زِیادَہ  مُؤَثِّر ثابِت ہوتی ہے ۔ کیونکہ بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ اسلامی بہن جو برسہا برس سے اجتماع میں شریک ہونے کی سَعَادَت  حاصِل کر رہی تھی ۔ اِس نے دورانِ بیان دی جانے والی مُـخْتَلِف ترغیبات مَثَلًا پانچ۵ وَقت نَماز پڑھنے رمضان کے روزے   رکھنے اور مَدَنی اِنْعَامَات پر عَمَل کرنے وغیرہ پر لَـبَّیْك کہتے ہوئے نِیَّت بھی کی مگر اس کے باوُجُود عملی قدم اُٹھانے میں ناکام رہی ۔ لیکن جب کسی نے ان سے ملاقات کر کے انفرادی کوشش کرتے ہوئے بتدریج مذکورہ بالا اُمور کی ترغیب دی تو وہ ان پر عَمَل  کرنے والی بنتی چلی گئی ۔ گویا اجتماعی کوشش کے ذَرِیعے لو ہا گرم ہوا اور انفرادی کوشش کے ذَرِیعے اس گرم لو ہے پر چوٹ لگائی گئی ۔ اِسی طرح اجتماعی کوشش کے مقابلے میں ایک یا دو۲ اسلامی بہنوں پر انفرادی کوشش کرنا بے حد آسان ہے کیونکہ کثیر اسلامی بہنوں کے سامنے بیان کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں جبکہ انفرادی کوشش ہر ایک کرسکتی ہے ۔  خواہ اسے بیان کرنا آتا ہو یا نہ آتا ہو ، اس انفرادی کوشش کے نتیجے میں تنظیمی فوائد کے عِلاوہ  ہمیں درج ذیل فوائد بھی حاصل ہونگے ۔  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

(1) حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت ہے کہ رحمتِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  نیکی کی طرف رَہْنُمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی طرح ہے ۔ [2]

مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فر ماتے ہیں :  یعنی نیکی کرنے والا ، کرانے والا ، بتانے والا(اور)مَشْوَرَہ  دینے و الا سب ثواب کے مُسْتَحِق )یعنی حقدار) ہیں ۔ [3]

(2) حُجَّةُ الْاِسلامحضرت سَیِّدُنا امام غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنَقْل فر ماتے ہیں :  حضرت سَیِّدُنا  موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عَرْض   کی :  یااللہ!جو اپنے بھائی کو بلائے ، اسے نیکی کا حکم دے اور بُرائی سے منع کرے تو اس کی جزاکیا ہے ؟اِرشَاد  فرمایا :  میں اسکی ہر بات پر ایک سال کی عِبَادَت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنّم  کی سزا دینے میں مجھے حیا آتی ہے ۔ [4]

(2)گھر درس

) ہدف فی ذیلی حلقہ :  کم ازکم ایک اسلامی بہن ہدف فی ذیلی حلقہ :  12 گھر درس (

شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْرِ اَھْلِسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالِیَہ کی چند کُتب و رَسَائِل کے عِلاوہ باقی تمام کُتب و رسائل بِالْخُصُوص فیضانِ سُنّت سے  گھر میں درس دینے کو تنظیمی اِصطلاح میں گھر درس کہتے ہیں ۔ گھر درس بھی فروغِ علمِ دِین کی ہی ایک کڑی ہے ،  جس کے لیے ہر اسلامی بہن کو روزانہ کم از کم ایک گھر درس کی ترکیب بنانے کی ترغیب دلائی جا ئے ۔

شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْرِ اَھْلِسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالِیَہ کی کتب و رسائل سے مدنی درس دیا جائے ۔ البتہ! بعض کتب و رسائل سے درس دینے کی اجازت نہیں ، ان میں سے چند ایک یہ ہیں :  (1)کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب(2) 28 کلماتِ کفر (3)گانوں کے 35 کفریہ اشعار(4)پردے کے بارے میں سوال جواب(5) چندے کے بارے میں سوال جواب(6)عقیقے کے بارے میں سوال جواب(7)استنجا کرنے کا طریقہ(8)نَماز کے احکام (9)اسلامی بہنوں کی نماز (10)ذکر والی نعت خوانی (11)نعت خواں اور نذرانہ (12)قومِ لُوط کی  تباہ کاریاں(13)کپڑے پاک کرنے کا طریقہ مع



[1]   انفرادی کوشش مع 25 حکایاتِ عطاریہ ، ص٢٢

[2]   ترمذی ،  ابواب العلم ، باب ماجاء الدال علی الخیرکفاعله ، ص۶۲۸ ، حديث۲۶۷۰

[3]    مِراٰۃالمَناجِیح ،  علم کی کتاب ، پہلی فصل ، ۱ / ۱۹۴

[4]   مکاشفةالقلوب ، ۱۵-باب فی الامر با لمعروف والنهی عن المنکر ، ص۶۵



Total Pages: 19

Go To